موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت میں 21فیصد کمی

        موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت میں 21فیصد کمی

  

اسلام آباد (اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران موٹر سائیکلز اور رکشوں کی فروخت میں 20.59 فیصد کمی ہوئی ہے۔ پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے اعدادو شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دس ماہ میں جولائی تا اپریل 2019-20ء کے دوران فروخت کا حجم 11 لاکھ 83 ہزار 535 یوٹنس تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 14 لاکھ 90ہزار 447 یونٹس فروخت کئے گئے تھے۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں 3 لاکھ 6 ہزار 912 یونٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 20.59 فیصد کم رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہنڈا موٹر سائیکلز کی فروخت 16.91 فیصد کی کمی سے 9 لاکھ 28 ہزار 931 یونٹس کے مقابلہ میں 7 لاکھ 71 ہزار 757 یونٹس تک کم ہو گئی جبکہ سوزوکی موٹر سائیکلز کی فروخت بھی 20.49 فیصد کی کمی سے 19 ہزار 669 یونٹس کی بجائے 15 ہزار 637 یونٹس تک کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح یاماہا موٹر سائیکلز کی فروخت بھی 9.28 فیصد تک کم ہو گئی اور فروخت کا حجم گزشتہ مالی سال کے 19 ہزار 999 یونٹس کے مقابلہ میں 18 ہزار 142 یونٹس تک کم ہو گئی۔ مزید برآں راوی موٹربائیکس اور یونائیٹڈ موٹر سائیکلز کی فروخت بھی 51.27 فیصد اور 21.41 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ پاما کے مطابق جاری مالی سال میں روڈ پرنس تھری وہیلرز کی فروخت 20.94 فیصد کی کمی سے 9913 یونٹس کے مقابلہ میں 7837 یونٹس تک کم ہو گئی ہے اور اسی طرح چنگ چی رکشوں کی فروخت میں بھی 43.98 فیصد اور ساز گار رکشوں کی فروخت 29.39 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔

مزید :

کامرس -