چین کو خلا میں اہم کامیابی مل گئی ،مریخ پر اپنا ربورٹ اتار دیا 

چین کو خلا میں اہم کامیابی مل گئی ،مریخ پر اپنا ربورٹ اتار دیا 
چین کو خلا میں اہم کامیابی مل گئی ،مریخ پر اپنا ربورٹ اتار دیا 

  

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن )چین کا ’ڑوررونگ‘نامی ربورٹ کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتر گیا ،ربورٹ نے مریخ کے نصف کرّہ شمالی میں موجود ایک وسیع میدانی علاقے یوٹوپیا پلینیٹیا پر لینڈ کیا۔برطانوی نشریاتی ادرے بی بی سی کے مطابق اب تک صرف امریکہ نے ہی مریخ پر کامیابی سے لینڈ کرنے میں ملکہ حاصل کیا تھا۔ یہ کوشش کرنے والے دیگر تمام ممالک کے لینڈرز یا تو کریش کر گئے یا پھر سطح پر اترنے کے فوراً بعد ہی ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

چینی سرکاری میڈیا نے قومی خلائی انتظامیہ کے حوالے سے ہفتے کے روز بتایا کہ یہ خلائی گاڑی کامیابی کے ساتھ مریخ کی سطح پر اتار دی گئی ہے،اس خلائی گاڑی نے بحفاظت اترنے کے لیے ایک حفاظتی کیپسول، ایک پیراشوٹ اور ایک راکٹ پلیٹ فارم کا استعمال کیا،اسے اپنے سولر پینلز پھیلانے اور زمین پر سگنل واپس بھیجنے میں 17 منٹ لگے۔

ڑورونگ کا مطلب آگ کا خدا ہے۔ چینی انجینئرز کو سگنلز پہنچنے میں تاخیر سے بھی نمٹنا تھا۔ مریخ اس وقت ہم سے 32 کروڑ کلومیٹر دور ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں سے بھیجا گیا ریڈیو سگنل زمین پر پہنچنے میں تقریباً 18 منٹ لگتے ہیں۔سائنسدانوں کو توقع ہے کہ وہ اس روور سے 90 مریخی دنوں تک کام لے سکتے ہیں جس دوران یہ وہاں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ مریخ کا ایک دن 24 گھنٹوں اور 39 منٹ کا ہوتا ہےاس روور پر ایک لیزر موجود ہے جس سے یہ وہاں موجود پتھروں کی کیمیائی ساخت کا پتا لگا سکتا ہے جبکہ اس پر ایک ریڈار ہے جس کا کام زیر سطح پانی تلاش کرنا ہے۔

یوٹوپیا پلینیٹیا وہی خطہ ہے جہاں پر ناسا نے سنہ 1976 میں اپنا وائیکنگ ٹو مشن اتارا تھا۔یہ تین ہزار کلومیٹر پر پھیلا ایک وسیع و عریض علاقہ ہے اور کچھ ثبوت ہیں کہ یہ کسی زمانے میں سمندر ہوا کرتا تھا۔سیٹلائٹس کی لی گئی تصاویر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس کی گہرائی میں بڑی مقدار میں برف موجود ہے۔

 امریکہ کے خلائی ادارے ناسا میں ہیڈ آف سائنس تھامس زربوچن نے چین کو مبارک باد دی اور کہا میں عالمی سائنسی برادری کے ہمراہ پرامید ہوں کہ اس مشن کے ذریعے سرخ سیارے کے بارے میں انسانی علم میں اضافہ ہوگا۔روسی خلائی ایجنسی روس کوسموس نے کہا کہ یہ کامیابی مستقبل میں روس اور چین کے خلائی شعبے میں تعاون کے لیے اچھا شگون ہے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -