موسمیاتی تبدیلی، خطرے کی گھنٹی

  موسمیاتی تبدیلی، خطرے کی گھنٹی

  

اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہیٹ ویو سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے،ان خطوں میں گرم علاقوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے،پاکستان اور بھارت میں گرمی کی موجودہ لہر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں مون سون کا موسم ہمیشہ گرم ہوتا ہے لیکن وقت سے پہلے گرمی کی لہر نے اس سال خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اقوامِ متحدہ کے کمیشن  برائے ایشیاء نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعے کو ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، مختلف حصوں میں درجہ حرارت50ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو گیا۔ ماہرین صحت نے اس کی وجہ سے پانی کی کمی اور صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ سائنسدانوں نے اسے شمال جنوب چلنے والی ہواؤں کے کمتر دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے موسمی تبدیلی آئی ہے۔ انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) نے اپنی چھٹی رپورٹ میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیاء میں ہوا کا دباؤ بڑھے گا اور پاکستان میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔ حالیہ سروے میں نوٹ کیا گیا ہے کہ بھارت وہ ملک ہے جہاں گرمی کے اثرات مزدور طبقے پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے ہیں اور پیداوار کے  100 ارب گھنٹے کم ہو گئے ہیں جبکہ دنیا میں یہ شرح 220 ارب گھنٹے ہے۔ پاکستان کے علاقے جیکب آباد میں درجہ حرارت50 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی وجہ سے مزدوروں کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ رواں سال درجہ حرارت 60 سے 90 فیصد تک معمول سے زیادہ رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور پشاور میں درجہ حرارت جمعے کو 44 ڈگری سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے سینئر میٹرولوجسٹ ظہیر احمد بابر نے کہا ہے اس سال ہم سردی سے براہ راست موسم گرما میں آگئے ہیں، درمیان میں جو بہار کا موسم آتا تھا وہ غائب ہو گیا ہے۔ پاکستان میں 2015ء کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ گرمی نوٹ کی گئی ہے۔ گرمی کی شدت اور دورانئے میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان پہلے ہی اس سال گرمی کی غیر روایتی شدت کے اثرات سے گزر رہا ہے۔ سندھ کے علاقے تھر میں پانی کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے، ہزاروں جانور موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔ انسانوں کے لیے بھی پینے کا پانی موجود نہیں، دریا خشک ہو چکے ہیں اور نہریں خالی پڑی ہیں۔ گلیشیر پگھلیں گے، مون سون کا موسم آئے گا تو حالات کچھ بہتر ہوں گے۔ اس وقت تک ایک طرف گرمی کی شدت عوام کو نڈھال رکھے گی تو دوسری طرف پانی کی عدم دستیابی سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اُدھر چولستان میں جو پنجاب کا ایک صحرائی علاقہ ہے انتہا درجے کی خشک سالی جاری ہے، گرمی کی شدت اور پانی کی کمی سے درجنوں جانور ہلاک ہو چکے ہیں، علاقے کے مکین ہر روز میڈیا پر دہائی دے رہے ہیں کہ انہیں مصنوعی ذرائع سے پانی فراہم کیا جائے مگر کہیں ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اس علاقے کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں مگر ان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اپنے ہزاروں جانوروں کو کیسے کہیں اور منتقل کریں۔ گرمی کی شدت میں یکدم اضافہ ہونے سے جہاں پانی کے ذخائر ناپیدا ہو گئے ہیں وہاں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرمی میں زندہ رہنا بھی محال ہے۔ ماہرین کے مطابق صورت حال یہی رہی تو آنے والے برسوں میں گرمی کی لہر مئی سے بہت پہلے آئے گی ا ور اس کی وجہ سے نہ صرف انسانوں بلکہ جنگلی حیات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کمیشن  کے مطابق جنوبی ایشیاء میں پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جہاں موسمی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہاں کا ماحول ہے جس میں قدرتی عوامل کا اوسط تناسب اتنا نہیں ہے جتنا موسمی تبدیلی کے فطرتی بہاؤ کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔  افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ وفاقی سطح پر ایک وزارت موجود ہونے کے باوجود کوئی ایسا مربوط نظام وضع نہیں کیا گیا جو بڑھتے ہوئے موسمی اثرات کو روک سکے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں بلین ٹری منصوبے کا بڑا شور کیا گیا مگر عملاً اس کی صورت حال کیا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں اور باغات کو کاٹا جا رہا ہے۔ لاہور، ملتان اور اسلام آباد سمیت سرسبز کھیتوں اور باغات کو ختم کر کے ہاؤسنگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج لگائے جانے والے درخت تو پانچ دس سال بعد پھلیں پھولیں گے لیکن جو تناور درخت کاٹ کر آج شہروں اور مضافات کو چٹیل میدان بنایا جا رہا ہے، اس کا ازالہ کون کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس سال کا موسم گرما وقت سے پہلے آکر خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے۔ موسم ایک ترتیب سے آئیں تو اچھے لگتے ہیں اور ان کا فطری بہاؤ  ہی ہوا اورپانی سمیت گرمی اور سردی کے عوامل کو ہموار رکھتا ہے۔ جیسا کہ محکمہ موسمیات نے کہا ہے امسال موسم گرما موسمِ سرما کے فوری بعد آ گیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں جون جولائی جیسی گرمی نوٹ کی گئی، مئی میں کبھی بھی درجہ حرارت 50   ڈگری تک نہیں گیا مگر اس بار موسم گرما کا آغاز ہی پوری شدت کے ساتھ  ہونے سے گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔سوال یہ ہے کہ ہم اس حوالے سے کب جاگیں گے؟ کیا تھر اور چولستان کے عوام اسی طرح پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے؟ کیا خشک سالی کا یہ مسئلہ صرف تھر اور چولستان تک محدود رہے گا؟ کیا ہیٹ ویو کو کم کرنے کے لیے جو اقدامات ضروری ہیں، وہ کبھی حکومتی ترجیحات میں آئیں گے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ سیاست نے ہماری ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکمران ہوں یا اپوزیشن، سب کی توجہ سیاست پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ ملک کو اس موسمی تبدیلی کی وجہ سے غذائی قلت کا سامنا ہے کیونکہ فصلوں کے لیے بروقت پانی نہ ملنے کے باعث پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہمیں اپنے شہروں کے اندر اور اردگرد درخت لگانے کی اشد ضرورت ہے مگر اسے ایک قومی ایجنڈے کے طور پر کبھی نہیں اپنایا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا نوٹس لے کر متعلقہ وزارت اور محکموں کو یہ ٹاسک دیں کہ وہ پاکستان کو موسمی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے فوری اور قابل عمل منصوبے بنائیں۔ اس معاملے کو پہلی ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال، خشک سالی سے پاک اور بہتر پاکستان دے کر جائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -