بندکرنا پختونوں پر اپنے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے، اسفند یارولی

بندکرنا پختونوں پر اپنے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے، اسفند یارولی

  

 پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی بالخصوص پختونوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ کورونا وبا کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال میں ہر ملک اپنے اوورسیز شہریوں کی مدد کیلئے اقدامات کررہی ہیں لیکن پاکستانی حکومت ان حالات میں بھی پیسہ بٹورنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ باچاخان انٹرنیشنل ائرپورٹ بند کرنا پختونوں پر اپنے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے، اپنے شہر میں آنے کیلئے دوسرے ائرپورٹس کا استعمال ایک طرف پیسے اور وقت کا ضیاع ہے دوسری جانب وہاں مہنگے ہوٹلوں میں آنیوالوں کو قرنطین کیا جارہا ہے جس کے لئے انہی کے پیسوں سے ادائیگی کی جارہی ہے۔ بیرون ملک مقیم پشتون کروڑوں زرمبادلہ بھیج رہے ہیں، آج اگر ان پر مشکل وقت آیا ہے تو حکومت نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ یہاں تک کہ میتوں کو بھی دوسرے ائرپورٹس پر لایا جارہا ہے۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ نئے پاکستان میں میتوں کو بھی نہیں بخشا گیا، پشاور ائرپورٹ کی بندش نے ایک نہیں دو پاکستان کا نظریہ واضح کردیا ہے، کیونکہ اس پاکستان میں میتوں کے ساتھ بھی غیرانسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب لاکھوں اوورسیز پاکستانی کاروبار و روزگار کے بندش کی وجہ سے بے روزگار ہوچکے ہیں اور واپس آنے کیلئے حکومت سے اپیل کررہے ہیں لیکن حکومتی ادارے، وزارت خارجہ اور سفاررتخانے کوئی مدد نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا سفارتی سطح پر ابھی تکجو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ اطمینان بخش نہیں۔ جہاں مسائل ہیں وہاں کی حکومت سے سنجیدہ بات ہونی چاہییکیونکہ ان ممالک میں مقیم افراد کو ایک طرف بے روزگاری کا سامنا ہے تو دوسری جانب انہیں باہر جانے پر مکمل پابندی کی وجہ سے خوراکی اشیاء کی کمی کا بھی سامنا ہے۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ موجودہ وبائی صورتحال سے پی آئی اے بھی خوب فائدہ اٹھارہی ہے اور ائرٹکٹس کے مد میں بیرون ملک مقیم افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے، حکومتی غیرسنجیدگی افسوسناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے فوری طور پر باچاخان انٹرنیشنل ائرپورٹ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک میں مقیم افراد کی واپسی کیلئیخصوصی فلائٹس کا انتظام کیا جائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -