بناوٹی انسان، بناوٹی پروٹوکول 

 بناوٹی انسان، بناوٹی پروٹوکول 
 بناوٹی انسان، بناوٹی پروٹوکول 

  

 جب علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن کا انتقال ہوا تو اُس روز حکیم الامت کو نمازِ جنازہ میں شرکت کی خاطر لاہور سے سیالکوٹ جانے کے لیے مال گاڑی پہ سفر کرنا پڑا تھا۔ ہمارے بچپن اور نوجوانی میں اِس روُٹ پر براہِ راست سفر کی سہولت سے پیشتر آج کی طرح دونوں شہروں کے درمیان آنے جانے والوں کو وزیرآباد جنکشن پہ لازمی طور پہ ٹرینیں تبدیل کرنا ہوتی تھیں۔ آپ پوچھیں گے کہ ٹرین کی تبدیلی مال گاڑی کے سفر کا جواز کیسے بن گئی۔ جواز یہ کہ حضرتِ علامہ کو ”چراغِ خانہ ء مرتضوی“ سے عشق کی حد تک جو لگاؤ تھا اُس سبب وہ استاد کی رحلت کا سُن کر بھاگم بھاگ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ مسافر گاڑی چلنے میں دیر تھی۔ پتا چلا کہ ایک گُڈز ٹرین وزیر آباد کی سمت روانہ ہو رہی ہے۔ ٹکٹ لیا اور اُسی پہ سوار ہو گئے۔ 

 سیالکوٹ پہنچنے کی دیر تھی کہ شور سا مچ گیا:”ساڈا اقبال آ گیا اے“۔ چونکہ اُنہی کا انتظار ہو رہا تھا، اِس لیے چند ہی لمحوں میں جنازہ اٹھا لیا گیا۔ ہم اِسے مقامی مسلم روایت کا روحانی پروٹوکول کہیں گے۔ ظاہر ہے یہ اُس انتظامی پروٹوکول سے مختلف چیز ہو گی جس میں معمولی سی مبینہ غفلت پر اب سے پانچ سال پہلے وزیر اعلی نے اِسی شہر کے ڈی سی اور ایس پی تبدیل کر دیے تھے۔ وزیر اعلی خواہ خوش مزاجی کی شہرت کیوں نہ رکھتا ہو، ہوتا تو وزیر اعلی ہی ہے۔ یہ دوسری بات کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والا میرا شہردار بھی جب مال گاڑی پہ جا بیٹھا تو ظاہری حیثیت کے لحاظ سے وہ پنجاب مسلم لیگ کا صدر اور صوبائی اسمبلی کا منتخبہ رکن تو تھا ہی، اُسے انگریز سرکار سے ’سر‘ کا خطاب ملے بھی چھ سال ہو چکے تھے۔

 تو کیا بناوٹی رکھ رکھاؤ ہر سیاستدان کا مسئلہ نہیں ہوا کرتا اور کیا ہر پنجابی افسر کا شخصی دبدبہ رعونت کی حدوں کو چھوتا نظر نہیں آتا؟ ’دانے دانے پہ مہر‘ والے محاورے کی رُو سے میرا تجربہ کبھی کبھار اپنے ہی سوال کے دونوں مفروضات کی نفی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ زیادہ دُور کیوں جائیں، ملک معراج خالد کی دنیا سے روانگی تو رواں صدی کی بات ہے۔ وہی معراج خالد جو نگران وزیر اعظم بنے تو خود ہی فیصلہ کر لیا کہ وِیک اینڈ پہ اسلام آباد سے لاہور آنے کے لیے ہوائی جہاز کی اکانومی کلاس ہی ٹھیک رہے گی۔ پھر یہ بھی کہ سڑکوں پر محض ایک شخص کی تیز رفتار نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے باقی خلقِ خدا کو منجمد کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ایک چشم دید ایک واقعہ تو ایسا ہے جسے یاد کرکے ہمیشہ مزا لیا اور حوصلہ بھی مِلا۔

 یہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد کے سینیٹر میاں احسان الحق کی بیٹی کی تقریبِ شادی تھی۔ بی بی سی کے تعلق سے مَیں ذرا پہلے ہی پہنچ گیا کہ کیا پتا نگراں وزیر اعظم کی گفتگو کسی امکانی خبر کا موضوع بن جائے۔ ابھی صاحب ِ خانہ تشریف نہیں لائے تھے بلکہ چند منٹ پہلے کھڑی کی گئی قناتوں اور ٹینٹوں کے کِلے ٹھونکنے کا عمل تا حال با آوازِ بلند جاری تھا۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کونے میں ملک معراج خالد اکیلے ہی کھڑے ہیں، سفید شلوار قمیض کے اوپر کالا کوٹ اور قدرے خُنکی کے باعث دونوں ہاتھ بغلوں میں۔ آگے بڑھ کر سلام کیا تو محسوس ہوا کہ ملک صاحب کو سب سے پہلے یک و تنہا پہنچ جانے پہ کوئی پریشانی نہیں۔ ٹینٹ لگانے والے ایک کارکن کے سوال پر جب مَیں نے بتایا کہ موصوف وزیر اعظم ہیں تو اُس نے برجستہ کہا کہ ”ایہناں نوں تے لگدا اے روزہ لگا ہوئیا اے۔“

 نئے زمانے میں روزہ لگنے والی ہستیاں ہیں تو کم، لیکن اِس زمرہ بندی کو محض سیاسی رہنماؤں تک محدود خیال کر لینا قرینِ انصاف نہیں ہو گا۔ اپنی نو عمری میں والد کے ذخیرہء کتب میں سے جن کتابوں کی ورق گردانی چوری چوری کی اُن میں آرمی ریگولیشنز کی تین یا چار جلدیں بھی شامل تھیں۔ چنانچہ اِن گناہگار آنکھوں نے متن کی بعض شقیں نہ صرف پڑھیں بلکہ بہت قریب سے اُن پر عملدرآمد ہوتے بھی دیکھا۔ ایک ایسے صاحبِ کردار جرنیل کو بھی دیکھا جنہوں نے بڑے بیٹے کو، جو میرا دوست تھا، یہ کہہ کر سرکاری کار میں کالج جانے سے روک دیا تھا کہ کل کلاں میرے عہدے پر پہنچ گئے تو بیٹھ سکتے ہو۔ لڑکا آئی ایس ایس بی میں فیل ہو گیا۔ پھر یہ ضابطہ بھی اہم تھا کہ کسی بیگم کو سٹاف کار میں بیٹھنے کی اجازت تب ہے جب وہ شوہر کے ہمراہ سفر کر رہی ہوں جو کم از کم ایک ستارے والا جرنیل ہو۔ یہ نہیں کہ دن رات افسروں کے بیٹے، بھتیجے لاٹ صاحب کے دفتر کی ہری پلیٹ والی کاریں لبرٹی اور وائی بلاک کی مارکیٹ میں دوڑاتے پھریں۔ 

 یہ مطلب نہ لیں کہ سِول محکموں میں قدرے لبرل ٹرانسپورٹ پالیسی کی بدولت سارے اہلکار اِن سہولتوں کے ناجائز استعمال میں ملوث ہیں۔ نہیں، بعض لوگ تو ہر حال میں محکمانہ ضوابط کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ میرا اٹھنا بیٹھنا ایسی نیک روحوں سے بھی رہا جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں تھا مگر اُنہوں نے پھر بھی قانون سے کبھی انحراف نہ کیا۔ چند سال پہلے کی بات ہے جب ایک سہ پہر مَیں اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ میرا بیٹا اسد جوش کے عالم میں دبڑ دبڑ سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر آیا۔ ”ابو ابو، نیچے حسیب انکل آئے ہیں اور سائیکل پہ۔“ حسیب انکل خیر سے ایک صوبائی محکمے کے سربراہ تھے جو وفاقی سیکرٹری تعلیم اور پھر اُس سے اوپر ایک اہم آئینی منصب تک گئے۔ کہنے لگے کہ گھر دفتر سے دُور نہیں، اِس لیے سوچا کہ سائیکل پہ آنا جانا شروع کر دوں۔

 پروٹوکول ترک کرنے کی یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ’انکل‘ نے یہ بھی بتایا تھا کہ سرکاری کار سے سائیکل کی طرف مراجعت نے یومیہ معمول کو تبدیل تو کیا ہے مگر ساتھ ہی روز مرہ مشاہدات اور انسانی رشتوں کے کئی نئے دریچے بھی کھُلنے لگے ہیں۔ اوّل اوّل جی او آر کے مالی، بنگلوں کے چوکیدار اور گھریلو ملازم یہ باور ہی نہ کرسکے کہ صبح صبح خاموشی سے سائیکل پہ گزر جانے والا یہ نیا آدمی ہے کون۔ اگلے ہفتے جب شناخت پریڈ ہو چکی تو اِن ملازموں کا ردِعمل خوشی کی بجائے حیرت کا تھا۔ تیسرے ہفتے جان پہچان کی انسانی جبلُت غالب آ گئی اور باہمی حال احوال پوچھا جانے لگا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب ایک ٹی وی چینل والے اِس ’کرتب‘ کی فلم بنانے کے لیے آ دھمکے اور ’صاحب‘ نے تشہیر سے بچنے کی خاطر پہلے اپنا راستہ تبدیل کیا اور پھر اسکینڈل سے بچنے کے لیے سواری بدلنے پہ مجبور ہو گئے۔ 

 ایک دوست اِن کے علاوہ ہیں جن کی ریٹائرمنٹ پر کرائے کے مکان کی خاطر جب ڈی ایچ اے میں ایک پراپرٹی ڈیلر کے پاس جانا پڑا تو اُس نے ہماری پرائس رینج سُن کر میرے کان میں سرگوشی کی: ”آپ تو کہتے تھے یہ تین ضلعوں میں ڈی سی رہ چکے ہیں۔“ یہ رداد سُن کر میرے گھر میں مقیم بالائی طبقے کی عورت نے سوچا ہو گا کہ ”جیہو جہی پھَتو، اوہو جہے پھَتو دے یار“۔ اب کون کِسے سمجھائے کہ صحافتی زندگی میں کسی تیسرے فریق کی طرف سے قیام و طعام کی سہولتوں سے بچنے والی پھَتو محض پھَتو نہیں۔ اُس نے بھی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ایک بین الاقوامی شہرت کے مقدمے کی نامہ نگاری کے لیے ایک مرتبہ پولیس گارد کی پیشوائی میں لاہور سے ڈیرہ غازی خان تک کا سفر کیا تھا۔ البتہ پھَتو کی سمجھ میں کبھی  نہ آ سکا کہ سارا راستہ اہلکاروں کے سیٹیاں بجانے اور ہو ا میں مسلسل ڈنڈے لہرانے سے مذکورہ مقدمے کے فریقین کو حصولِ انصاف میں کتنی مدد ملی تھی۔ 

مزید :

رائے -کالم -