شہادت عظمیٰ……شیرِ خدا ؓکی کامیابی

شہادت عظمیٰ……شیرِ خدا ؓکی کامیابی

  

جنگ صفین نے مسلمانوں میں ایک نیا فرقہ خوارج کا پیدا کردیا۔ یہ اگرچہ تمام تر سیاسی اغراض و مقاصد رکھتا تھا، لیکن مسلمانوں کے دوسرے سیاسی فرقوں کی طرح اس کے عقائد بھی دینی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اس نے اپنا سیاسی مذہب یہ قرار دیا تھا ان الحکم الا اللہ یعنی حکومت کسی آدمی کی نہیں ہونی چاہئے۔دراصل تاریخ اسلام کے خوارج موجودہ تمدن کے انارکسٹ تھے۔ لہٰذا وہ کوفہ اور دمشق دونوں حکومتوں کے مخالف تھے۔

مکہ میں بیٹھ کر خارجیوں نے سازش کی۔ تین آدمیوں نے بیڑا اٹھایا کہ پوری تاریخ اسلام بدل دیں گے اور انہوں نے بدل دی۔ عمرو بن بکر تمیمی نے کہا۔”میں حاکم مصرعمرو بن العاص کو قتل کردوں گا، کیونکہ وہ ”فتنہ“ کی متحرک روح ہے۔“ برک بن عبد اللہ تمیمی نے کہا:”میں معاویہ بن ابوسفیان کو قتل کردوں گا، کیونکہ اس نے مصر میں قیصریت قائم کی ہے۔“ ایک لمحہ کے لئے خاموشی چھاگئی۔ علی ابن ابی طالبؓ کے نام سے دل تھراتے تھے۔ بالآخر عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے مہر سکوت توڑی۔ ”میں علیؓ کو قتل کردوں گا۔“ ان ہولناک مہموں کیلئے 17 رمضان کی تاریخ مقرر کی گئی۔ دو پہلے شخص اپنی مہم میں ناکام رہے لیکن عبدالرحمن بن ملجم کامیاب ہوگیا۔

مکہ سے چل کر عبدالرحمن کوفہ پہنچا۔ یہاں بھی خوارج کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ عبدالرحمن ان کے ہاں آتا جاتا تھا۔ ایک دن قبیلہ تیم الرباب کے بعض خارجیوں سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ انہی میں ایک خوبصورت قطام بنت شجنہ بھی تھی۔ ابن ملجم اس پر عاشق ہوگیا۔ سنگ دل نازنین نے کہا۔”میرے وصل کی شرط یہ ہے کہ جو مہر میں طلب کروں وہ ادا کرو۔“ ابن ملجم راضی ہوگیا۔ قطام نے اپنا مہر یہ بتلایا:”تین ہزار درہم، ایک غلام، ایک کنیز اور حضرت علیؓ کا قتل۔“

عبدالرحمن بن ملجم دو مرتبہ بیعت کیلئے آیا مگر آپؓ نے لوٹا دیا۔ تیسری مرتبہ آیا تو فرمایا۔”سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو کون چیز روک رہی ہے۔ واللہ یہ چیز (اپنی ڈاڑھی کی طرف اشارہ کرکے) ضرور رنگی جانے والی ہے۔“ کبھی کبھی اپنے ساتھوں سے خفا ہوتے تو فرماتے۔”تمہارے سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو میرے قتل کرنے سے کون چیز روک رہی ہے؟ خدایا میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ مجھے ان سے راحت دے اور انہیں مجھ سے راحت دے“۔

ایک دن خطبہ میں فرمایا:”قسم اس پروردگار کی جس نے بیج اگایا اور جان پیدا کی۔ یہ ضرور اس سے رنگ جانے والی ہے۔ (اپنی ڈاڑھی اور سر کی طرف اشارہ کیا) بدبخت کیوں انتظار کررہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا۔”امیر المومنین! ہمیں اس کا نام بتایئے ہم ابھی اس کا فیصلہ کر ڈالیں گے۔“ فرمایا”تم ایسے آدمی کو قتل کرو گے جس نے ابھی مجھے قتل نہیں کیا ہے۔“ عرض کی گئی۔”تو ہم پر کسی کو خلیفہ بنادیجئے۔“ فرمایا”نہیں میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ جاؤں گا جس حال میں تمہیں رسول اللہﷺ چھوڑ گئے تھے۔“ لوگوں نے عرض کیا۔ ”اس صورتحال میں آپ خدا کو کیا جواب دیں گے؟“ فرمایا۔”کہوں گا، خدایا میں ان میں تجھے چھوڑ آیا ہوں، تو چاہے تو ان کی اصلاح کردے اور چاہے تو انہیں بگاڑدے۔“

آپؓ کی کنیزام جعفر کی روایت ہے کہ واقعہ قتل سے چند دن پہلے میں آپ کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ آپ نے سر اٹھایا پھر ڈاڑھی ہاتھ میں لی اور فرمایا”حیف تجھ پر تو خون میں رنگ جائے گی۔“ آپ کے بعض اصحاب کو بھی اس سازش کا پتہ چل گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ کس قبیلہ میں سازش ہورہی ہے، چنانچہ ایک دن آپؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر عرض کی۔“ ہوشیار رہئے کیونکہ قبیلہ مراد کے کچھ لوگ آپؓ کے قتل کی فکر میں ہیں۔“ یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ کون شخص ارادہ کررہا ہے؟ اشعث نے ایک دن ابن ملجم کو تلوار لگاتے دیکھا اور اس سے کہا کہ”مجھے اپنی تلوار دکھاؤ۔“ اس نے تلوار دکھائی تو وہ بالکل نئی تھی۔ انہوں نے کہا۔ تلوار لگانے کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ زمانہ جنگ نہیں ہے۔ عبدالرحمن نے کہا۔”میں گاؤں کے اونٹ ذبح کرنا چاہتا ہوں۔“ اشعث سمجھ گئے اور اپنے خچر پر سوار ہوکر حضرت علیؓ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا۔”آپ ابن ملجم کی جرأت و شجاعت سے واقف ہیں؟“ آپ نے جواب دیا:”لیکن اس نے مجھے ابھی تک قتل نہیں کیا ہے۔“

اقدام قتل جمعہ کے دن نماز فجر کے وقت ہوا۔ رات بھر ابن ملجم اشعث بن قیس کندی کی مسجد میں اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ اس نے کوفہ میں شبیب بن بجرہ نامی ایک اور خارجی کو اپنے ساتھ شریک کار بنالیا تھا۔ دونوں تلوار لے کر چلے اس رات امیر المومنین ؓ کو نیند نہیں آئی۔ حضرت حسنؓ سے مروی ہے کہ سحر کے وقت میں حاضر ہوا تو فرمایا۔”فرزند رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ ذرا دیر ہوئی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی تھی۔ خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا میں نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ آپﷺ کی امت سے میں نے بڑی تکلیف پائی۔ فرمایا دعا کر کہ خدا تجھے ان سے چھٹکارا دے دے۔ اس پر میں نے دعا کی۔ خدایا مجھے ان سے بہتر رفیق عطا فرما اور انہیں مجھ سے بدتر ساتھی دے“۔

حضرت امام حسن فرماتے ہیں۔ اسی وقت ابن البناح مؤذن بھی حاضر ہوا۔ میں نے آپ کا ہاتھ تھام لیا۔ آپؓ اٹھے۔ ابن البناح آگے اور میں پیچھے تھا۔ دروازے سے باہر نکل کر آپ نے پکارا:”لوگو نماز۔“ روزانہ آپ کا یہی دستور تھا کہ لوگوں کو نماز کیلئے مسجد میں آنے کیلئے جگاتے تھے۔

آپ جونہی آگے بڑھے۔ دو تلواریں چمکتی نظر آئیں اورایک آواز بلند ہوئی۔ ”حکومت خدا کی ہے نہ کہ علی تیری!“ شبیب کی تلوار تو طاق پر پڑی لیکن ابن ملجم کی تلوار آپ کی پیشانی پر لگی اور دماغ میں اتر گئی۔ زخم کھاتے ہی آپ پکارے”فزت برب الکعبہ“ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا)۔نیز پکارے”قاتل جانے نہ پائے۔“ لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے۔ شبیب تو نکل بھاگا، عبدالرحمن نے تلوار گھمانا شروع کردی اور مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ قریب تھا کہ ہاتھ سے نکل جائے لیکن مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب جو اپنے وقت کے پہلوان تھے، دوڑے اور بھاری کپڑا اس پر ڈال دیا اور زمین پر دے مارا۔امیر المومنین گھر پہنچائے گئے۔ آپ نے قاتل کو طلب کیا۔ جب وہ سامنے آیا تو فرمایا:”او دشمن خدا کیا میں نے تم پر احسان نہیں کئے تھے؟ اس نے کہا”: ہاں“ فرمایا”پھر تو نے یہ حرکت کیوں کی؟“ کہنے لگا”میں نے اسے (تلوار کو) چالیس دن تیز کیا تھا اور خدا سے دعا کی تھی کہ اس سے اپنی بدترین مخلوق قتل کرائے۔“ فرمایا،”میں سمجھتا ہوں تو اسی سے قتل کیا جائے گا اور خیال کرتاہوں کہ تو ہی خدا کی بدترین مخلوق ہے“۔

امیر المومنین نے حضرت حسنؓ سے فرمایا:”یہ قیدی ہے، اس کی خاطر تواضع کرو۔ اچھا کھانا دو اور نرم بچھونا دو۔ اگر زندہ رہوں گا تو اپنے خون کا سب سے زیادہ دعویدار میں ہوں گا۔ قصاص لوں گا یا معاف کردوں گا۔ اگر میں زندہ نہ رہا تو اسے بھی میرے پیچھے روانہ کردینا۔ رب العالمین کے حضور اس سے جواب طلب کروں گا۔“

ایک روایت میں ہے کہ فرمایا:”اگر تم قصاص لینے ہی پر اصرار کرو تو چاہئے کہ اسے اسی طرح ایک ضرب سے مارو۔ جس طرح اس نے مجھے مارا، لیکن معاف کرو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، دیکھو زیادتی نہ کرنا، کیونکہ خدا تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -