بجٹ سے پہلے الگ صوبے کا اعلان کیا جائے‘ ظہور دھریجہ

  بجٹ سے پہلے الگ صوبے کا اعلان کیا جائے‘ ظہور دھریجہ

  

ملتان (سٹی رپورٹر)بجٹ سے پہلے صوبے کا اعلان کیا جائے اور سول سیکرٹریٹ کیلئے مختص تین ارب روپے صوبائی سیکرٹریٹ کیلئے خرچ کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے سرائیکی رہنماؤں شریف خان لاشاری، شبیر طاہر حمایتی، ثوبیہ ملک اور حاجی عید احمد دھریجہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر(بقیہ نمبر35صفحہ6پر)

اعلیٰ کی آمد پر وسیب کے مسائل کے حوالے سے یادداشت پیش کی ہے تاکہ وسیب کے مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ڈی جی خان دورے کے دوران صوبے اور سیکرٹریٹ کے بارے میں بات نہ کرکے مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید سر پر آچکی ہے، مستحقین کو کورونا امداد عید سے پہلے دی جائے۔ کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے۔ لاوارث قیدیوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کیا جائے۔ کورونا امداد خواجہ سراؤں کو بھی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ معذوروں کے لیے ملازمتوں کے دو فیصد کوٹہ ختم کرنے والے صدارتی آرڈیننس کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو دسواں نیشنل فنانس کمیشن دینے کی بجائے صوبہ کمیشن تشکیل دینا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے دورہ ڈی جی خان کے موقع پر ایک یاداشت میں ظہور دھریجہ نے کہا کہ وسیب کے تاریخی پس منظر کا تقاضا یہ ہے کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ محرومی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ سرائیکی وسیب کو ہمیشہ یہ طعنہ ملتا آ رہا ہے کہ وسیب کے لوگ ہمیشہ بر سر اقتدار رہنے کے باوجود انہوں نے اپنے خطے کیلئے کچھ نہیں کیا تو تخت لہور کو طعنہ کیوں دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان اور سردار عثمان خان کی شکل میں وسیب کے پاس دوہرا اقتدار ہے، خیبرپختونخواہ میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہے، سرائیکی وسیب کے دو اضلاع ٹانک اور ڈی آئی خان خیبرپختونخواہ میں ہیں اور باقی پنجاب میں، تحریک انصاف کی حکومت وسیب کی تہذیبی و جغرافیائی شناخت کے مطابق صوبے کے ساتھ محرومی کے خاتمے کیلئے اقدامات کر سکتی ہے۔ انڈس ہائی وے کو موٹر وے بنانے، وسیب میں ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم کرنے، سی پیک منصوبے سے وسیب کو حصہ دلانے، انٹری ٹیسٹ جیسے متنازعہ سسٹم کے خاتمے کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ سردار عثمان خان بزدار ڈی جی خان میں یونیورسٹی قائم کی ہے، ایک یونیورسٹی سخی سرور، جھنگ میں سلطان باہو، لیہ میں تھل یونیورسٹی، مظفر گڑھ میں سردار کوڑے خان، چشتیاں میں مہاروی، پاکپتن میں بابا فرید، کوٹ مٹھن میں خواجہ فرید، تونسہ میں شاہ سلیمان تونسوی، چنیوٹ میں چنیوٹ یونیورسٹی اور میانوالی میں میانوالی یونیورسٹی بھی ہونی چاہئے اور خانپور کیڈٹ کالج کو فنکشنل ہونے کے ساتھ دیگر علاقوں میں بھی کیڈٹ کالج بننے چاہئیں۔ پلاک کی طرز کا ادارہ سرائیکی زبان اور پوٹھوہاری زبان کی ترقی کیلئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تعلیم ماں بولی میں ملنی چاہئے۔ کالجوں میں سرائیکی لیکچرر اور سکولوں میں سرائیکی پڑھانے والے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ وسیب میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے یکجہتی کیلئے کام ہونا چاہئے، تفریق، نفاق پیدا کرنے والے اقدامات سے گریز ہونا چاہئے۔ کورونا وبا کا سب سے بڑا سنٹر ملتان میں بنا کر ظلم کیا گیا، اب اس کا ازالہ نہیں تو کم از کم طبی سہولتیں اور باہر سے آنے والی طبی امداد کی تقسیم تو برابر کی جائے۔

ظہور دھریجہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -