حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں،جب لاک ڈاؤن پھیل رہا ہے تو ۔۔۔احسن اقبال نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی

حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں،جب لاک ڈاؤن پھیل رہا ہے تو ۔۔۔احسن اقبال نے ...
حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں،جب لاک ڈاؤن پھیل رہا ہے تو ۔۔۔احسن اقبال نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن)کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہاہے کہ وزیر اعظم انا کی کوہ ہمالیہ پر بیٹھے ہیں،ملک چلانے کیلئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں،آئندہ ہفتو٘ں میں کورونا وائرس میں اضافہ کا خدشہ اوروباءپھیل رہی ہے جبکہ ہم نےلاک ڈاؤن کھولتےہوئےلوگوں کواجتماعات کی اجازت دے دی ہے،حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ قومی اداروں پر پھینکنا چاہتی ہے،حکومت اپنی جیبیں بھرنےکی بجائے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50 روپے کرے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ کرونا وائرس کی وباء سے یہ ثابت ہوا کہ قوموں کا تحفظ انسانی وسائل کے تحفظ سے ممکن ہے، اسلحہ کی دوڑ سے نہیں، ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں آئندہ ہفتوں میں کرونا وائرس میں اضافہ کا خدشہ ہے، وباء پھیل رہی ہے، ہم نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے اور لوگوں کو اجتماعات کرنے کی اجازت دے دی ہے، ہمیں اس وباء پر قابو پانے والے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی قیادت انا پرستی کا شکار تھی، کبوتر کی طرح آنکھیں بندکیں، وہاں پر وائرس سے اتنی لاشیں گریں جیسے خزاں میں درختوں کے پتے گرتے ہیں، وباء کو قابو پانے کیلئے حکومت کو جو اقدامات کرنے چاہیے تھے نہیں اٹھائے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے مطالبے کے باوجود حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں بلایا، حکومت نے مشیروں کو منسٹرز کالونی میں اپارٹمنٹ الاٹ کرانے کیلئے توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈا پر رکھا، اجلاس کے دوران حکومت نے وباء پر قابو پانے کیلئے کارکردگی کی رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کی، ملک چلانے کیلئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں، اپنے چہیتوں کو نوازنے کے سوا کوئی کام نہیں کر رہی، 2018تک پولیو ملک سے ختم ہو گیا تھا، اس کے پروگرام کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ سیاسی فٹ بال کے طور پر موجودہ حکومت نے استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس اہم موقع پر قوم کو اکٹھا نہیں کیا،22ماہ میں حکومت کی شعبہ میں کوئی پالیسی نہیں دے سکی، کرونا سے نمٹنے کیلئے کوئی پالیسی نہیں، وزیراعظم انا کی کوہ ہمالیہ پر بیٹھے ہیں، یہاں نا اہلی اور بد انتظامی کی سزا قوم بھگت رہی ہے، حکومت نے کرونا پر ماہرین کی رائے نہیں سنی، کرونا سے نمٹنے کیلئے جو اربوں ڈالر ریلیف ملا وہ بھی یہ ضائع کر دیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، لگتا ہے ملک آٹو پائلٹ پر چل رہا ہے، ریاستی اداروں کے بندے لاکرحکومت چلائی جارہی ہے،ان سےحکومت نہیں چل رہی، سیکیورٹی کے اداروں کو کہہ رہے ہیں کہ ہماری مدد کرو،ان کواپناکام کرنے دیں، حکومت اپنا ناکامی کا بوجھ قومی اداروں پر پھینکنا چاہتی ہے، یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ حکومت ہم نہیں اداروں کے لوگ چلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  حکومت نے اگر چھوٹے صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو مسلم لیگ(ن)دیوار چین بنے گی،بیرون ملک سے آنے والی ریلیف فنڈز کاحساب پارلیمنٹ میں پیش کرے،کرونا وائرس کی مانیٹرنگ کیلئے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی جائے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50روپے کی جائے، تعلیم کیلئے ایمرجنسی پروگرام وضع کیا جائے، بجلی اور گیس کی قیمت میں ایک تہائی کمی کرے، اپنی جیبیں نہ بھرے، چین کو تعاون پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -