الیکشن وقت پرکیوں ہوں؟ 

 الیکشن وقت پرکیوں ہوں؟ 
 الیکشن وقت پرکیوں ہوں؟ 

  

 پاکستان تحریک انصاف کم اور عمران خان زیادہ شدومد سے نئے انتخابات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نون لیگ کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں کہ وہ اس سوال پر گومگو کی کیفیت میں ہے کہ آیا فوری انتخابات کروادیئے جائیں یا پھر 2023میں اپنے وقت پر کروائے جائیں۔ جبکہ جناب آصف زرداری دوٹوک انداز میں میڈیا کو بتاچکے کہ فوری انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ انتخابی اصلاحات مکمل کرنے کے بعد ہی انتخابات کا ڈول ڈالاجائے۔ کچھ ایسے ہی خیالات جناب مولانافضل الرحمٰن اور حکومت کے دیگر اتحادیوں کے بھی ہیں۔بلکہ جب تک پرویز الٰہی پی ڈی ایم کے اتحادی تھے اوروزیر اعلیٰ پنجاب بننے جا رہے تھے، وہ بھی یہی کہتے پائے جاتے تھے کہ ابھی عام انتخابات میں ڈیڑھ دوسال کا عرصہ پڑاہے۔ اسی طرح اگر عام حلقوں سے بھی بات کی جائے تو اکثریت کی رائے یہی ہوتی ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہئے اور فی الوقت حکومت کو ملکی معیشت کو صحیح ڈگر پر لانے کی کوشش کرنی چاہیئیں۔

عمران خان اس لئے زیادہ شدومد سے فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں باور کروایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد جس طرح انہوں نے امریکی سازش کا بیانیہ بنایا ہے،وہ ایک سیاسی شہید کا رتبہ پاچکے ہیں اور اگر فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے تو وہ کوئی کرشمہ دکھا سکتے ہیں۔ یہ مشورہ دینے والے ان کے حالیہ جلسوں کا حوالہ دیتے نظرآتے ہیں کہ جس طرح ان کے کامیاب جلسے ہو رہے ہیں اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ اس وقت عوامی حمائت کے بام عروج پر ہیں، خود پی ٹی آئی کے حامی حلقے کہتے پائے جاتے ہیں کہ اگر عمران خان کومزید دو سال حکومت کرنے دی جاتی تو وہ خودبخود غیر مقبول ہو جاتا مگر انہیں اقتدار سے باہر کرکے دوبارہ سے زندہ کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ اگر فوری طور پر عام انتخابات کا ڈول نہ ڈالا گیا اور ان کے جلسے جلوسوں کا زور ٹوٹ گیا تو حکومت کی جانب سے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز ہو جائے گاجس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سمیت پارٹی کے دیگر اکابرین پر قائم کرپشن اور دیگر مقدمات بھی ختم ہونے کا امکان ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ جس قدر ممکن ہو دباؤ بڑھایا جائے تاکہ ایسی کوئی صورت حال مستقبل قریب میں پیدا نہ ہو سکے۔ ان سب سے بڑھ کر عمران خان یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل وہ کسی اہم سیاسی پوزیشن پر چلے جائیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بھی ان کی سیاسی حیثیت اس قدر پختہ ہونی چاہئے کہ ان سے مشاورت کے بغیر یہ عمل مکمل نہ ہو۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ عمران خان کے ذریعے بعض ایک ایسی قوتیں بھی متحرک ہوں جو پاکستان میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے ان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں۔ اسی لئے عمران خان ایک ایسی سیاسی حکمت عملی کے تحت اپنے جلسوں اور بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ان کو اور ان کی پارٹی کو زیادہ سے زیادہ سیاسی سپیس حاصل ہو سکے تاکہ اس مشکل وقت سے نکل وہ سیاسی طور پر زیادہ طاقتور بن کر ابھریں۔ 

جہاں تک نون لیگ کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وزارت عظمیٰ لینے کے باوجود بھی اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اسٹیبلشمنٹ بلکہ خود اتحادی جماعتیں بھی اسے کھل کر کھیلنے کا موقع دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال مسجد نبوی کی توہین کے تناظر میں تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف دائر کیا جانے والا پولیس مقدمہ تھا جس کے فوری بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالف کی اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ واضح احکامات جاری کر چکی ہے کہ اس مقدمے میں غیر ضروری گرفتاریاں نہ کی جائیں۔ اسی طرح غالباً نون لیگ کو یہ گلہ بھی ہے کہ ابھی تک اسٹیسلشمنٹ کا ایک حصہ عمران خان کو سپورٹ کر رہا ہے اور ایسی صورت حال بنائے ہوئے ہے کہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود عمران خان طاقتور اور اقتدار میں  ہونے کے باوجود نون لیگ کمزور دکھائی پڑتی ہے۔ اس کی مثال وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں فردجرم عائد ہونے کا معاملہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ خود نواز شریف اور اسحٰق ڈار کو بھی بوجوہ اپنی وطن واپسی ملتوی کرنا پڑی ہے جس کے پیچھے پی ٹی آئی، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کے ایک بڑے حصے کا مضبوط پراپیگنڈہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا عالم یہ ہے کہ آسمان سے گرکر کھجور میں اٹکی ہوئی ہے اوراس کیلئے انتخابات سے زیادہ اقتدار میں رہناضروری ہے تاکہ اپنے ووٹ بینک کومضبوط کر سکے اورعام انتخابات میں جیت کی راہ نکال سکے۔ یہی حال دیگراتحادیوں کا ہے کہ ان کے لئے اب اپنے آپ کو اس فضا میں ایڈجسٹ کرنا ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تو ہو چکی ہے کہ مگر غیر سیاسی نہیں ہوئی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اس صورت حال میں کیا فیصلہ کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ انہیں کس قدر آزادی سے سیاست کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کا فیصلہ اگلے ایک آدھ دن میں ہو جائے گا جس کے بعد انتخابات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا۔ اس سے قبل کنفیوژن کا راج رہے گا جس کا فائدہ سٹے باز اٹھاتے  اور غریب کی آتما رلتی رہے گی۔ فیصلہ کچھ بھی ہو ایک بات طے ہے کہ اگر نون لیگ نے ڈیڑھ سال تک اقتدار میں رہنے کا ارادہ کرلیا تو پی ٹی آئی کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا جس کاقوی امکان نظر آرہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -