کراچی دہشت گردوں کے نشانے پر

کراچی دہشت گردوں کے نشانے پر

  

موجودہ حکومت کے پہلے ماہ کے دوران ہی کراچی میں دوسرا دھماکہ ہوگیا جس میں دو افراد جاں بحق جبکہ13افراد زخمی ہو گئے۔اس سے قبل کراچی یونیورسٹی میں خود کش دھماکے میں چین سے تعلق رکھنے والے تین افراد لقمہ اجل بنے۔اب عوامی جگہ صدر کا انتخاب کرتے ہوئے کراچی کے کاروباری طبقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔دیسی ساختہ بم کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد گروپوں نے اپنے کارندوں کو بم بنانے کی اتنی ٹریننگ دے دی ہے کہ اس سے دہشت گردی کے پیچھے چھپے ہوئے اصل دشمن کو بے نقاب کرنا آسان نہیں ہو گا۔اس وقت کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلباء کو داخلے کے لیے روزانہ لمبی لائنوں میں لگنا پڑرہا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی کے معاملات سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمارے اداروں کے پاس کتنے فرسودہ طریقے ہیں۔صدر،کراچی کا گنجان آباد تجارتی علاقہ ہے اور ایسی جگہ کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔کراچی میں سمارٹ سٹی پراجیکٹ پر کئی مرتبہ بات ہوچکی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی سست ہے۔ پنجاب نے لاہور سمارٹ سٹی کی کامیابی کے بعد  سندھ حکومت کو پیشکش کی تھی کہ ان کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے ملک کے اقتصادی  حب کو جلد از جلد سمارٹ سٹی منصوبہ مکمل کر لے لیکن سندھ  حکومت نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔حکومت سندھ کو موجودہ حالات میں دہشت گردی کی نئی لہر پر قابو پانے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت سے فوراً تکنیکی مدد حاصل کرنی چاہیے اور شہر قائد کو دہشت گردی کی مزید وارداتوں سے محفوظ بنانا چاہیے۔ ناگفتہ بہ معاشی صورت حال کے ہوتے ہوئے ملک کے اقتصادی انجن کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا ازحد ضروری ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -