ایس او پیز کی خلا ف ورزی، کاروباری مراکز، دکان مالکان کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ

ایس او پیز کی خلا ف ورزی، کاروباری مراکز، دکان مالکان کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا ...

  

ملتان (خصوصی رپورٹر‘ نیوز رپورٹر) کمشنر ملتان ڈویثرن شان الحق نے کرونا وائرس سے بچاؤ بارے حکومتی احکامات کی خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کرونا کے پھیلاؤکا باعث بننے والے کاروباری مراکز اور دکان مالکان کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔کمشنر شان الحق نے کہا کہ کرونا کیخلاف جنگ ختم نہیں ہوئی،عوام ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ڈپٹی کمشنرز متعلقہ اضلاع میں کرونا کے(بقیہ نمبر26صفحہ7پر)

ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرائیں اور کرونا کنٹرول ضوابط کی خلاف ورزی پر دکانوں کو سیل کرکے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ کرونا وبا کنٹرول بارے ضوابط پر عملدرآمد کیلئے تاجر برادری سے تعاون کے خواہاں ہیں۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو صرف منظور شدہ دکانوں کو کھلنے کی اجازت ہو گی مگر کار سرکار میں مداخلت کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔کمشنر نے کہا کہ نرمی کا فائدہ نہ اٹھایا جائے،شہریوں کی جانوں کا تحفظ سب سے بالاتر ہے۔انہوں نے ہدایت دی کہ مساجد میں کرونا وبا کی احتیاطی تدابیر بارے اعلانات کرائے جائیں۔کمشنر شان الحق نے ڈپٹی کمشنرز کو تمام دکانوں،بازاروں کی سخت مانیٹرنگ کا بھی حکم دیتے ہوئے مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دینے کی بھی ہدایات دیں۔ کمشنر ملتان ڈویثرن شان الحق نے بیوٹی سیلون،حجام کی دکان، جم اور ہیلتھ کلب بارے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کروانے کرونا ایس او پیز کی مانیٹرنگ کا حکم دے دیا۔ انہوں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلہ پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔مراسلہ کے مطابق بیوٹی سیلونز اور حجام کی دکان پر کسٹمر و عملے جبکہ جم ممبران ماسک پہننے کے پابند ہونگے۔سیلونز پر رش سے بچنے کیلئے گاہکوں کو ٹیلیفون پر وقت دیا جائے اور سیلون و دکان کی گنجائش کے 50فیصد کے مطابق گاہکوں کو وقت دیا جائے۔تمام افراد کے درمیان 2 مربع میٹر کا فاصلہ یقینی بنایا جائے۔ جں کہ انتظارگاہ میں کسٹمرز کے بیٹھنے یا کسٹمرز عملے کے ہاتھ ملانے و گلے ملنے پر سخت پابندی ہوگی۔بیوٹی سیلون و حجام کی دکان میں تولیہ کے استعمال پر پابندی ہوگی۔سپانج،فوم و سوراخ دارآلات استعمال کے بعد ضائع کرنے لازم ہونگے جبکہ استعمال شدہ آلات بشمول فرنیچر کو کلورین ملے پانی سے صاف کیا جائے گا۔جم میں داخلے پر کسٹمرز کی سکریننگ کرنا لازم ہوگی۔ہر ممبر کو صرف 45 منٹ جم استعمال کرنے کی اجازت ہوگی اور ہر ممبر دوسرے ممبر کے 5 منٹ بعد ورزشی مشین استعمال کر سکے گا جبکہ ہر استعمال کے بعد مشینوں کو کلورین ملے پانی سے صاف کیا جائے گا۔جم میں ممبران اپنا تولیہ ساتھ لیکر آئیں گے۔ سیلون،حجام کی دکان و جم پر حکومت کی طرف سے جاری کردہ کرونا وائرس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر واضح آویزاں کی جائیں، سینی ٹا ئزر اور ہینڈ واش کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔جم میں ائیر کنڈیشنڈ چلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور سوئمنگ پول،سوانا اور سٹیم روم استعمال کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔جم و سیلونز کے واشرومز کی صفائی پر بھی خاص توجہ دی جائے گی۔کمشنر شان الحق نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنر مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دیں اور کرونا وبا کنٹرول بارے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے جم،حجام کی دکانوں و سیلونز کو سربمہر کردیا جائے۔ مارکیٹوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے تاجروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر عامرخٹک نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے ایریاز میں آج سے مارکیٹوں اور بازاروں کو وزٹ کریں،کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل نہ کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کسی کو اپنا کاروبار چمکانے کے لئے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایک دن میں صوبے میں بڑی تعداد میں کورونا وائرس کے کیس رپورٹ ہونے پر حکومت کوسخت تشویش ہے۔تاجروں کو احتیاطی تدابیر کے حوالے اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔عامر خٹک نے کہا کہ اگر کسی مارکیٹ سے کورونا وائرس کا پازیٹیو کیس نکل آیا تو اسے سیل کردیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اس سلسلہ میں پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے فلیگ مارچ منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے دکانیں کھولنے، موٹرسائیکل پر ڈبل سواری اور شہریوں کے پبلک مقامات پر اکٹھے ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے پولیس نے موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی خلاف ورزی کرنے، پبلک مقامات پر اکٹھے ہونے اور دکانیں کھولنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں بلال، حسن، فیضان، محمد اویس، دانیال، محمد ارشد، محمد نعمان، محمد وقاص، محمد مکی، محمد احمد، محمد وقار، یاسر، محمد سجاد، فصیح الدین، مرسلین، شوذب، اویس، ارسلان، کامران، عبدالرحمان، احمد، راشد، عبدالحئی، انعام الحق، احسن، ا?فاق، امیر حمزہ، سلمان، محمد عمر، کاشف، ناصر، جاوید، تصور، رحمت اللہ،رمیض، محمد فیاض، محمد ا?صف، عبدالروف،ثنا اللہ، محمد عمر، محمود احمد، اویس، انیس، تنویر، توقیر، رحمان، احمد، عقیل،اسفند، جنید، تحسین، طیب، احسان، اکبر، محمد عظیم اور محمد عمرا ن کے خلاف مقدما ت درج کئے۔جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مہنگائی مافیا کیخلاف کارروائیاں تیز کردیں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -