سیلاب متاثرین کی آبادکاری ۔۔۔محمد شہبازشریف کے وعدے کی پاسداری

سیلاب متاثرین کی آبادکاری ۔۔۔محمد شہبازشریف کے وعدے کی پاسداری
سیلاب متاثرین کی آبادکاری ۔۔۔محمد شہبازشریف کے وعدے کی پاسداری

  

اللہ تعالی نے وطن عزیز کو تاریخ کے بد ترین سیلاب سے پیدا ہونے والے بحران سے جس طرح سرخرو کیا ہے اس پر جتنا بھی شکرادا کیا جائے کم ہے ۔پنجاب کے وزیراعلی محمد شہباز شریف نے عوام کے درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہوئے سیلاب زدہ علاقوں سے عوام کے بحفاظت انخلاء اور بحالی کے لئے جس تندہی سے کام کیا شائد پاکستان کی تاریخ میں اس کی نظیر نہ ملے۔حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب بھر کے 36اضلاع میں بیشتر بڑے اضلاع پانی کی بپھری ہوئی لہروں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔14لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے طوفانی ریلے نے پنجاب بھر کے 3055گاؤں کو بری طرح متاثر کیاجس میں 38082گھر کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئے 23لاکھ ایکڑ سے زائد فصلیں تباہی اور بربادی کا شکار ہوئیں جبکہ غریب دیہاتیوں کو 855مویشیوں کی ہلاکت کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔سیلاب اور اس کی وجہ سے آنے والی تباہ کاری کے نتیجے میں 286شہری جاں بحق جبکہ 447زخمی ہوئے۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر سیلاب زدہ علاقوں سے عوام کے بحفاظت انخلاء کی سرگرمیاں شروع کرنے کا حکم دیا اور ان کی نگرانی پر جت گئے ۔وزیراعلی کے حکم پر فوری طورپر پنجاب بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں 492ریلیف کیمپ قائم ہوئے جہاں سرکاری طورپر ایک لاکھ 73ہزار 224افراد نے ریلیف کی ڈیوٹی سرانجام دی۔17 لاکھ34ہزار 519 افراد تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثر ہوئے جبکہ 6لاکھ 88 ہزار 348 افراد کو وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کی نگرانی میں ہونے والے بروقت اور موثرترین ریلیف آپریشن کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں سے نکال لیاگیا ۔متاثرہ افراد کے لئے ریلیف آپریشن مکمل ہوتے ہی دیگر ضروری سرگرمیاں بھی شروع کردی گئیں ۔ ریلیف کیمپوں میں 2لاکھ65 ہزار 981 افراد کو طبی سہولتیں فراہم کی گئیں جبکہ محکمہ لائیو سٹاک نے ایک کروڑ61 لاکھ50 ہزار 346 مویشیوں کی ویکسینیشن کا آپریشن مکمل کیا گیا۔

وزیراعلی محمد شہبازشریف نے متاثرین سیلاب کو مالی امداد کی پہلی قسط کے آغاز کے پہلے روز یکم اکتوبر 2014ء کو پانچ متاثرہ اضلاع حافظ آباد، سرگودھا، منڈ ی بہاؤالدین ، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے علاقوں کے10 گھنٹے تک طوفانی دورے کئے اور سیلاب زدگان کو دنوں میں مالی امداد کا تحیرآمیز وعدہ پورا کیا ۔ وزیرآباد میں مالی امداد کی تقسیم کی تقریب کے دوران وزیراعظم محمد نوازشریف نے وزیراعلی محمد شہبازشریف اور ان کی ٹیم کو اتنی جلدی امدادی رقوم کی ادائیگی کا کام شروع کرنے پر مبارک باد پیش کی ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلے ہی روز 13 ہزار 845 سیلاب متاثرین کو 34 کروڑ 61 لاکھ کی ریکارڈ رقم تقسیم کی گئی ۔ دوسرے روز وزیراعلی پنجاب چنیوٹ کی تحصیل لالیاں اور جھنگ کی تحصیل 18 ہزاری پہنچ گئے اور امدادی رقم کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا ۔ حکومت پنجاب نے متاثرہ خاندانو ں کی آباد کاری کے لئے 25 ہزار فی گھرانہ امداد کی ادائیگی عید سے قبل مکمل کی ۔ اس سلسلے میں شکایات کے ازالے کیلئے اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ سرکاری افسران پر مشتمل ضلعی کمیٹیاں قائم کی گئیں ۔ حکومت پنجاب نے بینک ، نادرا اور موبائل نیٹ ورک کمپنی کے اشتراک سے امدادی رقوم کی ادائیگی کا فول پروف انتظام وضع کیا جبکہ امدادی

مراکز پر سیلاب زدگان کی آمد و رفت کے لئے ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کا اہتمام بھی کیاگیا۔پہلی قسط کی ادائیگی کا کام کابینہ کمیٹی کی نگرانی میں 5 اکتوبر تک مکمل کرلیاگیا ۔

وزیراعلی محمد شہبازشریف نے سیلاب متاثرین کو دوسری قسط کی ادائیگی کے لئے سیلاب متاثرین کے گھرو ں اور فصلوں وغیرہ کے نقصانات کا سروے کی بنیاد پر تخمینہ لگاکر امداد دینے کی ہدایت کی اور اعلی سطح کے اجلاس میں سروے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کی امداد کا دوسرا مرحلہ 10نومبر سے شروع ہوچکا ہے جس کے تحت 11 ارب 72 کروڑ روپے پہلے مرحلے میں تقسیم کئے جائیں گے جبکہ 4 ارب 30 کروڑ روپے پہلے مرحلے میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ اس طرح 16ارب روپے متاثرین میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی پے آرڈر کے تحت کی جائے گی جس کے لئے متاثرہ اضلاع میں 59 سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل کی مانیٹرنگ کے لئے صوبائی وزراء کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔ سیلاب متاثرین کی امداد میں 50 فیصد وفاقی حکومت نے دیا ہے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر غریب متاثرین کو اپنا روزگار شروع کرنے کے لئے 10 ہزار روپے فی خاندان دیئے جائیں گے۔مکمل طور پر تباہ شدہ گھر کا تخمینہ80ہزار روپے لگایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ان کو 25ہزار روپے ادا کر دیئے گئے ہیں۔ اب دوسرے مرحلے میں ان کو مزید55ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ اسی طرح کم نقصان پہنچنے والے گھر کا تخمینہ 40ہزار روپے ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کو بھی مزید 15ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ جبکہ 25ہزار روپے مرحلے میں ادا کر دیئے گئے ہیں۔ ایک لاکھ 92ہزار کسانوں کو 10ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی۔ سینٹروں میں نادرا اور بنک آف پنجاب کے کاؤنٹرقائم کئے گئے ہیں اور متاثرین پے آرڈر کے ذریعے پانچ بنکوں، یو بی ایل‘ حبیب بنک‘ نیشنل بنک‘ مسلم کمرشل بنک اور بنک آف پنجاب کی کسی بھی برانچ سے رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پے آرڈر 6ماہ تک موثر رہے گا۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی قیادت میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن شروع کیا گیا۔ سیلاب سے 286افراد جاں بحق ہوئے اور ان کے لواحقین کو 16لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ادائیگی کر دی گئی ہے۔ متاثرین کو 90ہزار 600 ٹینٹ‘ 2لاکھ کے قریب فوڈ ہیمپرز بھی فراہم کئے گئے۔ اسی طرح 23ہزار مچھردانیاں‘ پانی صاف کرنے کی 25لاکھ گولیاں‘ منرل واٹر کی ڈیڑھ لیٹر کی 23 لاکھ بوتلیں فراہم کی گئیں۔ جبکہ جانوروں کے لئے 1.5ملین کلوگرام ونڈا بھی پہنچایا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ 16اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو 2 ارب 23 کروڑ روپے کے فنڈز فوری طور پر جاری کئے گئے تاکہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے فوری اقدامات کر سکیں۔وزیراعلی کی ہدایت پر ونٹر پیکج کے تحت سیلاب متاثرین میں 25 ہزار رضائیاں بھی تقسیم کی جائیں گی ۔

وزیر اعلی پنجاب نیحافظ آباد کے علاقے ونیکے تارڑ میں سیلاب متاثرین میں دوسرے مرحلے میں مالی امداد کی ادائیگی کے حوالے سے منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف اورآپ کے اس خادم نے جو وعدہ سیلاب متاثرین کے ساتھ کیا،اسے پورا کیا ہے ۔ وزیراعلی نے بتایا کہ ضلع حافظ آباد میں 10572سیلاب متاثرین کو61کروڑ روپے کی مالی امداد دی جاررہی ہے ۔پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی اورآبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھے گی اورجب تک آخری متاثرہ شخص اپنے گھر میں دوبارہ آباد نہیں ہوجاتا پنجاب حکومت کام جاری رکھے گی۔ امداد کی تقسیم کیلئے شفاف نظام وضع کیاگیا ہے ۔سٹیلائٹ ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اوردیگر ذرائع سے نقصانات کا سروے کرایا گیا ہے ،پٹواری کو اس عمل میں شامل نہیں کیاگیا۔ وزیراعلی نے اس موقع پر ونیکے تارڑ میں ادائیگی سنٹر کا دورہ کرکے بہترین انتظامات پر عملے کو شاباش بھی دی ۔

وزیراعلی محمد شہبازشریف سیلاب متاثرین کو مالی امداد کی ادائیگی کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں 11 نومبر کو ملتان پہنچ گئے اور سپورٹس کمپلیکس ملتان میں ادائیگی سنٹر کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت نے انتہائی قلیل مدت میں امدادی رقم تقسیم کرکے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ۔ انہو ں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور انتظامات کے بارے میں دریافت بھی کیا ۔

خادم پنجاب امدادی پیکج 2014ء کے تحت 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین میں 16 ارب روپے کی خطیر رقم تقسیم کی جارہی ہے ۔ امدادی رقم کی تقسیم کے دوسرے مرحلے کے ابتدائی دو روز میں 56 ہزار663 سیلاب متاثرین میں ایک ارب 61 کروڑ روپے مالیت پے آرڈر تقسیم کئے گئے ۔ امدادی پیکج کے تحت جزوی متاثرہ مکان کے لئے 40 ہزار روپے مکمل تباہ شدہ مکان کے لئے 80 ہزار روپے ، فصلات کے نقصان پر فی ایکڑ 10 ہزار روپے اور روزگار سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب متاثرہ علاقوں کے غریب گھرانوں کو 10 ہزار روپے فی خاندان ادائیگی کی جائے گی ۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں وزیرداخلہ کرنل(ر) شجاع خانزادہ نے خصوصی اجلاس میں امدادی رقوم کی ادائیگی کا جائزہ لیا ۔ اجلاس میں بتایاگیاکہ دوسرے مرحلے میں 71 ہزار زائد سیلاب متاثرین میں 2 ارب 60 کروڑ روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں ۔

وزیراعلی کی ہدایت پر صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے ضلع نارروال کے جمنیزیم ہال میں قائم ادائیگی سنٹر کا معائنہ کیا اور متاثرین سے فردا فردا اقدامات کے بارے میں دریافت کیا ۔ صوبائی وزیر کو بتایاگیا کہ نارروال میں 5 ہزار متاثرین کو 22 کروڑ کے امدادی چیک دیئے جارہے ہیں ۔ ضلع مظفر گڑھ میں میں صوبائی وزیر ملک اقبال چنڑ نے 8 ادائیگی مراکز کا جائزہ لیا جہاں 75 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کو 2 ارب کی امدادی رقوم دی جارہی ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی میاں یاور زمان نے ضلع جھنگ کی تحصیل احمد پور سیال میں سیلاب زدگان کو امدادی رقوم کی دوسری قسط کی ادائیگی کے عمل کا جائزہ لیا ۔ *

مزید :

کالم -