اسرائیل پر کپکپی کا عالم ہے

اسرائیل پر کپکپی کا عالم ہے

                                        ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تین روزہ مذاکرات بغیر کوئی نتیجہ اخذ کئے ختم ہو گئے، جس کا باقاعدہ اعلان اتوار کی صبح یورپی یونین کی سربراہ مس کیتھرائن آشٹن نے میڈیا کے سامنے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بھی موجود تھے، جنہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی اطلاع دی اور کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کیا۔ مس کیتھرائن نے بتایا کہ اب مذاکرات 10دن کے بعد 20 نومبر کو دوبارہ ہوں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگرچہ بہت سے معاملات طے پا گئے ہیں، مگر کچھ پیچیدگیاں موجود ہیں، جن کے باعث کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکامی ہوئی۔ مسٹر ظریف نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ جب تفصیل میں جزئیات کو زیر باعث لایا جائے تو نتائج کا حصول ذرا مشکل ہو جاتا ہے ،تاہم مذاکرات کے اگلے مر حلے میں کامیابی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔یہ مذاکرات جنیوا میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے تنازعہ کے سلسلے میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہوئے ۔ اگلے مذاکرات نچلی سطح پر ہوں گے۔ پولیٹیکل ڈائریکٹرکی سطح پر مذاکرات کی یہ بساط 20 نومبر کو بچھائی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ سے وزرائے خارجہ ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔

مذاکرات کے اختتام پر امریکی وزیر خارجہ مسٹر جان کیری نے دیگر عالمی طاقتوں کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وہ ان کے خیالات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان مذاکرات میں بہت سے پیچیدہ معاملات طے پا چکے تھے، مگر بڑی طاقتوں کی آپس کی لے دے کی وجہ سے کچھ ایشوز پر اتفاق نہ ہوسکا۔ فرانس کو مذاکرات کے ایجنڈے پر اعتراض تھا کہ اس کی روشنی میں جو بھی معاہدہ ہو گا، وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام ہو گا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ ان مذاکرات سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے، مگر بہت سے سوالات ابھی زیر بحث لانا باقی ہیں۔ مس کیتھرائن اور محمد جواد ظریف نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا۔ مسٹر جان کیری نے اپنی روانگی سے قبل بیان دیتے ہوئے کہا کہ دو ملکوں کے درمیان اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے جو ایک لمبے عرصے تک اختلافات کا شکار رہے ہوں، اس لئے ضروری ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دے، تاکہ گفتگو کا سلسلہ 6ماہ تک چلتا رہے اور اس کے نتیجے کی جانب کوئی پیش رفت ہو سکے اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ جان کیری نے متنبہ کیا کہ یہ مذاکرات سدا جاری رہنے والے نہیں ہوں گے، ایک مخصوص وقت میں ان کو ختم کرنا ہو گا۔

ایران امریکہ تنازعہ لگ بھگ ایرانی اسلامی انقلاب سے شروع ہوا جو اب اپنے انجام تک پہنچنے کے لئے بیتاب ہے۔ ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سے 1950ءمیں ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت وہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر کام کر سکتا ہے۔ 1970ءمیں امریکہ نے پہلی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف شکایت درج کروائی کہ ایران اپنے نیو کلیئر پروگرام کی آڑمیں ایٹم بم بنانے میں مصروف ہے۔ بات چلتے چلتے 2002ءتک آپہنچی۔ سلامتی کونسل نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا وفد ایران روانہ کیا۔ وفد نے اپنی انسپیکشن رپورٹ میں نیوکلیئر پلانٹ کو درست قرار دیا اور ایسے شواہد نہ ملنے پر اپنی تشفی اور تسلی کا اظہار کیا، جن سے مہلک ہتھیار بنانے میں مدد ملتی ہو، تاہم ایران نے ان کو اپنے سٹریٹیجک رازوں سے دور رکھا۔ معائنہ ٹیم کو بتایا گیا کہ ایران اپنی فوج کے تحت ہونے والی سرگرمیوں سے ٹیم کو آگاہ نہیں کر سکتا،یہ اس کے قوانین کے خلاف ہے۔ انسپکشن ٹیم کا مطالبہ اس وجہ سے بھی بلا جواز تھا کہ ایگریمنٹ میں یہ کلاز شامل نہ تھی جس کے تحت انسپکشن ٹیم ایران کے سٹرٹیجک معاملات میں دخل اندازی کر سکتی۔ معاملہ سیکیورٹی کونسل بھیجا گیا۔ سیکیورٹی کونسل نے ایران کو کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور ہیوی واٹر ری ایکٹر سے روکا اور ایگریمنٹ کو اضافی شرائط کے ساتھ ایران کو دستخط کے لئے بھیجا۔

 ایران نے ایٹمی پروگرام سے متعلقہ کلاز اورہیوی واٹر ری ایکٹر پروجیکٹ سے متعلق دستخط کر دئیے، لیکن اضافی شرائط کے پروٹو کول کو نہ مانا۔ دوبارہ پھر 2007ءکو ایران کے ایٹمی پروگرام کو وزٹ کیا گیا اور کافی سوالات ختم ہو گئے، لیکن ملٹری ڈائمنشن پر اعتراض جوں کا توں رہا۔ ایران اپنے اصل ایگریمنٹ، آرٹیکل IIپر پابند کھڑا ہے، یہی وجہ ہے کہ برطانوی فارن سیکرٹری ولیم ہیگ کچھ نہ کہہ سکے ، جب ان سے پارلیمنٹ کے ایک ممبر نے مارچ 2012ءکو پوچھا کہ کیا ایران نے آرٹیکل IIکو توڑا۔ دریں اثنا ایک رپورٹ کے مطابق ایران اپنے کام میں لگا رہا۔ اگست 2012ءمیں ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے میں ناکام رہا،کیونکہ Highly Enriched Uriniumکی مقدار ناکافی تھی۔ ایران نے بتایا کہ اس کا نیو کلیئر پاور پروگرام امن قائم رکھنے کے لئے ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی کونسل نے ایران پر پابندی لگا دی، لیکن وہ پھر بھی اس کام پر لگا رہا اور آہستہ آہستہ ہیوی واٹر ری ایکٹر پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا ،جس میں اس نے پلاٹینم کا استعمال کیا ،لیکن ری پروسیسنگ کے اس عمل پر ایران نے مزید کام بند کر دیا۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران کے نیوکلیئر وسائل کو مانیٹر کیا اور بعد ازاں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس میں فوجی مقاصد کا عنصر شامل نہیں ہے۔

خود امریکہ کے نزدیک ایران ابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار بنا سکے، لیکن تشویش اس بات کی ہے کہ اس کے پاس ڈیزائن بہت زبردست ہے۔ اگرچہ پروگرام غیر واضح ہے۔ اب لے دے کے کہانی ہیوی واٹر ری ایکٹر پروجیکٹ پر آکر دم توڑ سکتی ہے کہ اس پر کام بند کیا جائے۔ یہ پروجیکٹ جو ایران کے ایک شہر ایرک کے نزدیک واقع ہے، جس کی تکمیل کے لئے ماہرین کے نزدیک ابھی کم سے کم ایک سال اور چاہیے۔ جان کیری نے اسرائیل کے دورے کے دوران بھی اس پروجیکٹ کو وجہ تنازعہ بتایا اور اس پر کام بند کرنے کا مطالبہ کیا ،کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک بار اس پروجیکٹ نے کام کرنا شروع کر دیا تو پھر اس کو تباہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی بضد ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی تکمیل کے بغیر اس کے پورے منصوبے کو تباہ کر دیا جائے۔ اگرچہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے خود اس کے پاس چل کر اس کی تسلی تشفی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ معاہدہ تکمیل پذیر ہو جائے گا اور ایران کے ایٹمی آتش کدوں کی شعلہ فشانی ٹھنڈک میں تبدیل ہو جائے گی۔

امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اپنے اس لاڈلے بچے کو فون پر باور کرانے کی کوشش کی کہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، مگر یہ جنّ جو اسرائیل کہلاتا ہے، عالمی امن پر جیسے سیخ پا ہے اور سب کچھ ہڑپ کر جانے کے چکر میں ہے۔ غالباً اس پر کسی آسیب کا سایا یا خوف کا علم طاری ہے جو اسے چین کی نیند سے بیدار کر دیتا ہے۔ حالیہ بیان جو مذاکرات کے اختتام پر نیتن یاہو نے فرمایا ہے، جس کے مطابق وہ عالمی طاقتوں کی کوششوں سے مطمئن نہیں اور کم سے کم کسی معاہدے کے حق میں نہیں، وہ فوراً ایران پر چڑھ دوڑنا چاہتاہے، کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران اپنے ایٹم کا پہلا وار اس کی کھوپڑی پر کرے گا، چنانچہ اس پر خوف کا عالم طاری ہے ،وہ کچھ کر گزرنے کی صورت حال سے دوچار ہے، مگر اہل عقل و دانش کے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل کا انتظار کیا جائے۔      ٭

مزید : کالم