حضرت علی ؒ شیر خدا

حضرت علی ؒ شیر خدا

  

زیارت

مجیب الرحمن شامی

علی مرتضٰیؓ، شیرِ خدا، جس پر فدا، محبوب خدا …… سب سے پہلے کہا، برملا، لا الہ الا اللہ۔ فضائل اتنے کہ نہ شمار ہوا۔ فضیلتیں ایسی کہ بے انتہا۔ سسرال وہ کہ جس کا ثانی نہ ملا۔ اہلیل، فاطمہؓ، سارے جہاں میں یکتا۔ دختر، زینبؓ، پیکرِ تسلیم و رضا، فرزندِ اول، حسنؓ، داعی ء امن و صفا۔ فرزندِ ثانی، حسینؓ شہید کربلا، داستانِ حرم کی انتہا …… مسکن اول، بیت اللہ، وقت آخر درونِ خانہ ء خدا …… اہل دل کا ملجاماویٰ، سلسلہ ہائے ولایت کا نقطہ ء اولیٰ …… فاتح خیبر، مشکل کشا، لا فتیٰ …… شجاعت میں یکتا، خطابت میں تنہا، ذہانت میں کسے ہمسری کا دعویٰ؟ …… منصف وہ کہ کوئی مثال نہ کوئی اس جیسا …… شب ہجرت نبیؐ کا بدل ہوا۔

بدن دہرا، قدمیانہ، چہرہ کتابی کھلتا ہوا۔ رنگ گندمی کھلتا ہوا۔ میدانِ جنگ کی دھوپ کھا کر یوں بدلا کہ کندن ہوا۔ کشادہ پیشانی پر نور برستا ہوا۔ سینہ چوڑا، بڑی آنکھیں، روشن اور سیاہ۔ شانے مضبوط، شاہ بلوط کی طرح۔ رخساروں پر گوشت بوسے دیتا ہوا۔ گردن صراحی کی طرح باوقار، ایستادہ۔ بازو بھرے بھرے توانا۔ سرکا درمیانی حصہ بالوں سے نا آشنا، حاشیہ بھرا ہوا۔ کثرت عبادت سے ماتھے پر نشانِ سجدہ۔ نظر ملانے کا کسی میں حوصلہ نہ ہوا۔ نگاہ اٹھائی تو مخاطب نے آنکھ لی جھکا …… اہل ایماں کا سرمایہ، اہل عشق کی دعا …… جس کا نبیؐ مولا، اُس کا علیؓ، مولا …… علیؓ مرتضٰی، شیرِ خدا ……!

مزید :

ایڈیشن 1 -