جون: پاکستانی میدانوں میں کالی آندھی چلے گی

جون: پاکستانی میدانوں میں کالی آندھی چلے گی

  

افضل افتخار

ویسٹ انڈیز کی ٹیم آئندہ ماہ پاکستان میں تین ون ڈے میچز کھیلے گی۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز  8، 10 اور 12 جون کو ہوں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نئے کھلاڑیوں کو سیریزمیں کھیلنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گا تاکہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے اس حوالے سے  ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی ہوم سیریز کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 50 سے زائد کھلاڑیوں کو طلب کرلیا۔ پی سی بی نے ویسٹ انڈیز ٹیم کے دورہ کے دوران پاکستان سپر لیگ، ڈومیسٹک کرکٹ اور کاؤنٹی چیمپئین شپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو بلوایا گیا ہے۔پی سی بی کی جانب سے 25 کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جس کے بعد کھلاڑیوں کے فٹنس لیول اور پرفارمنس پر انہیں اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ کیمپ 15 سے 25 مئی جبکہ اسکواڈ کا حتمی اعلان 27 سے 29 مئی کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔جبکہقومی سلیکشن کمیٹی اور کرکٹ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کے ور ک لوڈ کو سامنے رکھتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی ہوم سیریز میں چند نئے کھلاڑیوں کو موقع دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی مشاورت ہوئی ہے۔ چیف سلیکٹر محمد وسیم،ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور کپتان بابر اعظم نے ٹیم سلیکشن، قومی کیمپ اور سینٹرل کنٹریکٹ کی ابتدائی فہرست پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں موسم گرم ہے اس لئے شاید طویل کیمپ نہ لگایا جائے۔ ویسٹ انڈیز کی سیریز کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مصروف سیزن شروع ہوجائے گا جو مئی میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان تک جاری رہے گا۔ اس لئے سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ چاہتی ہے کہ کچھ کھلاڑیوں کو آرام دے کر کچھ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔ اس وقت پاکستان کے سات کھلاڑی انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے چار کھلاڑی ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز میں حصہ لیں گے۔ محمد وسیم، ثقلین مشتاق اور بابر اعظم کے ابتدائی بات چیت کی ہے تاہم اس بارے میں مشاورت اگلے چند دن مزید جاری رہے گی۔ سینٹرل کنٹریکٹ یکم جولائی سے شروع ہوں گے لیکن اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے بجٹ کی تیاری کرنا ہے۔ بجٹ میں طے کیا جائے گا کہ کھلاڑیوں کی معاوضوں میں کتنا اضافہ کیا جاتا ہے۔ پی سی بی بیس فیصد تک اضافہ چاہتا ہے۔ لیکن جب بجٹ تیار ہوگا اس وقت پتہ چلے گا کہ بورڈ سینٹرل کنٹریکٹ اور اے پلس کیٹیگری میں کتنے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دے گا او ر معاوضے میں کتنا اضافہ ہوگا۔ گذشتہ سال اے پلس کیٹیگری میں دس کھلاڑیوں کو ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے دیئے گئے تھے۔مشاورت مکمل ہونے پر جلد قومی کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ بورڈ آف گورنرز کو منظوری کے لئے پیش ہوں گے۔ ابتدائی مشاورت میں نئے کنٹریکٹ کے مسودے بجٹ، کیٹگریز، معاوضوں میں اضافہ،کھلاڑیوں کی تعداد پر بات چیت ہوئی ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور ہیڈکوچ ثقلین مشتاق نے اپنی رائے دے دی ہے۔ دونوں بیس فی صد تک زیادہ اضافہ کے حق میں ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹرز اور کوچز کے کنٹریکٹ اور تعداد کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔ نئے مالی سال سے قبل تمام کنٹریکٹس کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تک ویسٹ انڈیز کی سیریز پنڈی سے منتقل کرنے کی تجویز نہیں ہے تاہم سیاسی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو کراچی اور ملتان کو متبادل وینیو کے طور پر رکھا جاسکتا ہے۔ ملتان میں سب سے بڑا مسئلہ ہوٹل کا ہے۔ دونوں ٹیموں، میچ آفیشلز اور براڈ کاسٹ کریو کے لئے پی سی بی کو125کمروں کی ضرورت ہے۔ ملتان میں تین سال پہلے پی ایس ایل کے میچ ہوئے تھے۔ پی سی بی نے کراچی کو بھی بیک اپ وینیو کے طور پر رکھا ہے۔ کراچی میں کئی ہوٹل موجود ہیں۔نیشنل اسٹیڈیم میں پچو ں کی کھدائی کی گئی تھی لیکن اب بھی دو پچیں ایسی ہیں جن پر ویسٹ انڈیز کے میچ ہوسکتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی تک تینوں ون ڈے پنڈی ہی میں شیڈول ہیں۔جبکہ دوسری جانب پاکستانی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی سیریز میں ٹیسٹ کرکٹ کو بھرپو انجوائے کیا۔ ورلڈ نمبر ایک لیبوشین کو پانچ بار آؤٹ کرنا اعزاز کی بات ہے، محنت کررہا ہوں، نئی گیند سے پاکستان کو بریک تھرو دلوانے کی کوشش کرتا ہوں۔ رضوان، بابر کے ساتھ مل کر جس طرح ٹیم کے لے کر چل رہا ہے، اس سے پاکستان کو فائدہ ہورہا ہے اسی لئے میں اسے سپر مین کہتا ہوں کیوں کہ اس کے پاس سے گیند کو نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی نے جس طرح اپنے آپ کو امپروو کیا ہے اور وہ جس طرح میچ میں جاکر کارکردگی دکھاتا ہے وہ حیرا ن کن ہے۔ میں جب بھی اسے گیند دیتا ہوں مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ مجھے وکٹ لے کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ دعا یہی ہے کہ وہ اسی طرح کارکردگی دکھائے۔ وہ بولنگ کے ساتھ فیلڈنگ میں بھی جان مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے جو رول ملے اور اس میں وہ کردار ادا کرے۔ شاہین شاہ بہترین بولر ہے اور مزید ریکارڈز اور کارنامے اپنے آپ سے منسوب کرے گا۔ بابر اعظم نے کہا کہ محمد رضوان مجھے ہر وقت اچھے مشورے دیتے ہیں۔ وہ کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوتا اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے۔ نائب کپتان محمد رضوان نے کہا کہ اس میں جتنی انرجی ہے ٹیم کو کھڑا کرنے میں 70 فیصد ہاتھ شاہین کا ہے۔ شاہین شاہ آکر فیلڈنگ میں بھی نام پیدا کیا۔پاکستان کی فیلڈنگ کا معیار اس لئے بہت زیادہ ہے کہ شاہین کے علاوہ حسن علی، حارث رؤف اور وسیم جونیئر بہت اچھے فیلڈر ہیں۔ جہاں ٹیم مشکل میں ہوتی وہ سب سے آگے ہوتا ہے اللہ تعالی نے اسے بعض معاملات میں خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے کہا کہ آسٹریلیا کے تیسرے ٹیسٹ میں شاہین تھکاوٹ کا شکار تھا اور ورک لوڈ کی وجہ سے لگ رہا تھا کہ اسے آرام کی ضرورت ہے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ پاکستان کو میری ضرورت ہے میچ سیریز کا فیصلہ کن میچ ہے میں کھیلوں گا۔ شاہین پاکستان کو سامنے رکھ کر فیصلہ کررہا ہے۔ وہ گیم چینجر اور میچ ونر کھلاڑی ہے۔ محمد رضوان کی موجودگی سے ٹیم کو انرجی ملتی ہے۔ میں پانچ چھ ماہ سے ٹیم کے ساتھ ہوں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تگڑا ہے۔ اس کی رائے میں پاکستان کو جتوانے کا فارمولا پیش پیش ہوتا ہے۔ فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا کہ شاہین فائٹر ہے وہ ٹیم کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے بولنگ کوچ شان ٹیٹ نے کہا کہ شاہین شاہ کم عمری میں میچور بولر بن گیا ہے۔ وہ ہروقت سیکھنا چاہتا ہے۔ فہیم اشرف نے کہا کہ شاہین ہروقت سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے۔ اس کے دل میں نمبر ایک بننے کی کوشش میں ہے۔ محمد وسیم جونیئر نے کہا کہ کوشش ہے کہ وہ اسی طرح کارکردگی دکھائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -