جاوید شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے سزا دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

  جاوید شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے سزا دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکن جاوید شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے پھانسی دی جائے،مرکزی مجرم کے ساتھ تفتیش کی جائے،اگر شہید کے اہل خانہ کو انصاف نہ فراہم کیا گیا تو شہر کے کسی بھی اہم مقام پر بڑا مظاہرہ کیا جائے گا،اس وقت شہر بھر میں گلہ سڑا نظام موجود ہے،شہر میں لاک ڈاؤن کے باوجود قاتلوں کا آزادانہ فائرنگ کرنا قانون نافذ کرنے والوں کے لیے سوالیہ نشان ہے،قاتلوں کی نشاندہی ایف آئی آرمیں درج کروائی جاچکی ہے اور ان کے پتاجات بھی لکھوائے جاچکے ہیں اس کے باوجود دو قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جارہا،قاتلوں کی سرپرستی کرنے والے چاہے کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں شہید کے اہل خانہ اور لواحقین کو لاوارث نہ سمجھے،جماعت اسلامی شہید کے اہلخانہ کے ساتھ ہے اور ان کے ورثا ء کا حق ضرور دلوائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیسر ٹاؤن میں فائرنگ سے شہید ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکن محمد جاوید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی محمد یوسف،نائب امیر ضلع رضوان شاہ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر شہید جاوید کے بڑے بھائی محمد سلیم،پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر ابوضیاء پرویزودیگر بھی موجود تھے۔مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ قاتلوں جواب دو،خون کا حساب دو،جاوید بھٹی شہید کا قتل امن کے حکومتی دعوؤں کی نفی،جماعت اسلامی کے کارکن جاوید بھٹی شہید کے قاتلوں کو گرفتار کرو۔مظاہرے کے شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور پرجوش نعرے بھی لگائے۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ شہید جاوید کے بعد جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار اب بھی علاقے میں عوامی خدمت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، آج جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار کراچی پریس کلب پر اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ شہید جاوید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ایک آفاقی تحریک ہے جو عوامی خدمت کے لیے میدان عمل میں موجود ہے۔محمد یوسف نے کہاکہ آج ہم کراچی پریس کلب پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوموں کو ان کا حق دلوانے کے لیے جمع ہوئے ہیں،ایک ماہ گزرنے کے باوجود اب تک قاتل آزاد گھوم رہے ہیں،ایف آئی آر میں قاتلوں کے نام واضح طور پر درج ہیں لیکن اس کے باوجود قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جارہا،کہاجاتا ہے کہ قاتل کراچی میں نہیں ہیں،ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث شہر کے چوکوں چوراہوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں پھر کیسے قاتل کراچی سے فرار ہوسکتے ہیں؟۔انہوں نے کہاکہ قاتلوں کی سرپرستی ہرگز نہیں کرنی دی جائے گی،اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -