انسانی آنکھ پرموبائل کی تباہ کاریاں 

  انسانی آنکھ پرموبائل کی تباہ کاریاں 
  انسانی آنکھ پرموبائل کی تباہ کاریاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اللہ تعالی نے ہر انسان کو اربوں روپے کے مفت انسانی اعضا فراہم کرکے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ جو پیدائش سے موت تک ہرانسان اپنے ساتھ لے کر خوشگوار زندگی گزارتا ہے۔ ان اعضا کی قیمت اور اہمیت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ان میں سے کسی اعضا میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں،جس طرح انسان ایک محدود عرصے کے لیے دنیا میں آیا ہے اسی طرح انسانی اعضا کے درست کام کرنے کی صلاحیت بھی قدرت نے ایک حد تک محدود کر رکھی ہے۔ مثلا انسانی آنکھ جس سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں، اس کی طاقت اور صلاحیت بھی ایک حد تک محدود ہے اگر انسان یہ سمجھ کر اپنی آنکھوں کا رات اور دن مسلسل استعمال شروع کردے جس طرح آج کل موبائل نے ہر چھوٹے بڑے، عورت اور مردوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کررکھی ہے، میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بہت بھیانک نتائج بہت جلد ہمیں نظر آنے لگیں گے۔یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ میری آنکھوں میں پہلے سفید موتیے کا نزول ہوا جس نے مجھے بہت پریشان کردیا، جب رات کے اندھیرے میں دو کی بجائے چار دکھائی دینے لگے تو مجبورا مجھے یکے بعد دیگرے دونوں آنکھوں کے آپریشن کروانے پڑے۔ آپریشن کے بعد کچھ دن گھر میں احتیاطی تدابیراختیار کیے رکھیں لیکن معاشرتی ذمہ داریا ں انسان کو کہاں آرام کرنے دیتی ہیں۔میری بدقسمتی کہ انہی دنوں میرے گھر میں سوئی گیس کا بل 25 ہزار روپے آگیا اور بجلی والوں نے 8ہزار بل بھیج کر مجھے پریشان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مجبوراً مجھے  بائیک پر سوار ہو کر گھر سے نکلنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں میری آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔ آئی سپیشلسٹ کو چیک کروایا تو اس نے آنکھوں میں ڈالنے کے لیے چند قطرے لکھ دیے۔ جن کے استعمال سے کچھ افاقہ تو ضرور ہوا لیکن پانی آج تک بند نہیں ہوا۔ہر پانچ منٹ بعد مجھے آنکھیں صاف کرنا پڑتی ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے ان تکلیف دہ مراحل سے گزرنے کے باوجود آنکھوں کے حوالے سے مسائل بڑھتے گئے جوں جوں دوا کی۔ بالآخر نتیجہ یہاں تک آپہنچا کہ ایک دن آئی سپشلسٹ نے یہ کہہ کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکا دی کہ آپ کی دونوں آنکھوں میں کالا موتیا اتر آیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے آنکھوں کا  ایک ٹیسٹ بھی لکھ دیا۔ اس ٹیسٹ سے آنکھوں کے پیچھے پردوں کی حالت زار کو دیکھنا مقصودتھا۔ جب اس ٹیسٹ کی تصویریں موصول ہوئیں تو میں خودیہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ میری دونوں آنکھوں کے ڈیلوں پر تیزی سے سیاہی پھیلتی جارہی ہے۔ ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھ کر تین ڈراپس لکھے اور کہا اب آپ کو پوری زندگی یہ ڈراپس آنکھوں میں ڈالنے پڑیں گے۔ میں نے پوچھا،کالے موتیے سے آپریشن کے ذریعے نجات نہیں مل سکتی۔ ڈاکٹر صاحب نے انکار میں سر ہلا دیا۔ میں نے پھر پوچھا کوئی ایسے انجیکشن موجود نہیں ہیں جنہیں لگانے سے کالا موتیا صاف ہو جائے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا نہیں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا موبائل کی تبا ہ کاریوں سے آپ خود بھی بچیں اور اپنے بیوی بچوں کو بچائیں۔ ڈاکٹر کے کمرے سے میں جیسے ہی باہر نکلا تو آنکھیں چیک کروانے والے مریضوں کی لمبی قطار لگی ہوئی دیکھی۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب کے ہاتھ میں موبائل آن حالت میں تھا،کوئی اپنے دوستوں سے چیٹنگ میں مصروف تھا تو کوئی یو ٹیوب میں نئی سے نئی ویڈیو دیکھنے میں مگن تھا۔سٹیل کی کرسیوں پر بیٹھا ہوا ہر چھوٹا بڑا انسان (عورت اور مرد) اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے بیگانہ ہوکر موبائل پر اپنی ہی دنیا بسائے بیٹھا تھا۔میں نے سب کو ایک نظر دیکھا اور مسکرا کر جب باہر کا راستہ اختیار کرنے لگا تو ایک نوجوان فیشن ایبل لڑکی کے ہاتھ میں ایک واکر تھا جس میں پانچ چھ ماہ کا بچہ موجود تھا۔ وہ بچہ کسی وجہ سے رونے لگا تو اس فیشن ایبل لڑکی نے اپنے ہاتھوں میں پکڑئے ہوئے موبائل پر کوئی ویڈیو لگاکر موبائل اپنے بچے کے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں کچھ دیر رک کر یہ تماشہ دیکھتا رہا، جب معصوم بچے نے موبائل پکڑ لیا اور خاموش ہو کر دیڈیو دیکھنے لگا تو میں نے اس لڑکی سے کہا بیٹی تم اپنی آنکھیں تو موبائل  کے استعمال سے سے خراب کر بیٹھی ہو جسے تم آئی سپیشلسٹ کو چیک کرانے آئی ہو۔اب یہ موبائل اپنے اس معصوم بچے کے ہاتھ میں دے کر ہمیشہ کے لیے اسے آنکھوں کے امراض کے سپرد کررہی ہو۔

اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا انکل کچھ نہیں ہوتا یہ بچہ تو گھر میں بھی موبائل سے ہی کھیلتا  رہتا ہے۔اس لڑکی کی بات سن کر میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ ہماری موجودہ نسل کی آنکھیں موبائل کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں تباہی کے دھانے پر کس طرح پہنچتی جارہی ہیں اور ہم سب غفلت کا شکار ہوکر صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا۔ گھر پہنچ کر میں نے کچھ لکھنے کے لیے کمپیوٹر آن کیا تو فیس بک پر ایک ستر سالہ باریش بزرگ، جس کی داڑھی بالکل سفید تھی،اس کے اردگرد دو پولیس والے کھڑے تھے۔اس تصویر کے نیچے یہ عبارت لکھی تھی۔اس ستر سالہ بزرگ کی موبائل فون پر ایک حسینہ سے دوستی ہوگئی، یہ بزرگ اس حسینہ کو عید تحفہ دینے کے لیے اپنا گھر اور بیوی بچے چھوڑ کر بذریعہ ٹرین سکھر جا پہنچے۔ حسینہ نے جو پتہ دیا تھا وہاں سندھی ڈاکو پہلے سے موجود تھے۔اگر پولیس اس بزرگ کو وہاں جانے سے نہ روکتی تو یہ بزرگ حسینہ کے چکر میں آکرتاوان کے لیے سندھی ڈاکووں کے ہاتھ پکڑے جا چکے تھے۔ قصہ مختصر جس شخص کو بھی سمجھاؤ کہ موبائل تمہارا دشمن ہے اس کے زیادہ استعمال سے بچو، وہیں شخص روکنے والے کو حقارت کہ نظر سے دیکھ کر کہنے لگتا ہے کچھ نہیں ہوگا لیکن جب کچھ ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اندھیری ہوجاتی ہے اور بینائی کی بحالی کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں، حالانکہ مجھے ڈر ہے کہ موبائل کی آن سکرین کی روشنی کہیں میری نوجوان نسل کی بینائی کو متاثر نہ کر دے۔ میں تو پھر عمر کے آخری حصے پر پہنچ چکا ہوں کہ موت کا فرشتہ جب آواز دے گا۔ لیبک کہتا ہوا اپنے غفور رحیم رب کے پاس پہنچ جاؤں گا لیکن وہ بچے جو ابھی ماؤں کی آغوش میں ہیں،یا سکول کی ابتدائی کلاسز میں زیرتعلیم ہیں۔ کیا موبائل ان کے مستقبل کو تباہ نہیں کردے گا۔اگر میری بات کا یقین نہ آئے تو آنکھوں کے ٹرسٹ ہسپتالوں میں جاکرموجودہ نسل کی بینائی کو درپیش مسائل کا مشاہدہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -