سیالکوٹ: یہ نہ ہوتا تو بہتر تھا!

  سیالکوٹ: یہ نہ ہوتا تو بہتر تھا!
  سیالکوٹ: یہ نہ ہوتا تو بہتر تھا!

  

ایسا کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا، میں نے جب سے ہوش سنبھالا، دیکھتا چلا آ رہا ہوں،بلکہ ایک وقت وہ بھی تھا جب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی مختلف تحریکوں میں شرکت کی اور انتظامی امور بھی سنبھالے۔ لاہور تو اپنی جگہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی پولیس کی لاٹھیاں اور ڈنڈے برداشت کئے۔ مئی کے مہینے میں کیمپ جیل کی بارک نمبر10کو رونق بخشی۔ یہ جو گزشتہ روز سیالکوٹ میں ہوا، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ اس سے فائدہ نہیں نقصان ہوتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق محسوس ہوا کہ اداروں کے کیمروں کی کم اور موبائل وی ڈیو زیادہ تھیں۔ یہ بھی ایک امر واقع ہے کہ عثمان ڈار جب جیل کی گاڑی (پریژن وین) میں بند تھے تو ان کی ویڈیو ٹیلی ویژن خبروں میں نشر ہوئی۔ یقینا یہ بھی موبائل فون کا ہی کمال ہے کہ ان کے زیر حراست ساتھی نے نہ صرف جوشیلے خطاب پر مبنی یہ ویڈیو بنائی بلکہ وین ہی سے میڈیا کو جاری بھی کر دی جو خبروں کا حصہ بن گئی۔ الیکٹرونک میڈیا والوں نے بھی شکر کیا کہ چلو، مفت میں کوریج ہوگئی۔

میرے نزدیک یہ سب ہی غلط ہوا اور اب تحریک انصاف کے قائدین کے پر جلال ردعمل سے بھی خط اٹھا رہا ہوں۔ مجھے تو شاہ محمود قریشی اور محترمہ شیریں مزاری کے ردعمل نے بہت متاثر کیا، شاہ محمود قریشی نے تو ”پیرانہ فتویٰ“ جاری کر دیا کہ اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہوگی۔ وہ سجادہ نشین اور پیر ہیں، ان کا کہنا معنی رکھتا ہے، اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ان کو نعمتوں کی شدید خواہش ہے، اسی طرح بابر اعوان صاحب کا ارشاد سامنے آیا، وہ فرماتے ہیں عمران خان ضرور سیالکوٹ جائے گا، ارے! محترم بھائی آپ کا بھی تو ایک تعلق سیالکوٹ سے ہے کہ ایک خصوصی مقدمہ سے جان چھوٹی تھی۔

یہ سب اپنی جگہ، لیکن حالات اچھے نہیں ہیں، ملک شدید تر بحران کا شکار ہے۔ سری لنکا کی طرح دیوالیہ پن کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس میں حقیقت یوں نظر آتی ہے کہ قرضے ہماری آمدنی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، گرانی نئی نئی شکل میں باہر آ رہی ہے۔ ہمارے تاجر بھائی اپنے منافع کی خاطر ہر بے اصولی اور غیر قانونی حربے اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارے پیارے رسولؐ نے تجارت کو مقدس پیشہ فرمایا، خود بھی تجارت کی، ساتھ ہی اس کے لئے دیانت کی مثالیں بھی قائم کیں، ہم کیا کررہے ہیں، یہ عرض کرنے سے پہلے بابوں کی کہی بات ہی عرض کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں، بنیا معصوم لوگوں کو قرض دیتا اور اس کے عوض جائیداد لکھوا لیتا تھا اور جب قرض کی قسط رکتی تو مزید قرض دے کر اور جائیداد لکھواتا اور یوں ایک روز قرقی کے ذریعے  نوابوں کو ان کے محلوں اور زمینداروں کو ان کی جاگیر سے محروم کر دیتا، اسی طرح سود خور پٹھان (معذرت سب نہیں) مزدور کو قرض دیتا ہے اور ہر ماہ قسط لینے اس کے دروازے پر پہنچتا ہے، جب قرض لینے والا رو روکر مہلت طلب کرتا ہے تو یہ سود خور بھائی اسے مزید قرض دے دیتا اور اس میں سے پہلے اپنی قسط منہا کر لیتا ہے۔ یوں سود خور کے  چنگل سے نجات صرف موت ہی سے ملتی  ہے، یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف بھی  بنیا اور سود خور ہی ہے، جو قرض پر قرض دیئے جاتا ہے اور شرائط اپنی منواتا ہے۔ آج کل یہ سب پاکستان کی معاشیات کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

ان حالات میں ضرورت تو یہ ہے کہ پوری قوم بلا استثنیٰ تہیہ کرکے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو، قومی احساس کے ساتھ سب مل کر ملک کو اس معاشی چنگل سے نکالیں، لیکن ہو کیا رہا ہے۔ یہاں اقتدار کی جو جنگ قیام پاکستان کے بعد سے شروع ہوئی، وہ اب تک جاری ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ لڑائی ہمارا نام لے کر ہو رہی ہے اور جو حضرات ہمارے رہبر ہیں، ان کو بھوک کا کوئی احساس نہیں، ان کو گرمی بھی نہیں لگتی، ان کے دستر خوان مختلف اقسام کی نعمتوں سے بھرے ہوتے ہیں، ان کے ”غلام“ دستر خوان کے گرد ہاتھ باندھ کر کھڑے منتظر نگاہ ہوتے ہیں کہ صاحب (پیر) نگاہ اٹھائیں تو ان کے لئے مزید کچھ حاضر کیا جائے۔ یوں انقلاب کا نام لے کر شہریوں کو سڑکوں پر لانے اور ان سے جیلیں بھروانے والے یہ رہنما خود بڑی بڑی ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر آتے اور انہی میں واپس چلے جاتے ہیں، اول تو ان کو گرفتار ہی نہیں کیا جاتا، پکڑے جائیں تو تھوڑی دیر بعد آزاد کر دیئے جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ دھر بھی لئے جائیں تو سلوک وی وی پی آئی والا ہوتا ہے کہ لیڈر ہیں۔

آج جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا۔ یہ بھی ضد کے باعث ہوا کہ تحریک انصاف والے جلسہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کی طرف سے اجازت کے لئے ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا گیا، جواب میں مذاکرات کی جگہ تاخیر کی گئی، اب انتظامیہ کا موقف ہے کہ جلسہ کے لئے سیالکوٹ سٹیدیم تجویز کیا گیا۔ تحریک انصاف کی مقامی تنظیم نے نہ مانا اور اصرار کیا کہ جلسہ چرچ گراؤنڈ میں ہو گا انتظامیہ نے اپنے حربے اختیار کئے۔ کنٹینر لگا کر راستے بند کئے گئے اور جب عثمان ڈار کارکنوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور ”جلسہ گاہ“ کے انتظام درہم برہم کرنے سے روکا تو پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ لاٹھی چارج اور گرفتاریاں، یوں حالات خراب ہوئے، اب بقول سابق وزیر مملکت حبیب انقلاب شروع ہو گیا۔ دوسرا طرف محترم  شفقات محمود اور چودھرے اعجاز صاحبان نے پریس کانفرنس کے نام پر ورکرز میٹنگ کر ڈالی۔اب بھی وقت ہے فریقین کو مذاکرات کرکے حل نکالنا چاہیے کہ جلسے تو ہوتے آ رہے ہیں، اس صورت حال سے حالات بہتر نہیں، خراب ہوں گے۔اطلاع یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اب جلسہ کرکٹ گراؤنڈ میں کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،یہ پہلے بھی ہو سکتا تھا۔

میرا ارادہ تو تھا کہ سابق وزیراعظم کپتان عمران خان نے گزشتہ روز مردان میں صحافیوں کے ساتھ جو گفتگو کی اس کے بارے میں لکھوں، میں تذبذب میں تھا کہ عمران خان کی اس تازہ ترین گفتگو نے کئی اور سوال پیدا کر دیئے تھے کہ تازہ ترین انتباہ جو حقیقی معنوں میں تیسرا تھا، اس کے بارے میں ”ہمدرد“ (کپتان کے) حضرات نے سارا الزام سابقہ اپوزیشن کو ہی دیا تھا اور ان کی نگاہ میں یہ تو معصوم ہیں، لیکن کپتان نے جو ایسے معاملات میں شہرت کے حامل ہیں، سب انتباہ اور ہمدردوں کی ہمدردیوں کا خود ہی بھانڈا پھوڑ دیا ہے، اس لئے مجھے آج بھی موضوع تبدیل ہی کرنا پڑا ہے، اب انتباہ کرنے اور ان کے جواب میں کپتان کے شکوہ پر میں تو کچھ نہیں کہتا متعلقین کو اپنا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -