سینیٹ، کورونا صورتحال پر حکومت، اپوزیشنکی ایک دوسرے پر تنقید، الزام تراشیاں

    سینیٹ، کورونا صورتحال پر حکومت، اپوزیشنکی ایک دوسرے پر تنقید، الزام ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) سینیٹ میں کورونا وائرس کی صورتحال پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ ا پو ز یشن سینیٹرزنے حکومت پر سنگین الزام عائد کیا کہ ہسپتالوں میں دیگر امراض سے مرنیوالوں کو بھی کورونا سے مرنیوالوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،وفاقی حکومت کورونا سے لڑنے کی بجائے صوبوں سے لڑنے میں مصروف ہے، ہم نے چہرے پر ماسک تو لگائے ہیں لیکن زبان کو تالے نہیں لگائے،اتنی شدید وباء کے باوجود ملک میں کرپشن اور ملاؤٹ جا ر ی ہے،حکومت رمضان میں تو کرپشن چھوڑ دے، حکومت فوری طور پرنیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کااعلان کرے،پارلیمنٹریز کو30 ارب کے فنڈزدینے کی بجائے ان کو وباء سے لڑنے پر لگائے،ابھی تک حکومت انشااللہ پرانحصار کررہی ہے تکوں پر کام چلایا جارہا ہے،حکومت قومی اتفاق رائے پیدا کرے، اپوزیشن قیادت سے بات کرے، ایمپائر کی انگلی کے باوجود پنجاب میں ہارے پھر پنجاب میں کون سا لوہا منوایا،حکومت نظر نہیں آرہی، غریبوں کو راشن فلاحی تنظیمیں دے رہی ہیں،بارڈر آج بھی کھلے ہیں،ملک میں وباء پھیلی ہے مگر ہمارا وزیر اعظم اوروزیر صحت ایوان میں آنے کو تیار نہیں؟۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز اور حکومتی سینیٹرز نے کہا اپوزیشن کے پاس کورونا کا کیا پلان ہے؟، اپوزیشن بتائے کیا ہم ملک بھر میں لاک ڈاؤن کرفیو لگا دیں؟، جب ان سے سوال پوچھے جاتے ہیں تو یہ کہتے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اپوزیشن چاہتی ہے معیشت تباہ اور ان کو این آر او مل جائے،پاکستان میں کرپشن کا کورونا بہت پہلے آ چکا تھا،غریب بچوں کے حصے کا مال غبن کر کے لندن فلیٹس سرے محل بنایا گیا۔امید ہے عمران خان کی قیادت میں ہم اس بحران سے بھی نکل جائیں گے۔ لاک ڈاون سے مڈل کلاس اور مزدور طبقہ زیادہ متاثر تھا، احساس پروگرام کے تحت 100 ارب روپے سے زائد تقسیم ہوچکے ہیں، بازاروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی دیکھ رہے ہیں، غیرذمہ داری کا ثبوت دیا گیا تو ہمارا انجام اچھا نہیں ہوگا، عوام احتیاط کرے اور ایس او پیز پر عمل کرے، دو تین مہینوں کی بات ہے ایس او پیز پر عمل کریں، نہیں تو ایک بار پھر دکانیں بند ہوجائیں گی۔ مشاہداللہ کہتے ہیں احساس پروگرام میں احسن اقبال کے نام بھی پیسا آیا، ازراء تفنن کہتا ہوں یہ نام آپ نے ہی ڈلوایا ہوگا کہیں کا پیسا آپ نہیں چھوڑتے، اشرافیہ وہ ہے جو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے بیمار ہو تو بیرون ملک جاتا ہے۔اجلاس بلا کر اپوزیشن لیڈر اجلاس میں آئے کیوں نہیں؟، کل شہزاد اکبر نے بھی دس سوال پوچھے جواب نہیں آئے۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں افغانستان کے ہسپتال میں حملے میں شہید ہونیوالوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا اجلاس کو پانچ بجے تک چلائیں گے، اگر مناسب ہوا تو سیشن غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیں گے،سب کو تقریرکا موقع ملے گا، جو تقریر کرکے جانا چاہے جاسکتا ہے۔کورونا سے متعلق تحریک پر بحث کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر سینیٹ کے اجلاس میں آئے ہیں،عام آدمی کو صحت کی سہولیات میسر نہیں،کورونا سے پوری دنیا بدل چکی ہے، کیا ہم ڈیجیٹلائزیشن کی تیاری کر رہے ہیں،بیروزگار ہونیوالے بچے بچیوں کیلئے کون قانون سازی کرے گا،وزیر اعظم لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی درآمد سے ڈیوٹی ختم کریں،بینک نوجوان لڑکے لڑکیوں کو لیپ ٹاپ اور موبائل فون خرید نے کیلئے آسان قسطوں پر قرض دیں۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہاوقت کیساتھ معلوم ہوگا کورونا وائرس قدرتی ہے یا انسان کا بنایا ہوا، اصل سوال یہ ہے حکومت اور پارلیمنٹ کا کورونا بحران میں کیا کام ہے؟موجودہ صورتحا ل میں پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔حکومت کو خود قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلانا چاہیے تھا،مگر اپوزیشن کی ریکوزیشن پر ہورہے ہیں، وزیراعظم ملک کا سب سے ذمے دار آدمی ہے، کیاانہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی؟ وہ تواجلاس میں نہیں آئے،وہ کیا کر رہے ہیں پتا تو لگے، کہتے ہیں قائد حزب اختلاف نہیں آرہے، حکومت نظر نہیں آرہی۔وفاقی حکومت کو کورونا پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے تھا،حکومت نے شہبازشریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے تعاون کے بیان کو ٹھکرا دیا،اپنے کتے کے نام پر ٹائیگر فورس بنا دی گئی،لاک ڈاؤن کے بارے یونیفارم پالیسی ہونی چاہیے تھی۔کورونا بحران کے دوران ہی چینی گندم کیاسکینڈل آرہے ہیں جس میں حکومت کے لوگ ملوث ہیں، ختم نبوت کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ وبا اچانک نہیں آئی، ہم سے پہلے چین، اٹلی اور ایران میں یہ وبا آئی، ہماری طرف تو یہ وائرس رینگتے ہوئے آیا، تفتان سے چلتے ہوئے یہ وائرس پورے پاکستان میں پھیل گیا، اس وبا کے دوران بھی ہماری قیادت ایک پیج پر نہیں آسکی، پاکستان ایٹمی طاقت ہے مگر پھر بھی 22 کروڑ عوام کیلئے 1300 وینٹی لیٹرہیں۔ کورونا کے ٹیسٹ مہنگے داموں ہو رہے ہیں، غریب آدمی کیسے پیسے دیں، دور دراز علاقوں میں لیبارٹیاں موجود نہیں، کورونا وائرس سے جاں بحق میتوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، خدارا میتوں کی بے حرمتی نا کی جائے، ہم اس وبا کے وقت انسانیت قوم کیلئے خیر کا راستہ تلاش کریں جو توبہ کا راستہ ہے، ہم وبا سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کو فتح کرنے پر لگے ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا وزیر خارجہ نے ایوان کی توہین کی،وہ ایوا ن سے معافی مانگیں۔چیئرمین سینیٹ نے عثمان کاکڑ کا مائیک بند کر دیا۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بڑے سیاستدان ہے،میں انکی بڑی عزت کرتی ہو،مگر ان کی گفتگو سے لگتا ہے وہ وزیر خارجہ کم اور پی ٹی آئی کے ترجمان زیادہ ہیں،خیبرپختونخوا جہاں پی ٹی آئی کی سات سالوں سے حکومت ہے،وہاں کورونا سب سے زیاد ہ پھیلا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا سینیٹ اجلاس کورونا پر بحث کیلئے بلایا گیا،لوگ منتظر ہیں کورونا پر بات کب ہو گی،وزیر اعظم نے کورونا وبا کے دوران فرنٹ سے لیڈ کیا،کورونا پر کے پی کے پنجاب وزیر صحت وفاق میں معاون خصوصی صحت متحرک رہے،ایک صوبے کے وزیر صحت کو گوگل کر کے پتہ کرتے رہے،پاکستان میں کرپشن کا کورونا بہت پہلے آ چکا تھا،غریب بچوں کے حصے کا مال غبن کر کے لندن فلیٹس سرے محل بنایا گیا۔لیگی سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کورونا وائرس کے بارے میں کوئی نہیں جا نتا،اس وائرس کو کیسے روکنا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں،یہ مجموعی کرائسز ہے اس پر بلیم گیم نہیں کرنی چاہئے،ہمارے ملک میں امیر افراد نے کورونا میں کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی، کوئی بھی اکیلی حکومت پارٹی یا ادارہ یہ بحران حل نہیں کرسکتے، حکو مت فوری طور پرنیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کااعلان کرے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا مجھے باڈرز کے علاقوں پر شدید تحفظات ہے،ایران اور افغانستان بارڈر ہے وہاں سے لوگ آ اور جارہے،باڈرز کے علاقوں پر سختی لائی جائے۔ جب صوبوں میں پی ڈی ایم اے موجود ہے پھر این ڈی ایم اے کیو ں؟ اس کو ختم کیا جائے۔سینیٹرپرویز رشید نے کہا جہاں پر لاک ڈاون کرنا تھا وہاں نہیں کیا،پارلیمنٹ کو لاک ڈاون کر دیا گیا۔جسکی ذمہ داری ہے وہ آج ایوان میں نہیں،کیونکہ وہ جواب دینے سے گھبراتاہے۔جب جواب نہیں ہوتا تومعاملہ اللہ پر ڈال دیا جاتاہے۔کسی سے اگر پوچھا جائے کہ وزیر صحت کون ہے تو کسی کو پتا نہیں ہوگا۔اگر ہمیں کسی سوال کا جواب میسر نہیں ہوتا ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے ہم ناکام ہیں، ہمیں اس کی ذمہ داری خالق کائنات پر نہیں ڈالنی چاہیے۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -