مقبوضہ کشمیر، نوجوان کی شہادت پراحتجاجی مظاہرے، بھارتی فورسز کی فائرنگ، متعدد زخمی، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل عالمی برادری کی ذمہ داری: پاکستان

مقبوضہ کشمیر، نوجوان کی شہادت پراحتجاجی مظاہرے، بھارتی فورسز کی فائرنگ، ...

  

اسلام آباد،سرینگر(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں معصوم نوجوان کی شہادت کے بعد بھارت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، بڈگام میں احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر بھارتی فورسز نے پیلٹ گن کے کارتوس چلائے، متعدد زخمی ہو گئے۔نوجوان کی شہادت پر مقبوضہ وادی میں بھارت کے خلاف بڑے مظاہرے، ضلع بڈگام میں بڑی تعداد میں لوگ مظاہروں میں شریک ہوئے، مظاہرین نے گو انڈیا گو بیک، ہم کیا چاہتے آزادی کے نعرے لگاتے رہے، قابض فورسز نے پر امن مظاہرین پر گولیاں چلا دیں جس سے کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔گزشتہ روز بھاتی فوج نے ایک نوجوان معراج الدین شاہ کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع کلگام اور اننت ناگ اسلام آباد میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔دوسری طرف پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کشمیریوں کی جد وجود آزادی کو دبا نہیں سکتا،مسئلہ کشمیر کا یو این قرار دادوں کے تحت حل عالمی برادری کی مشترکہ زمہ داری ہے،مخلوط اسرائیلی حکومت کے فلسطینی علاقوں کو زم کرنے کی مذمت کرتے ہیں،پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے،اسرائیل کی طرف سے زم کرنے کا اقدام عالمی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔جمعرات کو ترجما ن فتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ماہ مقدس رمضان میں بھی بھارتی قابض فوج کے مظالم جاری ہیں،مقبوضہ کشمیر صحافیوں کو دبایا جارہا ہے،مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال پانچ اگست سے اب تک بھارت کے مظالم جاری ہیں،اس وقت جب دنیا کرونا وائرس سے نبرد آزما ہے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں،مقبوضہ کشمیر کی 90 لاکھ آبادی پر بھارتی مظالم جاری ہیں،احتجاج کرنے والے ہزاروں کشمیریوں پر پیلٹ گن اور لائیو اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کی جد وجود آزادی کو دبا نہیں سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کا یو این قرار دادوں کے تحت حل عالمی برادری کی مشترکہ زمہ داری ہے۔ ترجما ن نے کہاکہ ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق بھارت میں نفرت آمیز تقاریر میں اضافہ ہوا ہے،بھارتی میڈیا نے بھی ہیش ٹیگ کرونا جہاد کے الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہاکہ مخلوط اسرائیلی حکومت کے فلسطینی علاقوں کو زم کرنے کی مذمت کرتے ہیں،اسرائیل کی طرف سے زم کرنے کا اقدام عالمی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔ ترجمان نے کہاکہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارہ فلسطینی علاقے ہیں،پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان 1967 کے سرحدی نقشے پر مشتمل آزاد فلسطین کا حامی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں کشمیر اور فلسطین یو این ایجنڈے پر سب سے پرانے ایشوز ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہیے۔

مقبوضہ کشمیر

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں‘ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے‘ غیر انسانی لاک ڈاؤن فوری ختم کیا جائے‘ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے‘ کالے قوانین کو ختم کیا جائے‘ 9 لاکھ بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے‘ اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے‘ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم کا موقف یکساں ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں‘ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مزید پیچیدہ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اس سے قبل بھی کبھی اچھی نہیں رہی اور اس میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ آج کل کے حالات پہلے سے زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مختلف تنازعات ہیں لیکن ان میں سب سے اہم تنازعہ کشمیر ہے۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں اور یہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بھی موجود ہے۔ بھارت ان قراردادوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بھارت نے پانچ اگست کے بعد کچھ اقدامات کئے ہیں جس کے باعث کشمیر میں خوف اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن سے کتنی مشکلات ہوتی ہیں لیکن کشمیریوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہ چند ماہ سے لاک ڈاؤن میں زندگی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی کوئی آزادی حاصل نہیں۔انہیں ان کے تمام انسانی بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔۔ پانچ اگست کے غیر قانونی اقدامات کے بعد ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ 13ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف سیاستدان بلکہ انسانی حقوق کے کارکن بھی گرفتار ہیں۔ بھارتی حکومت خوف کا شکار ہے‘ وہ آر ایس ایس اور ہندو توا کا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ثقافتی کلچر اور نشانیوں کو یکے بعد دیگرے مٹانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اردو زبان کو ہندی سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس سے غیر کشمیریوں کو ملکیتی مل جائیں گے۔ اسی طرح غیر قانونی طریقے سے 35A بھی نافذ کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ادویات اور اشیاء ضروریہ کی قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں کشمیری کورونا وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں اور صحت کے عملہ کو فرنٹ لائن پر موجود ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ سکول بند ہیں‘ طالب علموں کو کسی بھی طریقے سے تعلیم نہیں دی جارہی۔ انٹرنیٹ کی پابندی کے باعث اطلاعات کی رسائی سے محروم ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے اب تک بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کے باعث 6 شہری شہید ہوئے ہیں۔ وہ دنیا کی توجہ کشمیر اور بھارت کی اندرونی صورتحال سے ہٹانا چاہتے ہیں۔پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین سرحد کے دونوں جانب موجود ہیں۔ انہیں کنٹرول لائن کے دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے برطانوی وفد کو مقبوضہ کشمیر نہیں جانے دیا جبکہ ہم نے اسی وفد کو آزاد کشمیر کا دورہ کرایا۔ بھارت کے پاس بنانے کے لئے کچھ نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں۔ پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔ غیر انسانی لاک ڈاؤن فوری ختم کیا جائے۔ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے‘ کالے قوانین کو ختم کیا جائے‘ 9 لاکھ بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے‘ اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے۔بنیادی انسانی حقوق کے معاملے کو اٹھاتے رہیں گے۔ دوسری طرف وزیر خارجہ نے مستقل مندوبین کو مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کے خاتمے اور بھارت میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے زیر صدارت وزارت خارجہ میں ویڈیو لنک اجلاس ہوا جس میں کورونا وبائی چیلنج، مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کیلئے وزیراعظم کے ڈیٹ ریلیف اقدام سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکا میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید، نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب خلیل ہاشمی نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر وزیر خارجہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہمیں کورونا وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہے اور دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کے تعطل کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نکلنا ہے۔وزیر خارجہ نے مستقل مندوبین کو کورونا وبا کے پیش نظر مقبوضہ جموں وکشمیر سے بلا جواز کرفیو کے خاتمے اور بھارت میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کی ہدایت کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کووڈ ایکشن پلیٹ فارم کے تحت منعقدہ اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں وہ کورونا وبائی چیلنج، مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال اور کمزور معیشتوں کیلئے ڈیٹ ریلیف کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری کو پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کریں گے۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -