دریا ئے ہنزہ سرمئی پانی سے لبا لب بھراہواتھا اور اس پر 1 نہیں 2معلق پُل تھے

دریا ئے ہنزہ سرمئی پانی سے لبا لب بھراہواتھا اور اس پر 1 نہیں 2معلق پُل تھے
دریا ئے ہنزہ سرمئی پانی سے لبا لب بھراہواتھا اور اس پر 1 نہیں 2معلق پُل تھے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :75

دریا ئے ہنزہ سرمئی پانی سے لبا لب بھراہواتھا۔یہاں دریا کا پاٹ بہت زیادہ تھا۔ اور اس پر ایک نہیں دومعلق پُل تھے۔پہلو بہ پہلو۔ ایک تو صرف پُل کی یادگار تھا جو کب کا ختم ہو چکا تھا اور اس کا ڈھانچا باقی رہ گیا تھا۔ ٹوٹی ہوئی آ ہنی تاریں گچھا مچھا ہو کر نیچے دریا میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ بہت سے تختے اپنی جگہ سے الگ ہو کر ادھر ادھر جھولتے تھے۔ یہ غالباً پرانا پل تھاجو 1960 میں صدر ایوب خان کی ہدایت پر، جب وہ یہاں شکار کے لیے آیا تھا، زر آباد کو حسینی سے ملانے کے لیے بنا یا گیا تھا۔ مگر کریم آباد والے پوسٹر میں تو ایک پل تھا؟ ہو سکتا ہے فوٹو شاپ کیا گیا ہو۔ ٹیکنالوجی نے اصل نقل کو بری طرح گڈمڈ کر دیا ہے۔ کسی چیز کا اعتبار نہیں رہا۔ فیس بک پر نظر آنے والے حسین چہروں کو زندگی میں دیکھیں تو بات کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ 

 اس کے ساتھ ہی دوسرا پُل تھا۔ لیکن تصویر ایک چیز ہے اور حقیقت میں ایک ایسے پُل پر خود پاؤں رکھنا ایک با لکل مختلف کام ہے جس پر بے ترتیب فا صلوں پر لکڑی کے ٹیڑھے میڑھے تختے 5 آ ہنی متوازی تاروں میں چٹا ئی کی طرح بُنے ہوئے ہوں۔جو ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوں اور ان میں قدم بھر سے زیادہ بے ترتیب فاصلہ ہو۔اور بہت نیچے تیز دریا بہتا ہو اور ہاتھوں کے سہارے کے لیے لو ہے کے تار ہوں جو کافی ڈھیلے ہوں اور پکڑنے پر جھولتے محسوس ہو تے ہوں۔

 میں نے ہوا میں دو تین چھلانگیں لگا کر ٹارزن کی طرح”یا ہو“ قسم کی آوازیں نکالیں۔ پُل کو دیکھ کر مجھے جو خوشی ہوئی تھی وہ اب اس سوال میں بدل گئی تھی کہ اس پُل پر قدم کیسے رکھا جائے؟ میں نے اپنے کندھے کا تھیلا، کیمرا اور اس کا ٹرائی پاڈ زمین پر رکھے اور جھجکتے ہوئے پہلے تختے پر پاؤں رکھا۔پھر دوسرا قدم بڑھایا۔ میںاب زمین سے الگ دریا کے تیز بہتے سرمئی پانی کے اوپر تھا۔ میں نے آہنی تار کو اتنی مضبو طی سے پکڑ رکھا تھاکہ ہاتھوںمیں پسینا آگیا تھا۔ میں چند قدم اور آ گے بڑھالیکن اب ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ تختوں میں فاصلہ ہو نے کی وجہ سے مجھے مسلسل نیچے دیکھنا پڑتا تھاکیوں کہ بے دھیانی میںاٹھا کوئی بھی غلط قدم، کوئی بھی لغزش آپ کو نیچے دریائے ہنزہ کے ٹھنڈے اور کروٹیں لیتے پانی کی آغوش میں لے جا سکتے تھے لیکن نیچے دیکھتے ہوئے تختوں کے بیچ سے دریا کا بہاؤ بھی نظر آتا تھا۔ میں نے نیچے دیکھتے ہوئے چند قدم طے کیے تو اچانک تختوں کے بیچ بہتادریا تھم گیا اور پل بھاگنے لگا۔مجھے لگا میں اپنا توازن بر قرار نہیں رکھ پاؤں گا اوردریا میں گر پڑوں گا۔ مجھے اپنی ٹا نگوں میں ہلکی سی لرزش کے ساتھ ہڈیاں پگھلتی محسوس ہوئیں۔ یوں لگا جیسے میری ٹانگیں موم کی بنی ہیں اور کسی بھی لمحے میرے جسم کے بوجھ سے دوہری ہو جائیں گی۔ میں نے گھبرا کر چہرہ ایک دم اوپر کر کے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ جس سے ذرا اوسان بحال ہوئے۔لیکن اب مجھے نیچے دوبارہ دیکھتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ اور نیچے دیکھے بغیر قدم اٹھا نا ممکن نہیں تھا۔ پُل پر ہوا تیز تھی اور میرے جسم کو ایک طرف دھکیلتی تھی۔یوں آسمان کی طرف مونھ کیے کتنی دیر رکا جاسکتا تھا؟ میری ہمّت جواب دے چکی تھی۔ میرے دوستوں کو علم نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ کوئی مقامی آ دمی بھی آس پاس نہیں تھا۔ اگر کوئی حاد ثہ ہو جاتا تو کسی کو پتہ بھی نہ چلتا کہ کون پاگل پُل پر آیا تھا اور کہاں گیا؟میں نے مڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ لیکن مڑنے کے لیے ایک تو مجھے آ ہنی رسوں سے ہاتھ اٹھانے تھے اور پھر پورا گھومناتھا۔اور یہ کام ایک علا حدہ اور اضا فی ہمت چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت بھی نہیں تھی۔ میں نے حوصلہ مجتمع کر کے دایاں ہاتھ آہنی رسے سے الگ کیا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دونوں ہاتھوں سے بائیں ہاتھ والے رسے کو پکڑ لیا۔پھر آہستہ آہستہ گھوما اور بائیں ہاتھ سے مخالف رسے کو پکڑ لیا۔اب میرا مونھ واپس حسینی کی طرف تھا۔ اس پوزیشن میں صورت ِ حال حوصلہ بخش تھی۔ پُل کا طویل حصہ میرے عقب میں تھا اور میں زمین سے چند ہی فٹ کے فا صلے پر تھا۔ اگلے ہی لمحے میرے پاو¿ں حسینی کی زمین پر تھے۔ میں ایک طرف سائے میں بیٹھ کر سستانے لگا۔ پیاس لگی تھی لیکن میں اپنی پانی کی بو تل علی آباد میں جوبلی ہو ٹل پر ہی چھوڑ آیاتھا۔ یہ پُل تو پورا پُل صراط تھا، جس کی خوف ناک تفصیل مولوی سے سن کر دیہا تی نے کہا تھا کہ ”یہ تو نہ گزارنے والی باتیں ہیں۔“ شا ید یہ بھی ایک نہ گزرنے والا پُل تھا جسے صرف سیا حوں کی دلچسپی کے لیے بنایا گیاتھا۔ بائیں ہاتھ دریا کے پار پسو کونز والے پہاڑ تھے لیکن دوپہر کی دھوپ میں کونز زیادہ نمایاں نہیں تھیں۔ان کی خوب صورتی ترچھی دھوپ میں وا ضح ہوتی ہے۔

”یہ کون ہے؟“ 

مجھے پُل کے پرلے سرے پر ایک متحرک نقطہ نظر آیا جواِس طرف آرہاتھا۔میں تجسس سے ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔وہ نقطہ بتدریج بڑا ہو نے لگا۔ پھر وہ ایک انسان میں بدلنے لگا۔ پھر وہ ایک ایسے انسان میں بدل گیا جس نے کمر پر بوجھ اٹھا رکھا تھا۔”اس کا مطلب ہے لوگ واقعی اس پُل کے آر پار آتے جاتے ہیں!“ میں نے حیرت سے سوچا۔ آ نے والااب پُل کے نصف تک آچکا تھا اور اس کی خمیدہ کمر پر سبز گھاس کا وزنی گٹھا مجھے واضح دکھائی دینے لگا تھا۔ وہ آدمی سر جھکائے اس طرح اطمینان سے چل رہاتھا جیسے شہر کی کسی گلی سے گزر رہاہو۔اس نے رسوں کا سہارا بھی نہیں لیا ہوا تھا، گٹھے کو باندھنے والے کپڑے کی گرہ ماتھے پر اٹکا رکھی تھی اور ہاتھ آزاد چھوڑرکھے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ حسینی والے سرے پر پہنچا تو مجھے یہ دیکھ کر مزید حیرت ہو ئی کہ وہ کوئی آدمی نہیں ایک بو ڑھی ہنزائی عورت تھی اور غالباً دریا پار زر آباد کی چرا گاہ سے مویشیوں کے لیے چارا لے کر آئی تھی۔اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی نہ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ ہنزائی عورت کے متعلق میرا خیال ہے کہ وہ یہاں کے مردوں سے بھی زیادہ جفا کش اور محنتی ہے۔ میں نے قریب پہنچنے پر اٹھ کر بوڑھی عورت کو سلام کیاجس کے جواب میں اس نے آہستہ سے ”وعلیکم سلام“ کہا اور گاؤ ں کا راستہ چڑھنے لگی۔

ان لوگوں کے لیے یہ معمول کا کام تھا۔ میں نے پہلی بار ایسا کوئی پُل آنکھوں سے دیکھا اور اس پر قدم رکھاتھا۔ میں پُل کو دیکھ کر بہت خوش تھا لیکن اسے پھر کبھی طا ہر کے ساتھ عبور کرنے کا سوچ کر واپسی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ پُل دا بھلا تے پُل دی خیر۔ زندگی رہی تو پھر سہی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -