موجودہ اور سابق حکومتوں کا ایجنڈا معیشت کی تباہی ہے،لیاقت بلوچ

 موجودہ اور سابق حکومتوں کا ایجنڈا معیشت کی تباہی ہے،لیاقت بلوچ

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے پاکستان بزنس فورم کی میثاق معیشت سیمینار، سید مودودی سالانہ ڈنر اور عوامی وفود، سیاسی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں کا مشترکہ ایجنڈا معیشت کی تباہی، آئی ایم ایف کے ساتھ بدترین شرائط پر معاہدوں پر عملدرآمد، قومی حالات، قومی ترجیحات پر مجرمانہ غفلت اور عوام پر مہنگائی، بے یقینی کے کوڑے برسانا ہے۔ عمران خان عوامی جلسوں میں وہ زبان اور بیانیہ اختیار کررہے ہیں جو خود ان کے لیے تباہی اور ملک کے لیے نقصان کا باعث ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ میثاق معیشت پر تمام سٹیک ہولڈرز کو متحد ہونا ہوگا۔ قرضوں، کرپشن، بدانتظامی اور مفادات کے نظام سے نجات کے لیے نامور صنعت کار اہم ترین جوہری کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بزنس کمیونٹی معیشت کی اصلاح کے لیے مضبوط پریشر گروپ کا کردار ادا کرے۔ وفاقی شرعی عدالت نے سود سے پاک معاشی نظام کے لیے تاریخ ساز فیصلہ دیا ہے۔ حکومت، ماہرین، پالیسی ساز اور بزنس کمیونٹی نئے معاشی نظام کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔ مسلم لیگ ن قیادت کے لندن میں ڈیرے ان کے لیے عوام کا پیغام مایوسی ہے۔ عمران خان سرکار تو نااہل، ناکام ہوگئی لیکن مخلوط حکومت کا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے کوئی مشترکہ ایجنڈہ سامنے نہیں آیا. مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔، ڈالر بے قابو اور روپیہ بے قدری کا شکار ہے۔ پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ اقتصادی سٹرکچر کی کی بنیادیں کھوکھلی کررہا ہے۔لیاقت بلوچ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن النہیان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور اسرائیلی صیہونی دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ کے وحشیانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے مظالم سے فلسطینیوں اور کشمیریوں کو نجات دلانے کے لیے اقوام متحدہ  اور عالمی برادری کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی، جانبداری اور بے حسی انسانیت کی توہین ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -