اسرائیل اور انڈیا کے خلاف مظاہرے ، مقبوضہ کشمیر سے تین درجن سے زائد نوجوان گرفتار 

 اسرائیل اور انڈیا کے خلاف مظاہرے ، مقبوضہ کشمیر سے تین درجن سے زائد نوجوان ...
 اسرائیل اور انڈیا کے خلاف مظاہرے ، مقبوضہ کشمیر سے تین درجن سے زائد نوجوان گرفتار 

  

سری نگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کےغیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے سرینگر ، پلوامہ ، کولگام اور شوپیاں اضلاع سے معروف حریت رہنما مولانا سرجان برکاتی سمیت تین درجن کے قریب نوجوان گرفتار کر لیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے اسرائیل اور بھارت کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں سرینگر کے بادشاہی باغ اور دیگر علاقوں سے 28نوجوان گرفتار کر لیے، سرجان برکاتی کو ضلع شوپیاں میں اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا،انہوں نے 2016میں معروف نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد چلنے والی احتجاجی تحریک کے دوران آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مخصوص طرز اوردلکش انداز کے نعروں سے شہرت پائی تھی ۔

ضلع پلوامہ سے ایک معلم سمیت متعدد نوجوان گرفتار کیے گئے جبکہ ایک فلسطینی خاتون کی تصویر بنانے والے مدثر گل نامی سرینگر کے ایک مصور کو گرفتار کر کے ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا۔کٹھ پتلی  پولیس نے ضلع کولگام میں جماعت اسلامی کے تین کارکنوں کو بھی کالے قانون کے تحت گرفتار کر لیا ۔ مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں نے کرفیو کے باوجود بھارت اور اسرائیل مخالف مظاہرے کیے۔

دوسری طرف کل جماعتی حریت کانفرنس کے انسانی حقوق امور کے سیکرٹری ارشد عزیز نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نسل کشی رکوانے کیلئے فوری مداخلت کرے، ،کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور وہ بدترین بھارتی محاصرے کے دوران مصائب و مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں۔حریت رہنماؤں غلام محمد خان سوپوری، خواجہ فردوس ، عبدالصمد انقلابی اور غازی منظور احمد نے اپنے بیانات میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل اور بھارت کو فلسطینیوں اور کشمیریوں کے قتل عام سے روکے۔ جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ فرقہ پرست بھارتی حکمران ملک کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے اقلیتوں اور کشمیری مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔

جموں خطے میں کئی آزادی پسند تنظیموں کے اتحاد یونائیٹڈ پیس الائنس نے ایک بیان میں جیلوں میں کورونا وائرس کے پھیلا کے پیش نظر کشمیری سیاسی نظر بندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں تباہ کن کورونا کے باعث وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ہر گزرنے دن کے ساتھ غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے اور بھارتی یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی حکومت نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کو اپنے غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی طرز عمل کے لئے کورونا قہر کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ بھارتی عوام کو ہسپتالوں میں بیڈوں ، آکسیجن ، وینٹی لیٹروں، ادویات اور ویکسین کی قلت کا بڑے پیمانے پر سامنا ہے اور انکا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں بے یا ر ومدد گار چھوڑ دیا ہے ۔

رپورٹ میں معروف بھارتی صحافی برکھا دت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں دریاں کے اندر سینکڑوں نامعلوم لاشیں تیر رہی ہیں، برکھا دت نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرنے والوں کے اعداد وشمار میں ہیرا پھیری تو کر سکتے ہیں لیکن دریاں سے برآمد ہونے والی لاشیں ہرگز چھپا نہیں سکتے۔ ادھر نامعلوم افراد نے سرینگر کے علاقے صفاکدل میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک کیمپ پر پٹرول بم داغ دیا تاہم واقعے میں کسی اہلکار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

مزید :

علاقائی -آزاد کشمیر -مظفرآباد -