اسٹین لیس اسٹیل کی درآمد میں فراڈ، ڈیکلریشن کے ذریعے حکومت کو کروڑوں کا نقصان

اسٹین لیس اسٹیل کی درآمد میں فراڈ، ڈیکلریشن کے ذریعے حکومت کو کروڑوں کا ...

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) اسٹین لیس اسٹیل کی امپورٹ میں بڑے پیمانے پر فراڈ میں ڈیکلریشن کے ذریعہ سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان، بے ضابطگیوں میں ملوث تین امپورٹرز کے خلاف محکمہ کسٹمز انٹیلی جنس سے مقدمہ کروادیا۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان اسٹین لیس اسٹیل امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر ممبران نے چند ماہ قبل تنظیم کو مطلع کیا تھا کہ اسٹیل کی امپورٹ میں بے تحاشہ گھپلے ہورہے ہیں لیکن اسکا کوئی خاطر خواہ جواب نہ آیا۔ 22اپریل 2020 کو ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) نے ایف آئی آر نمبر01/2020-SIU، 02/2020-SIU اور 03/2020-SIUکا اندراج کیا ہے۔ مذکورہ تینوں ایف آئی آرز میں دوست محمد اسٹیل کے محمد عارف، شیخ حمید اینڈ سنز کے شیخ اظہر حمید اور کام ٹریڈ امپیکس کے اقبال چوہدری کو نامزد کیا گیا ہے۔ مذکورہ نامزد ملزمان مختلف ممالک سے اسٹین لیس اسٹیل کی درآمد کرتے تھے، جبکہ دستاویزات میں ردوبدل کرکے 300 سیریز جس کی فی کنٹینر کسٹمز ڈیوٹی 24لاکھ روپے ہے، کو سیریز 201 میں تبدیل کردیتے تھے، جس کی ڈیوٹی 12لاکھ روپے ہے۔ اسی مذموم عمل سے مذکورہ ملزمان نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا ہے اور یہ کام سالوں سے جاری تھا۔ واضح رہے کہ ملزمان نے 9مئی 2020 کو ضمانت قبل از وقت کروالی ہے جبکہ ان کے خلاف تفتیش کا عمل جاری ہے۔ روزنامہ پاکستان نے اس حوالے سے ملزمان کا موقف جاننے کیلئے ان سے رابطہ کیا تو شیخ اظہر حمیدنے کہا کہ ہم پر جو مقدمہ کیا گیا ہے وہ محکمہ کسٹمز کوڈ ”ڈومین“ میں نہیں آتا، تاہم ہم اپنے وکیل سے مسلسل رابطے میں ہیں، جلد کوئی بہتر لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ اس حوالے سے محمد عارف نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معاملات رُکے ہوئے ہیں ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے جبکہ اقبال چوہدری سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -