سنی تحریک نے کالعدم تحریک طالبان کے حملوں کے اعلان پر شرعی کردار کے حوالے سے سفارشات جمع کروادیں

سنی تحریک نے کالعدم تحریک طالبان کے حملوں کے اعلان پر شرعی کردار کے حوالے سے ...

 لاہور (سٹاف رپورٹر)کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے سکیورٹی اداروں پر حملوں کے اعلان کے بعدملکی موجودہ صورتحال پر حکومت کے شرعی کردارکے حوالے سے پاکستان سنی تحریک علماءبورڈ نے اپنی سفارشات سربراہ پاکستان سُنی تحریک محمدثروت اعجازقادری کو ارسال کردیں ہیں۔ سربراہ پاکستان سُنی تحریک محمدثروت اعجازقادری یہ سفارشات وزیراعظم پاکستان،وزارت داخلہ اورپاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بھجوائیں گے۔مرکزاہلسنت(جامعہ غوثیہ ترنول)سے پاکستان سُنی تحریک علماءبورڈکے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے امیرحکیم ا للہ محسودکی ڈرون حملوں میںہلاکت کے بعدانتہائی مطلوب دہشتگردمولوی فضل اللہ کے امیرمنتخب ہونے، طالبان کی جانب سے مذاکرات سے راہِ فراراختیارکرنے،سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اورسیاسی قائدین پر حملوں کے واضح اعلان کے بعدقوم شدیدتشویش کا شکار ہے۔

اس صورتحال میں وفاقی حکومت اور پاک فوج کی قیادت کو چاہیے کہ قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے اہم فیصلے کیے جائیں۔اس تناظر میںپاکستان سنی تحریک علماءبورڈنے حکومت کی شرعی ذمہ داری کے حوالے سے اپنی سفارشات مرکزاہلسنت کراچی بھجوادیں ہیں۔سربراہ پاکستان سُنی تحریک محمدثروت اعجازقادری علماءبورڈکی سفارشات اورمطالبات کل وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اورپاک فوج کو بھجوائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ڈرون حملوں کے نتیجے میںسینکڑوںبے گناہ شہریوں ،بچوں اور خواتین کی شہادت کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چا ہئے۔ پا کستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت انتہائی قابل مذمت ہے لیکن امریکی ڈورن کابدلہ بیگناہ لوگوں سے لیناجہاد نہیں ظلم ہے۔ حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی ذمّہ داری پاک فوج پر نہ ڈالی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4