پرویزمشرف کی رہائی

پرویزمشرف کی رہائی
پرویزمشرف کی رہائی

  


                                    پرویزمشرف کی تمام مقدمات میں ضمانتوں پر رہائی سے ان تمام افواہوں کی تصدیق ہوگئی ہے، جو اُن کے حوالے سے پچھلے کچھ عرصے سے گردش میں تھیں اور جن کو کئی نام دئیے جا رہے تھے۔ کوئی انہیں این آراو قرار دے رہا تھا تو کوئی اُن کے لئے مضبوط سفارشوں کا تذکرہ کررہا تھا کہ یہ سفارشیں معمولی نوعیت کی نہیں تھیں،بلکہ یہ ایسی ریاستوں اور اُن کے سربراہوں کی تھیں ،جن کے ساتھ تعلقات کی خرابی پاکستان اور اس کے مقروض عوام بر داشت نہیں کرسکتے تھے، لیکن کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسے مضبوط ادارے سے تھاجو حکومتوں کی تخلیق کے ساتھ انہیں ختم کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے اور یہ اختیار اُس نے کئی بار استعمال کر کے اپنی اس طاقت کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے ،جس نے پرویز مشرف کی رہائی پر بہت سارے سوالات کو جنم دیا۔

کہانی تو بہت لمبی ہے، بلکہ اس کا آغاز راولپنڈی کیس سے ہوتا ہے، جس میں فیض احمد فیض جیسے لوگ بھی شامل اور ان پر بغاوت کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ پھر حیدرآباد کیس بھی ہے، جس میں ولی خان مرحوم، غوث بخش بزنجو مرحوم اور عطاءاللہ مینگل کے ساتھ بہت سارے دیگر بھی شامل تھے۔ پھر ایک اور مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کا بھی ہے۔ یہ تو پرانی باتیں ہیں، ابھی کچھ عرصہ پہلے تک بینظیر بھٹو بھی کئی بار عدالتوں کے دروازے پر انصاف کی طلبگار ہوتی رہی ہیں، مگر اُنہیں فاضل عدالت سے انصاف میّسر نہیں آسکا، حتیٰ کہ انہیں ایک ایسے موقع پر موت کے حوالے کر دیا گیا، جب اُن کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں اُن کے چاہنے والے موجود تھے ....اوریہ تو ابھی کل کی بات ہے ،جب ایک منتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں سزا سنا کر برطرف بھی کردیا گیا تھا، جبکہ پیپلزپارٹی کے ہی دوسرے وزیراعظم کے لئے بھی شکنجہ پوری طرح تیار ہے اور اُن کے بھی قانون کی بالادستی کی گرفت میں آنے کا واضح امکان ہے۔

بات صرف پیپلزپارٹی والوں کی نہیں ،خود تیسری بار وزارت عظمیٰ پرفائز ہونے والے میاں محمد نوازشریف ،جنہیں ایک خوش نصیب شخص قرار دیا جاتا تھا ، جب اُن کی اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے حکومت برطرف کی تھی تو انہیں عدالت کی طرف سے بحالی کا فیصلہ مل گیا تھا، حالانکہ محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو اُن سے پہلے ایسے فیصلے کے حقدار نہیں سمجھے گئے تھے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب پرویزمشرف نے اُن کی آئینی حکومت برطرف کی اور انہیں ہائی جیکنگ کے الزام میں گرفتار کیا تو عدالت نے ہی انہیں سزائیں سنائی تھیں، جوموجودہ عدالتی نظام نے ختم کیں اور اُن کے تیسری بار وزیراعظم بننے کا راستہ ہموار کیا تھا۔

ہم ذاتی طور پر کسی این آراو کے الزام کو تسلیم نہیں کرتے ،اگر چہ ایک این آراو جو جنرل پرویزمشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہوا تھا اور اُس کے ضامن بھی بڑے بڑے ملک تھے،اُس کو عدالت نے بھی غیر آئینی قرار دیا تھا۔ شاید یہی وقت اور حالات کی ضرورت تھی یا پھر عدالت کو اپنی آزادی اور بالادستی کو ثابت کرنا تھا ،مگر پھر ایک سوال اصغر خان کیس کا بھی ہے ،جس میں سیاستدانوں کورقوم تقسیم کرنے کا معاملہ زیربحث آیا تھا۔ عدالت نے کئی سال بعد اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لئے اس کی سماعت بھی کی اور ایک فیصلہ بھی سنایا اور کہا کہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی ،جنہوں نے اعتراف جرم بھی کیا تھا ،اُن خلاف کارروائی کی جائے ،لیکن کیا اُن کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟

یوسف رضاگیلانی پر بھی تو یہی الزام تھا کہ اُنہوں نے عدالت کے حکم کو درخوراعتناءنہیں سمجھا اور توہین عدالت کے مرتکّب ہوئے۔تو صاحبو!آخری سچ یہی ہے کہ انصاف کے تقاضے بھی کچھ اور ہیں اور اُن کے لئے معیار بھی مخصوص ہیں۔    ٭

مزید : کالم