ظالم ما ں باپ نے لے پالک بیٹی کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ،پھر ان کے ساتھ کیا ہوا؟ 

ظالم ما ں باپ نے لے پالک بیٹی کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ،پھر ان کے ...
ظالم ما ں باپ نے لے پالک بیٹی کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ،پھر ان کے ساتھ کیا ہوا؟ 

  

کوریا (رضا شاہ) جنوبی کوریا میں لے پالک بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارنے والی عورت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سیول کی جنوبی ضلعی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ عورت نے جان بوجھ کر اپنی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بچے کی موت ایک حادثہ تھا۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق 16 ماہ کی بچی پچھلے سال فروری میں گود لی گئی تھی اور دس ماہ بعد ہی اکتوبر میں پیٹ کی شدید چوٹوں اور اندرونی خون بہنے کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات ، ہڈیوں کے ٹوٹنے اور زخموں کے نشانات بھی مل گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ماں بیٹی کے پیٹ کے حصے پر تشدد کرتی رہی ۔لے پالک بیٹی پر تشدد میں ماں کی معاونت کرنے پر باپ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عورت پر ابتدائی طورپر بچی پر تشدد کا الزام لگایا گیا تھا لیکن بعد ازاں استغاثہ نے شکوک و شبہات پیدا ہونے کے بعد فرانزک ماہرین کے ساتھ اس کی موت کی وجہ کا جائزہ لینے کے بعد قتل کے الزام کا اضافہ کیا تھا کہ عورت کا شاید بچی کو مارنے کا ارادہ تھا ، یا کم از کم اس بات کا علم تھا کہ لڑکی مشتبہ مار پیٹ اور ناروا سلوک سے ہلاک ہوسکتی ہے۔ اس سال کے شروع میں نشر کی جانے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس معاملے پر توجہ دلائی گئی کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانوں کے باوجود پولیس اور بچوں کی فلاح و بہبود کے ادارے اس سانحے کو روکنے میں کس طرح ناکام رہے۔ جنوبی کوریا پولیس کے چیف نے پولیس کے ابتدائی رد عمل اور ناکافی تحقیقات پر معذرت کی۔ عورت کے بارے میں بچی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بارے میں پانچ ماہ کے عرصے میں تین اطلاعات ملی تھیں۔

مزید :

بین الاقوامی -