چین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

    چین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم چین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں،انہوں نے یہ تبصرہ ”فوکس بزنس“ کیسا تھ ایک انٹرویو میں کیا جو جمعرات کے روز نشر ہوا، کورونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے حوالے سے امریکہ کو چین سے بہت شکایات ہیں لیکن ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا چین اس وباؤ کو اس کے مبنع پر روک سکتا تھا، تاہم انہیں یہ علم نہیں چین نے جان بوجھ کر اس وباؤ کو پھیلنے دیا یا کورونا وائرس ان کے کنٹرول سے باہر ہو گیا، صدر ٹرمپ نے مزید کہا تاہم یہ بات وہ پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو چین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، لیکن ہر کسی کو بیرونی دنیا اور خاص طور پر امریکہ جانے کی کھلی چھٹی دیدی اسلئے یورپ میں اتنا بحران پیدا ہوا اب روس کو مشکل وقت کا سامنا ہے۔ دنیا میں سب جگہ سب لوگ مصیبت میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک میں کورونا وائرس کا آغاز ہو رہاہے لیکن امریکہ اس کے اختتام کی طرف آگے بڑھ رہاہے،صدر ٹرمپ نے چین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس نے وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری طبی سامان سنبھال کر چھپالیا تاکہ وہ چین کے سوا کسی اور کے کام نہ آسکے۔ تاہم یہ بہت معمولی بات ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اس وباء کو پھلنے سے روک سکتے تھے۔صدرٹرمپ نے واضع کیا کہ ان کے چینی ہم منصب ژی چن پنگ کیساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں،انہوں نے کہا کہ میں نے ان کیساتھ ایک بڑا تجارتی معاہدہ طے کیا لیکن چین ہمارے ساتھ ویسا سلوک نہیں کرتا جیسا ہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سنا ہے چین تجارتی معاہدے کے حوالے سے ان سے ازسر نو مزاکرات چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے۔ اگر ہم آج چین کیساتھ تجارتی تعلقات ختم کرلیں تو ہمیں فوری طور پر آدھا کھرب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ ہمیں چین کیساتھ تجارتی معاہدہ کرکے زبردست نقصان اٹھاناپڑرہا ہے۔

ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -