جماعت اسلامی کے تربیتی نظام پر نظر 

 جماعت اسلامی کے تربیتی نظام پر نظر 
 جماعت اسلامی کے تربیتی نظام پر نظر 

  

 ان دنوں اسلامی جمیعت طلبہ، جمعیت طلبہ عربیہ، پریم، تنظیم اساتذہ، پیاسی، کسان بورڈ نامی تنظیمیں تو جانی پہچانی تھیں، قاضی صاحب مرحوم نے اسلامک فرنٹ اور شباب ملی کا اضافہ کیا تو ڈاکٹر طاہر امین نے یہ تبصرہ کیا: "جماعت نے کھمبے تو بہت لگائے ہیں، لیکن تاریں لگانے والا فکری ڈھانچہ لاغر ہوچکا ہے۔" اس بلیغ تبصرے پر ٓاج یہ اضافہ ہے: "تاروں کو چھوڑیے، آج پاور ہاؤس ہی نہیں جو ان کھمبوں سے جڑی تاروں کو حیات نو بخشے۔تجاویز دینے کی جسارت تو آئندہ کبھی کروں گا پہلے صورت حال تو واضح کروں۔ میرے احباب میں ساٹھ ستر فی صد اسی جماعت کے لوگ ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو واٹس ایپ کلپ بھیجتے رہتے ہیں۔ سید مودودی کے کلپ موجود اور عام ہیں، سید منورحسن بھی مل جاتے ہیں۔ جماعتی احباب بتائیں، کیا جماعتی قیادت کا کوئی ایک شخص بھی ہے جس کے کلپ عام چل رہے ہوں۔ سینیٹ میں مشتاق صاحب کی تقاریر  ملتی رہتی ہیں، غنیمت ہے۔ تو پاور ہاؤس کے بغیر کھمبوں کا جواز کیا محض کارزار سیاست کی گرما گرمی ہے۔  الخدمت پر مجھے البتہ فخر ہے۔

 ہر تنظیم کے لیے مضبوط اور موثر فکری پاورہاؤس کا وجود لازمی ہوتا ہے جو آج کمزور ہے یا موجود ہی نہیں۔ پاور ہاؤس سے  مراد کسی حد تک تو شخصیت ہے۔ لیکن سید مودودی نے جماعت  کی بنیاد اپنی شخصیت کی بجائے ان مستحکم نظریات پر رکھی تھی جو لوگوں کے اذہان میں ماند تو پڑ سکتے ہیں، دنیا سے معدوم نہیں ہو سکتے۔ 1933 میں بے سروسامان اور یک و تنہا سید صاحب نے "سود" لکھ کر انسانی سوچ میں وہ کیا تموج پیدا کیا تھا کہ آج دنیا بھر کے مالیاتی حلقوں میں جوار بھاٹا مچا ہوا ہے؟ اس "پاور ہاؤس" کے پاس آخر تھا کیا؟ مطالعہ اور مسلسل مطالعہ! پڑھنا, پڑھنا، اور پڑھتے ہی رہنا۔ عمل کا ننھا سا پودا تو سید بادشاہ نے 1941 میں کہیں جا کر لگایا تھا۔ بتائیے 1933 سے قبل دنیا میں کیا کسی اور نے حرمت سود کی طرف توجہ دلائی، کوئی عالمگیر تحریک پبا کی؟۔ ڈاکٹر انور اقبال قریشی نے یقینا "اسلام اور سود" لکھ کر متوجہ تو کیا تھا، کوئی تحریک پبا نہیں کی۔

پاور ہاؤس کی بھی خوب رہی۔ میرا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ یزداں نے لگ بھگ ایک صدی سے زندگی کے ہر شعبے میں داعیان حرف کاف ونون کی پیدائش بند کر دی ہے۔ بلکہ وہ تو زمین پر موجود ایسے تمام احسن تقویم کو سمیٹ کر شاید کسی اور سیارے پر آباد کر رہا ہے۔ لہذا ہمارے لئے تو اب اقتدا بر رفتگاں ہی نوشتہ دیوار ہے۔ چلئے، میرا خیال غلط سہی، لیکن مفکرین و مصلحین کی تیاری کوئی صنعتی عمل تو ہے نہیں کہ جماعت اس کے ذریعے نئے نکور سید مودودی اور پروفیسر خورشید متعارف کرائے۔ اب تو ماقبل کے اور موجود مختلف النوع اور مختلف الجہات رنگا رنگ اسلامی نظریات ہی پاور ہاؤس بن سکتے ہیں۔

 بدقسمتی سے جماعت اپنے بنیادی اور اصل الاصول فرض یعنی تربیت سے کنارہ کش ہو چکی ہے۔ پچھلی اشاعت پر درجن بھر مخلص متعلقین جماعت نے رابطہ کیا اور میری تقریباً تمام باتوں کی تائید کی۔ میں نے ان سے ان جماعتی امور پر سوال کیے: "شب بیداریاں، ماہانہ اور دیگر تربیت گاہیں، سالانہ تربیت گاہ، اجتماعی مطالعہ، باہمی احتساب، ہفتہ وار مطالعے کی نظم کو اطلاع، نماز باجماعت کا ریکارڈ، اجتماعی ناشتہ،  کھانے پر افراد خانہ کے ساتھ ہفتہ وار غیررسمی گفتگو اور "آداب زندگی" کا اجتماعی مطالعہ, اہل محلہ سے روابط اور تعلقات۔"  جواب میں وہ معصومیت  سے میرا منہ دیکھتے۔

مکان خالی چھوڑ دیا جائے تو وہاں چمگادڑیں، چھپکلیاں، اور سانپ بچھو قبضہ جما لیتے ہیں اور آج کے جماعتی ذہن پر وہی قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ بتائیے جماعت کے اندر کوئی عالم دین ہے جس کی لوگ معمولی سی پیروی کرتے ہوں۔ چنانچہ جماعت کے افراد کو دانستہ ہدف بنا کر دلنشین گفتگو کرنے والے جاوید غامدی گھر کے اس حصے پر قبضہ جما چکے ہیں۔ احتجاجی سیاست پر جماعت کے نظریات اور طریقے اس کی اساس رہے ہیں جن کی عملی شکل نہایت تربیت یافتہ افراد کے ذمہ تھی۔ تربیتی نظام کمزور ہوا تو گھر خالی اور ذہن کا یہ حصہ عمران خان لے اڑے۔ سمندر پار سے آئی ہدایت پر "فاتح جلال آباد" نے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا تو قاضی صاحب کی قیادت میں "میاں دے نعرے وجن گے" کا شخصی ورد شروع ہوگیا۔ جماعتی ذہن کے بڑے حصے میں یہ نعرے آج بھی "وج" رہے ہیں. غیر جانبداری کا دعویٰ لیکن متعلقین جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر، خلاف توقع سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ مل گیا۔ اب چمگادڑ کی شکل میں چوتھے مکتب فکر نے خالی جماعتی ذہن پر پنجہ گاڑ لیا: " جی پیپلز پارٹی ہے تو جمہوری ذہن کی مالک نا"!

اب اس مقدس جماعت کے خالی الذہن، غیر تربیت یافتہ لیکن انتہائی مخلص افراد بیٹھے تو اپنی جماعت ہی میں ہوتے ہیں، خود کو جماعتی فکر بھی قرار دیتے ہیں لیکن جب آپس میں ملتے ہیں تو گفتگو سننے والی ہوتی ہے۔ ارد گرد میں اور فیس بک پر جماعتی احباب کو آپ انہی چار زمروں میں بٹ کر "فریضہ اقامت دین"  ادا کرتے پائیں گے۔ یہ صاحب نواز شریف کو ڈاکو، چور کہتے ہیں کہ عدالت نے کہا ہے تو ان کا اپنا ساتھی کیلی فورنیا سے عدالتی فیصلہ بطور "اعلائے کلمہ الحق" لے آتا ہے۔ وہ صاحب زرداری پر گرہ لگاتے ہیں تو جواب میں انہیں غامدی یا ہوا سننا پڑتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ سب ایک دوسرے کا یوں احترام کرتے ہیں کہ فرمان نبوی کے مطابق اختلاف رائے باعث رحمت  ہے۔ میں جماعت کا رکن نہیں ہوں لیکن شریعت کا طالب علم ہو کر بھی نہیں سمجھ سکا کہ "کیا حق اختلاف رائے جماعتی عمل  کی بہتری میں کام آتا ہے یا یہ حق، گناہ بے لذت کے چٹخارے میں بطور نمک تبرے بازی کے لیے ہوتا ہے۔" چلیے, یہ بھی ٹھیک ہے، پر یہ بتائیے! ان چاروں زمروں کے "اپنے اصل موضوعات سخن" سیاست کے پیچ و خم میں کہاں گم ہو کر رہ گئے ہیں؟

 آج میں نے جو لکھا ہے، اس کے مظاہر سب اہالیان جماعت  کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ میں نے تو چند ایک کو الفاظ کا چولا پہنا کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ کیوں؟ کیا یہ گناہ بے لذت نہیں ہے؟ اللہ نے موقع دیا تو اگلی دفعہ جماعت کے تربیتی نظام کی بہتری اور اصلاح احوال کے لیے کچھ عرض کروں گا کہ یہی طریقہ اسے اس آواگون نکال سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -