مرہٹوں نے حیدر آباد لینے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے

 مرہٹوں نے حیدر آباد لینے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے
 مرہٹوں نے حیدر آباد لینے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے

  

مصنف : ای مارسڈن 

 جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ مہاراشٹر وہاں تھا۔ جہاں اب احاطہ بمبئی ہے۔ اس کا راجہ مرہٹوں کا برائے نام راجہ تھا۔ وہ ستارا میں رہتا تھا، لیکن دراصل ملک کا حکمران پیشوا تھا جو بمبئی سے 70میل کے قریب جنوب مشرق کو پونا میں رہتا تھا۔ گجرات ایک مرہٹہ سردار کی حکومت میں تھا جو گائکواڑ کہلاتا تھا۔ مالوے میں 2 رئیس تھے۔ ہلکر جس کا دارالحکومت اندور تھا اور سندھیا جس کا دارالسلطنت گوالیار تھا۔ برار اور گونڈوانے میں جو اب ملک متوسط کا صوبہ کہلاتا ہے۔ بھونسلا راجہ تھا اس کا دارالریاست ناگپور تھا۔

 یہ ریاستیں موروثی تھیں، یعنی باپ کے بعد بیٹا گدی پر بیٹھتا تھا۔ پس مہاراشٹر کے علاوہ مرہٹوں کی چار چار بڑی بڑی ریاستیں اور تھیں۔ اول اول ان ریاستوں کے حکمران جو چوتھ وصول کرتے تھے۔ پیشوا کے پاس بھیج دیتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے چوتھ کا بھیجنا بند کر دیا۔ ان میں سے 3 ریاستیں اب تک موجود ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ گجرات یا بڑودہ، گوالیار، اندور۔

 مرہٹوں نے حیدر آباد لینے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ نظام حیدر آباد اور مرہٹوں میں برابر جنگ و جدال ہوتی رہی۔ مرہٹے چوتھ مانگتے تھے۔ نظام نے جہاں تک ہو سکا چوتھ دینے سے انکار کیا۔

 تیسرا پیشوا بالا جی باجی راﺅ تھا۔ یہ اپنے باپ اور دادا کے بعد 1740ءسے 1761ءتک فرمانروا رہا۔

 اورنگزیب کی وفات کے 50 سال بعد ہند کی حالت بہت کچھ وہی ہو گئی تھی جو کسی زمانے میں پٹھان بادشاہوں کے عہد میں رہی تھی، یعنی اس کے مرکز میں کوئی ایسی زبردست سلطنت نہ تھی کہ جیسی اب ہے اور رعایا کو قزاقوں سے بچاتی ہے اور اس کی جان و مال کی حفاظت کرتی ہے۔ مرہٹہ قزاقوں کے دَل کے دَل ملک میں پھرتے تھے۔ انپے گھوڑوں کے لیے کسانوں کی کھڑی کھیتیاں کاٹ ڈالتے تھے اور رعیت کو لوٹتے مارتے تھے۔ اس زمانے میں ہر گاﺅں کے گرداگرد مضبوط فصیلیں تھیں اور چاروں طرف کانٹوں کی باڑ لگائی جاتی تھی تاکہ لٹیرے نہ گھس آئیں۔ کسان ہل جوتنے جاتے تھے تو اپنی تلوار ساتھ لے جاتے تھے۔ اونچے اونچے مچانوں پر نگہبان بٹھائے جاتے تھے تاکہ وہ ہر طرف دیکھتے رہیں اور قزاقوں کے آنے کی گرد اٹھتی دیکھیں تو بتا دیں۔ ہر گاﺅں میں ایک بڑا جید دھونسا تھا۔ جس کی آواز ایک ایک میل کے فاصلے پر سنائی دیتی تھی۔ یہاں قزاق آتے دکھائی دیئے اور دھونسے پر چوٹ پڑی۔ لوگ آواز سنتے ہی کھیتوں سے بھاگ کر گاﺅں کی فصیل کے اندر چلے جاتے تھے۔

 راستے لٹتے تھے۔ اپنی حفاظت کے لیے سپاہیوں کو ساتھ لینے کے بغیر لوگ سفر پر نہیں جاتے تھے۔ علاقے کے علاقے بے تردد پڑے تھے، جو چند سڑکیں پہلے وقتوں کی بنی ہوئی موجود تھیں۔ خراب خستہ حالت میں تھیں۔ کوئی ان کی غور و پرداخت نہ کرتا تھا۔ گاڑیوں کا استعمال چھوٹ گیا تھا۔ لوگ گھوڑوں یا بیلوں پر چڑھ کر سفر کرتے تھے۔ ہر علاقے کا جدا سردار تھا۔ مسافر جب تک ان کو کچھ نذر نہ دیتے تھے۔ وہ ان کو اپنے علاقے سے گزرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ یہ اتروائی کہلاتی تھی۔ بعض دفعہ 20 میل کے سفر میں دس بارہ جگہ اتروائی دینا پڑتی تھی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -