اسرائیل کی طاقت کا راز۔۔۔

اسرائیل کی طاقت کا راز۔۔۔
اسرائیل کی طاقت کا راز۔۔۔

  

ماضی میں ہم نے دیکھا کہ جب بھی کسی جگہ مسلمانوں پر افتاد آتی تھی پاکستان میں جگہ جگہ مظلومین کے لیے "امدادی کیمپ "لگ جاتے تھے۔۔۔دہلی،لال قلع،تل ابیب اورواشنگٹن پر اسلام کے جھنڈےلہرانے کے نعروں پر مبنی تقریروں اور ترانوں کی گونج سنائی دیتی تھی۔۔۔

غزہ لہو لہو ہے اور یہاں سناٹےہیں۔کہاں گئیں وہ قرآنی آیات اور کہاں گئیں دعوت وعزیمت کی داستانیں اور شہدا ء کے قصے؟؟؟ یہ سناٹا اور سکوت کیا خود نہیں بتا  رہا کہ وہ سب کچھ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت تھا جسکا دین سے زیادہ دنیا سے تعلق تھا ؟؟؟ولن تجد لسنت اللہ تبدیلا  کے تحت ضابطے تو ایک ہی رہتے ہیں۔۔۔الجہاد ماض الی یوم القیامہ کی حدیث کی روشنی میں اپنی تحریکوں کو دوام دینے والے آج کدھر ہیں؟؟

    ملت اسلامیہ کو پستی کی تہوں سےنکالنےمیں نہ ہی ڈیڑھ ارب افراد پر مبنی آبادی متاثر کن ثابت ہورہی ہے ، نہ درجنوں مسلم حکومتیں مسلمانوں کو بحران سے نجات دینے میں معاون ثابت ہورہی ہیں اور نہ ہی تیل، پٹرول اور گیس اور دیگر معدنی وسائل ملت اسلامیہ کو ترقی دینے میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ماضی میں صورتحال اسکے برعکس تھی۔ 

تاریخ بتاتی ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس افرادی قوت نہ تھی ، نہ ان کے پاس حربی سازو سامان تھا اور نہ ہی ان کے پاس قدرتی وسائل تھے، پھر بھی انہوں نے ترقی کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا تھا اور عالمی سطح پر اپنا مقام بنا یا تھا۔ دنیا بھر میں وہ شجاعت و بہادری میں تو مشہور تھے ہی  لیکن سائنس، ٹیکنالوجی اور مختلف علوم میں بھی انہوں نے اپنی بالادستی قائم کر رکھی تھی۔۔۔۔ ان کی تہذیب کے دنیا بھر میں چرچے تھے۔۔۔ ان کے عدل و انصاف کے اپنے وبیگانے سب قائل تھے۔۔۔ وہ ایک زندہ قوم تھے ، جو دنیا کی قیادت و امامت کرنے کیلئے پیدا ہوئے تھے۔

بدقسمتی سے یہاں کبھی مذہب اور کبھی جمہوریت کے خوشنما نعروں کے نام پر ہمیشہ قوم کو بیوقوف بنایاگیا۔۔۔اسرائیل کی جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائےکم ہے۔یہودی ہمار ا ازلی دشمن ہےلیکن ہم نے کبھی سوچا کہ آج 61 لاکھ یہودیوں کا اسرائیل کیوں اتنا طاقتور ہے کہ وہ جو چاہے کرتا ہے اور کوئی اس کو روکنے والا نہیں؟؟؟ دنیا میں بے خانماں اور در بدر پھرنے والی یہودی قوم آج اس قدر طاقتور کیسے بن گئی؟؟۔

 اسی یورپ میں جب یہودی کسی بستی میں آتے تھے تو ان کو وہاں سے نکال دیا جاتاتھا مگر آج یورپ کو وہ کیسے قابو کیے ہوئے ہیں؟؟؟ جواب کوئی مشکل یا پیچیدہ نہیں ہے،انہوں نے محنت کی، اپنا دماغ استعمال کیا، علوم وفنون میں مہارت حاصل کی ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایسے بڑھے کہ 193 نوبل انعامات لے اڑے۔ 

لاہور سے کم آبادی والے ملک کی تین یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی ایک سو بہترین یونیوسٹیوں میں شامل ہیں۔ یہی اسرائیل کی طاقت کا راز ہے جس نے اُسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ مسلم دنیا بے عملی، جہالت، سستی اور علم کی روشنی سے دور رہی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ قرآن حکیم بار بار غور وفکر، تحقیق و جستجو اور کائنات کے علوم جاننے کا حکم دیتا ہے مگر ہم نے اُسے پس پشت ڈال کر دین کو مذہب میں بدلا اور پھر رسمی عبادات کو ہی سب کچھ سمجھ لیا جس کا نتیجہ قانون قدرت کی رو سے ذلت و رسوائی ہمارے سامنے ہے کیونکہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

ہمیں جذبات اور تصورات کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندانہ انداز میں اپنا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ اندھیرے کو کوسنے کی بجائے اپنا چراغ درست کرنا ہوگا۔ Knowledge is Power کو امت مسلمہ کے ہر فرد کو سامنے رکھنا چاہیے۔ جرمنی، جاپان اورایسی دوسری اقوام سے سبق سیکھنا ہو گا جنہوں نے شکست کے بعد علم کی شمع ہاتھ میں لے کر ایک نئے عزم اور ولولہ سےجدوجہد کرکے دنیا میں پھر اپنا مقام حاصل کرلیا

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -