محرم کا پہلا عشرہ،نیازیں اور گرانی

محرم کا پہلا عشرہ،نیازیں اور گرانی
محرم کا پہلا عشرہ،نیازیں اور گرانی

  


                                        عشرہ محرم الحرام ختم ہونے کو ہے۔آج دسویں محرم ہے۔ملک بھر میں شہدا کربلا کی یاد منائی جارہی ہے۔تمام مسالک اپنے اپنے انداز فکرکے مطابق اس شہادت عظیم کا ذکر کررہے ہیں، پاکستان برصغیر کی تاریخ کے پس منظر میں ایک ایسا ملک ہے،جس میں احترام محرم ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور اس دوران خوشی کی تقریبات بھی التواءمیں رہتی ہیں۔

لاہور ایک تاریخی اور ثقافتی شہر ہے جو اپنے حوالوں سے مشہور ہے، اس شہر میں ایام محرم بھی احترام ہی سے منائے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔پرانے لاہور کو عزا داری کا مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے۔آج آبادی کے پھیلاﺅ کے باعث شہر کے دیگر علاقوں سے بھی جلوس برآمد ہوتے ہیں، تاہم قدیمی اور تاریخی جلوس ذوالجناح اب بھی نثار حویلی اندرون اکبری/موچی دروازہ کے بازار نوہریاں سے برآمد ہوتا ہے جو گزشتہ شب حویلی سے باہر آ کر اپنے قدیمی راستوں سے ہوتا ہوا اس وقت تک چوک نواب صاحب کے نزدیک کہیں ہوگا۔ اسے نماز مغرب تک کربلا گامے شاہ پروداع ہونا ہے۔قدیم روایات کے برعکس حفاظتی نقطہ ءنظر سے بہت ہی سخت قسم کے اقدامات کئے گئے ہیں حتیٰ کہ عزا داروں کو بھی دقت ہوتی ہے، لیکن یہ مجبوری ہے کہ دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ آج رات جب عاشورہ کے جلوس بخیریت اختتام پذیر ہوں گے تو عوام سکھ کا سانس لیں گے، اس وقت تو تمام انتظامی مشینری اس یوم کو پرامن بنانے کی طرف متوجہ ہے۔

محرم الحرام ہو، معراج النبی یا عید میلاد مصطفےٰﷺ یا شب برا¿ت جیسی دینی تقریبات ہوں، لاہور کی اپنی روائت ہے یہاں شہری اپنے اپنے طور پر نیاز کا اہتمام ضرور کرتے ہیں،حلوہ کلچہ بہت ہی معروف نیاز تھی اور اب بھی ہے، لیکن بات یہیں تک نہیں، پلاﺅ، بریانی، حلیم اور کھیر بھی پکائی اور تقسیم کی جاتی ہے۔بعض عقیدت مند خود کچھ پکانے کا اہتمام کرنے کی بجائے دوکانوں کا رخ کرتے اور مٹھائی کی مختلف اقسام خرید کر بانٹ لیتے ہیں ، بہرحال بات حصہ بقدر جثہ والی ہوتی ہے۔

اس مرتبہ بھی عشرہ محرم کے دوران یہ سلسلہ جاری رہا، دودھ اور شربت کی سبیلیں بھی لگائی گئیں اور نیاز بھی تقسیم ہوئی، تاہم نویں اور دسویں محرم کے دونوں ایام ایسے ہیں جن کے دوران یہ سلسلہ زیادہ ہوتا ہے۔اس مرتبہ بھی ہوا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اف توبہ بھی ہوتی رہی ، بازار کا رخ کرنے والوں کو احساس ہوا کہ ان کے روپے کی قدر ختم ہوگئی ہے اور جو شے چند ماہ پہلے تک پانچ روپے کی ملتی تھی اب وہ 8سے 10روپے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ کی ہوگئی ہے، اس مرتبہ تو ٹماٹر اور پیاز نے ہی لوگوں کے ذہن جھنجوڑ دیئے ہیں۔ ان دونوں سبزیوں کے بغیر کوئی بھی ہنڈیا نہیں پکتی اور یہی اس وقت سب سے مہنگی ہیں، جس کی وجہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی رپورٹ سے معلوم ہوئی کہ یہ اشیاء یا سبزیاں برآمد کرکے زرمبادلہ کمایا جارہا ہے، اور برآمدات کے حوالے سے اعدادوشمار اور ملکی ضروریات کو بھی پیش نظر نہیں رکھا گیا، اس لئے برآمد بھی زیادہ ہو رہی ہے۔خبریہ تھی کہ ملکی ضرورت پورا کرنے اور قیمتوں میں توازن کے لئے ٹماٹر اور پیاز کی برآمد روک دی جائے گی، لیکن یہ بھی حسرت ہی رہی کہ قومی اقتصادی کونسل کے ایجنڈے پر رکھے گئے اس موضوع پر بات ضرور کی گئی، لیکن برآمد پر پابندی کے فیصلے کو مو¿خر کردیا گیا۔کیوں نہ ہوتا کہ محترم اسحاق ڈار وزیرخزانہ ہیں اور وہ ڈالر جمع کرنے اور ڈالر کی شرح تبادلہ بڑھانے کا فرض پوری طرح ادا کررہے ہیں، ان کو ضرورت ہو تو وہ خود سرکاری طور پر بازار سے ڈالر خرید لیتے ہیں،78روپے والا ڈالر 108روپے کا یونہی تو نہیں ہوگیا۔بسم اللہ تو خود حکومت نے ہی کی اور بازار سے ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرط پوری کردی گئی۔

گزشتہ روز جب شہریوں نے نیاز کے لئے بازار کا رخ کیا تو ان کو سب سے بڑا دھچکا نان کی قیمت سے لگا۔چند روز (ایک یا ڈیڑھ ماہ) قبل یہ چھ روپے کا تھا، نیاز کے لئے نان بائیوں کا رخ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اب نان 8سے 15روپے تک کا ہے۔ یوں جس کا جتنا دم ہے اتنا خرید لے۔ ماضی میں عام شہری بھی ایک سو نان کی نیاز کا بندوبست کرتا تو اسے یہ شے پانچ سو روپے میں ملتی تھی جو اب 8سو سے پندرہ سو روپے تک ہوگئی۔ہم اندرون شہر کے پرانے باسیوں یا گوالمنڈی والوں کا ذکر کریں تو وہ ایک سو پچیس سے ڈیڑھ سو گرام کے نان پسند کرتے ہیں اور اب ان نانوں کے نرخ بارہ سے پندرہ روپے وصول کئے جا رہے تھے، جبکہ عام نان 8روپے کا بکا جس کے بارے میں ایک شہری کہتا ہے کہ پھونک مارو تو اڑ جائے۔

ہم نے یہ گزارشات یونہی نہیں کیں۔آج عاشورہ کا یوم ہے تو گزشتہ اور آئندہ دنوں میں بھی سودا تو خریدا ہی جانا ہے، چنانچہ نیاز کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو دور تک جاتی ہے ۔لوگ ہر شے کے نرخوں کی بات کرتے ہیں۔یوں بھی آج جب عاشورہ محرم اختتام پذیر ہوگا تو اگلے روز سے بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہوں گی جو کاغذات نامزدگی کے حوالے سے گزشتہ روز تک جاری تھیں۔تاوقتیکہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے دوماہ کی مہلت دی گئی اور الیکشن کمیشن نے سابقہ شیڈول منسوخ کرکے نئے شیڈول کے انتظار کی نوید سنا دی ،تاہم محفلیں تو ہو رہی ہیں اور انتخابات کی بات ہوتی ہے تو پھر مسائل ہی زیر غور آتے ہیں۔

جہاں کہیں بھی چند لوگ جمع ہوں وہ مہنگائی ہی کا ذکر کرتے ہیں، شاید ہمارا ملک واحد ملک ہے جو برآمد کی اجازت ہو تو ملکی ضروریات کو پیش نظر رکھے بغیر برآمد کی اجازت دے دی جاتی ہے۔چاہے مقامی طور پر قلت ہو اور اشیاءکے نرخ بڑھ جائیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ گندم کے ذخائر وافر مقدار میں تھے تو دس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی اور پھر یہی سلوک چینی اور اب پیاز اور ٹماٹر کے ساتھ کیا گیا۔ ملک میں نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے اور ہم برآمدات بڑھانے میں مصروف مقامی ضرورت کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔محرم الحرام کا پہلا عشرہ تو اللہ کے فضل سے پرامن طور پر گزر ہی جائے گا، لیکن ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ موجود ہے، چنانچہ انتخابی مہم کے دوران ایسے مسائل بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، کسی بھی وقت کنویسنگ والے کو سخت جواب دہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہوگا۔نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ آٹے نمک کی بات کرتے ہیں۔ حکومت کو جواب دینا ہوگا اور اگر یہ اطلاع درست ہے کہ ٹماٹر اور پیاز برآمد ہونے کی وجہ سے مہنگا ہوا تو یہ پالیسی غلط اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔اس پر فیصلہ مو¿خر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔حکمرانوں کو آنکھیں کھول کر اس طرف توجہ دینا ہوگی۔    ٭

مزید : کالم