رمضان المبارک رحمٰن کی رحمت کی موسلادھار بارشوں کا موسم ہے: رانا عبدالرؤف

رمضان المبارک رحمٰن کی رحمت کی موسلادھار بارشوں کا موسم ہے: رانا عبدالرؤف
رمضان المبارک رحمٰن کی رحمت کی موسلادھار بارشوں کا موسم ہے: رانا عبدالرؤف

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں ماہِ صیام کے آخری عشرے کی فضیلت کے حوالے سے بزمِ بزرگانِ ریاض کی جانب سے خصوصی آن لائن نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مجلسِ پاکستان کے صدر رانا عبدالرؤف نے آخری عشرے کی اہمیت اور فضیلت کے حوالے سے آن لائن شرکاء سے بیان فرمایا. 

رانا عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک رحمٰن کی رحمت کی موسلا دھار بارشوں کا موسم ہے، خالق نے اس ماہِ مبارک کو 3 دہائیوں میں یوں تقسیم فرما دیا کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے چھٹکارے کا ہے، یوں رحمان و رحیم رب اپنے فضل و کرم اور خصوصی عنایات سے روزہ دار اہلِ ایمان کی تربیت فرماتے ہیں اور انہیں روحانی ارتقائی منازل طے کرواتے ہیں، اہلِ ایمان رمضان کے اس نورانی ماحول سے گزرتے ہوئے مسلسل ایک ماہ قول، فعل اور عمل، تینوں کا روزہ رکھتے ہیں، پھر جب روزہ دار رحمت و مغفرت دونوں عشروں سے نکل کر جہنم سے چھٹکارے کے تیسرے عشرے میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں خصوصی طور پر حکم دیا جاتا ہے کہ اب تم اس تیسرے عشرے میں ایک ایسی رات کی تلاش کرو جس کا نام لیلۃ القدر ہے. 

لیلتہ القدر کیا ہے، آپ کو کیا معلوم وہ کیا ہے؟ اس لیلۃ القدر کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ فرما کر کہ ’’خیرٌ من الف شہر‘‘ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس امر کا شعور دیا کہ تم اولا" تو اجر و ثواب کو کئی گنا بڑھاکر سننے اور لینے کے عادی تھے مگر اس اجر و ثواب کا اب کوئی حد و حساب نہیں رہا، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت کہ نبی کریمﷺ  نے فرمایا: لیلۃ القدر یہ میرا خاصہ ہے، اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو میری خصوصیت بنایا ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ اور اسکی نعمتِ عظمیٰ، خیر الامم کا حصہ ہے اور اس میں بندے کا معاملہ شمار اور حساب سے مافوق ہوگیا. 

رانا عبدالرؤف نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تیسرے عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش میں رغبت اور جو حکم امتِ مسلمہ کو دیا گیا، اس کا بیان حدیثِ مبارکہ میں اس طرح ہوا کہ تم لیلۃ القدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، یہ تو اس کے موقع کی بات رہی، اس کے شرف کی بات تو قرآن کہتا ہے: ’’ہم نے قرآن کریم کو بابرکت رات میں اتارا‘‘ ایک دوسری جگہ فرمایا: یقینا ہم نے اس کو قدر والی رات میں اتارا، آپ کو کیا معلوم قدر والی رات کیا ہے؟ قرآنِ کریم کا یہ اسلوبِ بیان کہ وہ یوں کہے کہ آپ کو کیا معلوم یہ چیز کیا ہے ،یہ کسی عظیم امر کی عظمت دلانے کے لئے ہوتا ہے جیسے کہ ہے، الحاقہ مالحاقہ، یا القارعہ مالقارعہ، جس چیز کو اللہ جل شانہ یوں بیان کریں اس کی انتہائی عظمت کا بیان ہے، یہ بڑائی شدت و ہولناکی میں ہو یا اجر و ثواب کی کثرت میں، لیلۃ القدر کے بارے میں یہی اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے. 

ارشاد ربانی ہے: آپ کو کیا معلوم لیلۃ القدر کیا ہے؟، قدر معنی اندازہ ہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت و شان کو بیان فرمایا تو ارشادِ ربانی یوں ہوا: لیلۃ القدر خیر من الف شہر، یہ قدر والی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یہ تعبیر بھی قابل تدبر ہے، اللہ تعالیٰ لیل کے مقابلہ میں لیل کو نہیں لائے بلکہ شہر کو لائے ہیں یعنی رات کے مقابلہ میں مہینہ لایا گیا، پھر یہ نہیں فرمایا یہ ایک رات ہزار مہینوں کے برابر ہے بلکہ یہ فرمایا ’’لیلۃ القدر خیرٌ‘‘ یہ رات ان مذکورہ مہینوں سے افضل ہے. 

رانا عبدالرؤف نے روزہ اور لیلتہ القدر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ’’صیام‘‘ روزہ رکھنا تو یہ حکمِ عام ہے کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض ہوا جیسا کہ قرآن نے بتایا ہے کہ اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے کہ تم سے پہلی امتوں پر تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ مگر یہ لیلۃ القدر والی خصوصیت کہ ماہِ رمضان میں ایک ایسی رات آئے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہو یہ صرف امت محمدیہﷺ کی ہی خصوصیت ہے، منعم حقیقی نے خصوصی طور پر یہ رات خیر الامم کو عطا کی ہے لہٰذا ہر فرد امت کو یہ استحضار بھی رہنا چاہئے کہ اللہ نے ہمیں جو خیر امت بنایا ہے تو اس منعم فیاض نے ہمیں ہزار مہینوں سے بہتر رات بھی عطا فرمائی ہے. 

قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان کئی امور پر مشتمل ہے، پھر قرآن پاک کے لیلۃ القدر میں نازل ہونے کے بارے میں اہل تفسیر نے یہ ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر میں خیر الکتب کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا جو خیر الامم کا ضابطہء حیات ہے جو پوری انسانیت کی پوری زندگی کے تمام شعبوں میں ان کا رہنما ہے، تو اس خیر عظیم کا اس رات نازل ہونا، یہ اس رات کے عظیم القدر ہونے کا بھی سبب ہے، پھر حسن اختیار ہے کہ عظیم کتاب کے نازل ہونے کے لئے خیر الاوقات کا انتخاب ہوا جو قرآن کریم کی عظمت کی دلیل ہے، پھر لوح محفوظ سے جناب محمد رسول اللہﷺ کے قلبِ مبارک پر یہ قرآن 23 سال تک حسبِ ضرورت نازل ہوتا رہا، قرآن کریم کے نزول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے بیک وقت نہیں اتارا، اسکی حکمت کے بیان کے لئے قرآن پاک میں ارشاد ہے: کہ ہم نے اس کتاب کو ’’جملہ وحدہ‘‘ کے طور پر نازل نہیں کیا تاکہ آپ کے دل کو ثابت رکھیں. 

رانا عبدالرؤف نے اپنے بیان میں فرمایا کہ سبھی کو علم ہے کہ قرآنِ کریم قولِ ثقیل ہے، جب قرآنِ کریم کی اوائل آیات نازل ہوئیں تو اس قول ثقیل کے نزول کا آنحضرت؛ ﷺ پر جو اثر ہوا اسکا قصہ مفسرین اورمحدثین نے بیان فرمایا ہے کہ اس کے بوجھ کی وجہ سے حضورﷺ کی کیا کیفیت ہو گئی تھی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے قلبِ اطہر پر اس کو 23 سال میں اتارا، لیلۃ القدر کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ رات اتنے مہینوں یا اتنے سالوں کے برابر ہے بلکہ خیر من الف شہر کہ یہ ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے، ایک ہزار مہینوں کا تعیین نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے گویا کہ ایسے اجر و ثواب کی اللہ نے خوش خبری دی جو لا محدود ہے. 

پھر آگے فرمایا کہ اس رات میں اللہ کے فرشتے اترتے ہیں، فرشتے اللہ تعالیٰ کی طاہر و مطہر مخلوق ہیں جو ہر وقت اس کی فرمانبرداری میں رہتے ہیں، فرشتوں کا دامن کبھی بھی معصیت میں ملوث نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو بجا لاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی یہ پاک مخلوق جو روزہ دار بندوں کے لئے اس ماہ مبارک میں زمین پر اترتے ہیں کہ وہ خیر و برکات بکھیریں اور ساتھ ہی انسان کی اطاعت کا بھی انداز کرلیں کہ وہ انسان کی خلقت کے وقت یہ سمجھتے تھے کہ یہ فسادی ہوگا اور آج وہ اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ تو اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہیں۔

رانا عبدالرؤف نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ انسان جس میں اللہ جل شانہ نے خیر اور شر ہر دو مادے رکھے تھے ،اس نے خیر کو اختیار کیا ، شر اور معصیت کو چھوڑ دیا پھر آگے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عام فرشتے تو اترتے ہی ہیں، اس رات میں روح القدس بھی آتے ہیں، روح القدس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں، اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہے اس امت کے لئے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے شب و روز کو کس قدر روحانی بنا دیا اور کس قدر معطر و مطہر کر دیا، اس کائنات کا ہر کونہ اور موجودات کونیہ کے ہر ہر زاویہ کو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں احاطہ کئے ہوئے ہیں، یہ ہے معنی اس آیت کا کہ آپ کو کیا معلوم قدر والی رات کیا ہے، یہ وہ امور ہیں جن کی خبر قرآن کریم دے رہا ہے، یہ کوئی وہمی چیزیں نہیں جنکا وجود نہ ہو، یہ تخیلات نہیں بلکہ یہ سبھی واقعاتی حقائق ہیں، یہ خیالات نہیں بلکہ موجودات ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے وجود اور وقوع کی خبر اللہ تبارک و تعالیٰ خود دے رہے ہیں. 

اللہ تبارک و تعالیٰ ایسے کلام کے اندر یہ خبر دے رہے ہیں جو محفوظ و مأمون ہے، یہ قرآن کریم میں ثبت ہے، جو زمانہ نزول سے آج تک اور پھر تاقیامت قرآن میں سب کچھ ثبت رہے گا، اس لئے ہم غفلت میں نہ رہیں، ان امور کا استحضار رکھیں، قرآن کا قاری سورۃ القدر کی قرأت کرے تو ہمیں پختہ یقین بھی رہے کہ اس میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں، فرشتوں کے نزول کا شعور ہمیں اس لئے دیا جارہا ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ سارا جہان اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقیات روحانی کے لئے سجا رکھا ہے ،یہ ہے عظمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رات کی اور اس امت کی اور اس امت کے قرآن کی، پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ فرشتے ہر خیر کو لیکر اترتے ہیں، اس افضل رات میں اللہ تعالیٰ کی کیا کیا خیرات نازل ہوتی ہیں، حضورﷺ  فرماتے ہیں کہ جبریلؑ فرشتوں کی جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، جس شخص کو ذکر میں مشغول پاتے ہیں، اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، کس قدر اللہ نے حضرتِ انسان کو شرف بخشا جو فرشتے اس کی پیدائش کے وقت ایک رائے رکھتے تھے، جب اس بابرکت رات میں بندے رحمت رحمان سے فیض یاب ہو رہے ہیں تو وہ اسی انسان کے لئے رحمتِ ربانی کو طلب کر رہے ہیں جسے فسادی کہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ رات تو سلامتی ہی سلامتی کی رات ہے، فرشتے اس رات فوج در فوج اترتے اور وہ واپس جاتے ہیں، یہ سلسلہ ساری رات جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ طلوعِ فجر ہوجائے، اس رات کو پانا بھی اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے انتہائی آسان بنا دیا. 

حضرت عبادۃ نبی پاکﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ قدر والی رات رمضان کے آخری عشرے میں ہے، پھر مزید فرمایا: تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، پھر یہ بھی فرمایا کہ 21ویں،23ویں، 25ویں،27ویں،29ویں، یا رمضان کی آخری رات ہے، یہ بھی حکمتِ ربانی ہے کہ اس کی تعیین نہیں فرمائی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے مجھے اس کی خبر دیدی مگر جب اس کی خبر دینے کے لئے باہر تشریف لائے تو دو مسلمان باہم جھگڑ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا علم مجھ سے اٹھایا، سو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرتے رہو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا باہم جھگڑا کرنا کس قدر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا موجب ہے. 

رانا عبدالرؤف نے اپنے بیان میں تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرتے رہیں تو یہ ہمارا افضل ترین دین ہے، رہی بد خلقی تو تمہارے اعمال صالحہ کو بھی مونڈھنے والی چیز ہے، برادرانِ اسلام حسنِ عبادات کے ساتھ ساتھ حسنِ اخلاق کی بھی ہمیں فکر کرنی چاہئے، اگر کچھ تدبر کریں تو اس پہلو میں ہمارے معاشرے میں اکثریت کوتاہ ہے، عبادات میں تو ہم کسی نہ کسی درجے میں لگے رہتے ہیں مگر حسنِ اخلاق اور صفائی معاملات میں ہم سے بہت دور ہوچکے ہیں بلکہ معاملات میں کوتاہی اور خشک خلقی میں بعض نام نہاد دیندار زیادہ معروف ہیں. 

رانا عبدالرؤف نے بیان کے آخری حصہ میں دعاء کی کہ حق تعالیٰ شانہ جس نے ہم پر ان گنتی کے ایام میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کے فیصلے فرمائے ہیں اور پھر ان ایامِ معدودات میں ہمیں ایسی قدر والی رات عطاء فرما دے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، وہ اپنی خصوصی عنایت سے ہمیں اس کی قدر کی توفیق عنایت فرما دے ، اس ماہِ مبارک کے فیوض و برکات سے اللہ تعالیٰ ہمیں مالا مال کردے، اور لیلۃ القدر کی قدر کو سمجھنے اور اس کو پا لینے کی توفیق ہمیں عطا فرمائے، آمین

اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی ریاض سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری نشرواشاعت قاری محمد قاسم کی رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از نماز تراویح شہادت پر قاری قاسم کے لئے خصوصی دعاء بھی کی گئی. 

بزمِ بزرگانِ ریاض کی اس آن لائن خصوصی بیٹھک میں کمیونٹی کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی اور بزم کے ارکان بھی شریک تھے جبکہ آن لائن کانفرنس کی نظامت کے فرائض بزم کے بانی ڈاکٹر سعید احمد وینس نے خوش اسلوبی سے ادا کئے. 

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -