سریئے سے گارڈرتک

سریئے سے گارڈرتک
سریئے سے گارڈرتک

  

پچھلے دنوں مسلم لیگ پنجاب کے سابق صدر اور سابق گورنر پنجاب اور موجودہ سینٹر ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو کے دوران میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کے بارے میں یہ کہا کہ پہلے ان کی گردنوں میں سریا تھا اب گارڈر آگیا ہے۔ میاں صاحبان کا کاروبار سریئے اور سٹیل کے حوالے سے مشہور ہے اس لئے ان کی فرم اتفاق فونڈریز سریا بھی بناتی ہے اور گارڈر بھی، اس حوالے سے سریے اور گارڈر کی اصطلاح خوب ہے۔ ذوالفقار کھوسہ 1985ء سے میاں صاحبان کے ساتھی چلے آ رہے ہیں اس دوران موصوف صوبائی وزیر سینئر وزیر، مسلم لیگ کے صوبائی صدر، سینئرمشیر، گورنر اور یہاں تک کہ موصوف کے ’’ٹیلنٹڈ‘‘ فرزند دوست محمد کھوسہ چند ماہ کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ کھوسہ صاحب کو میاں صاحبان کی گردنوں میں سریئے کا کب علم ہوا اس بارے تو انہوں نے کچھ نہیں بتایا ، ہاں اتنا ضرور کہا کہ پہلے ان کی گردنوں میں سریا ہوتا تھا اور اب گارڈر ہے ان کی اس بات سے تو ایسا لگتا ہے انہیں سریا پسند تھا، کیونکہ 1985ء سے لے کر آج تک انہوں نے عوام کو یہ بتانا پسند نہیں فرمایا کہ ان کی قیادت کی گردنوں میں سریا ہے اور یہ قابل اعتراض بات ہے، یا شاید بات کچھ اس طرح سے ہو کہ سردار موصوف کو سریا پسند ہو اور گارڈر ناپسند۔ ویسے بھی آج کل گارڈر ڈیمانڈ میں کم ہوگیا ہے، کیونکہ جدید فن تعمیر میں اب گارڈر کے بجائے سریے کا استعمال بڑھ چکا ہے ۔ شاید ایک متروک چیز اپنی قیادت کی گردنوں میں سردار صاحب کی ناپسندیدگی کی وجہ ہو۔

خیر یہ ساری باتیں تو کھوسہ صاحب جانیں یا ان کی محبوب قیادت آخر یہ کوئی دوچار دنوں کی بات تو ہے نہیں ان دونوں کا ساتھ قریباً 30سال پرانا ہے، اتنے پرانے تعلقات میں تو ایک دوسرے کی گردنوں اور جسم کے دوسرے حصوں کے بارے بھرپور علم ہوہی جاتا ہے۔

ملک عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاست میں نہ لوگوں کو ساتھ رہنا آتا ہے اور نہ ہی اختلاف کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ جب سیاست میں ذاتی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں تو نہ کوئی اصول اور نہ ہی کوئی عزت واخلاق کی بات، ذاتی مفادات پورے ہورہے ہوں تو سیاسی قیادت قبلہ وکعبہ ٹھہرتی ہے اور مفادات پر ضرب پڑتی ہوتو سیاسی قیادت راندہ درگاہ۔ گردنوں میں سریے کا استعارہ ہمارے معاشرے میں عام طورپر کسی بھی شخص کے ذاتی تکبر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اب اس حوالے سے اگر آپ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈر کے بارے سروے کرایا جائے تو جواب ایک ہی آئے گا کہ ہمارے سیاستدان انتخابات میں کامیاب ہوتے ہی بدل جاتے ہیں، اور ان کی گردنوں میں سریا آجاتا ہے۔ جب انتخابی مہم میں عوام سے ووٹ مانگ رہے ہوتے ہیں تو یہ عوام کے قدموں میں بچھ جانے کو تیار ہوتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہی ان کے دروازے بند اور اب عوام ان کے پیروں کی جوتی قرار پاتے ہیں۔ قصور صرف سیاستدانوں کا ہی نہیں من حیث القوم ہمارا رویہ ہی کچھ اس طرح ہوگیا ہے کہ ہر شخص اختیار ملنے سے قبل خادم اور اختیار حاصل ہوتے ہی سردار بن جاتا ہے۔ پولیس کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ ترین عہدے پر بیٹھنے والے شخص کی ایک جیسی ہی سوچ نظرآتی ہے۔ تو پھر کھوسہ صاحب کیوں ناراضگی کا شکار ہوگئے۔ اہلِ ڈیرہ غازیخان سے زیادہ کون جانتا ہے اور جنوبی پنجاب میں یہ بات کس سے پوشیدہ ہے کہ خود کھوسہ سردار اختیارات کے زمانے میں اور بے اختیاری کے زمانے میں کیا طرزعمل اختیار کرتے ہیں۔ عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے تو سردار صاحبان اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ مل کر ایک ایک گھرسے ووٹوں کی بھیک مانگنے ان کے دروازوں پر جارہے ہوتے ہیں۔ لیکن اقتدار کی منزل حاصل ہوتے ہی دوبارہ سردار بن جاتے ہیں۔ عوام کے ذریعے وزیر مشیر اور گورنری حاصل کرنے والے سردار صاحب اقتدار حاصل ہوتے ہی عوام کو اپنے پیروں کی جوتی سمجھتے ہیں نہ وہ ان گندے لوگوں کے ساتھ عید منانے کو تیار ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی ذاتی تقریبات میں شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں یہ کوئی نئی بات تو نہیں کہ غیرضروری افراد سے ملاقات سے پرہیز بہتر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر میاں صاحبان نے کھوسہ صاحب اور ان کے پسران کو غیرضروری افراد قرار دے دیا ہے تو اتنی ناراضگی کیوں، ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ‘‘۔

اسی انٹرویو میں کھوسہ صاحب نے ایک اور دعویٰ بھی کیا کہ وہ خاندانی مسلم لیگی ہیں اور وہ خود مسلم لیگ میں ہیں اس لئے انہیں مسلم لیگ سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ مسلم لیگ کی ایک بات تو ہے کہ اس میں ہر شخص خاندانی مسلم لیگی ہوتا ہے۔ رہ گئی بات آنے اور جانے کی تو مسلم لیگ اتنی بڑی جماعت ہے کہ نہ اس میں آنے کی کوئی پابندی اور نہ جانے کے لئے کوئی رکاوٹ۔ رہ گئے پاکستانی عوام تو وہ تواپنے سیاستدانوں سے سوال وجواب کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ کھوسہ صاحب نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن ایجنٹ ہونے کا ذکر تو انٹرویو میں زور وشور سے کیا، لیکن موصوف اقتدار کی خاطر پیپلزپارٹی میں شمولیت کا واقعہ گول کرگئے اور یہ بتانا بھی بھول گئے 1977ء کے مشہور زمانہ انتخابات میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر امیدوار تھے اور صوبائی اسمبلی کے جعلی انتخابات (کیونکہ تمام پارٹیاں انتخابات کا بائیکاٹ کرچکی تھیں) میں پیپلزپارٹی کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے ممبر بھی بن گئے تھے۔ اسی طرح سردار صاحب نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اپنی مہم کا ذکر تو بہت کیا لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ اسی مہم کے دوران انہوں نے عوام کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے ’’ٹیلنٹڈ‘‘ فرزند دوست محمد کھوسہ کو اپنے بدترین مخالف سردار مقصود خان لغاری کے ساتھ نائب ناظم ضلع ڈیرہ غازیخان بھی بنوایا تھا۔ سچ ہے عوام کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے اور رہ گئے ، ہمارے انٹرویو لینے والے چینل کے میزبان تو وہ شاید وضع داری میں یہ باتیں بھول گئے ہوں گے۔

کھوسہ صاحب کا یہ بھی دعویٰ ہے انہیں سینیٹر میاں نواز شریف نے نہیں بلکہ مسلم لیگ نے بنوایا ہے یہاں بھی وہ آدھا سچ بولتے نظر آئے یقیناً مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ہی موصوف سینیٹر بنے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلم لیگ کا ٹکٹ میاں نواز شریف نے ہی جاری کیا تھا۔ اس کے بغیر تو موصوف کو اپنے انتخاب کے لئے درخواست فارم پر تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے لئے بھی کوئی ممبر دستیاب نہ ہوتا کیونکہ آپ کے تمام فرزندان اس دفعہ اسمبلی سے باہر تھے اور آپ کے کزن سردار امجد کھوسہ کو آپ سے وہی شکایت ہے جو آپ میاں صاحبان کی گردنوں کے بارے میں کررہے ہیں۔ ویسے سردار صاحب اپنے قائدین سے ہمیشہ لڑائی اعلانیہ کرتے ہیں لیکن بعد میں صلح چپ کرکے کرلیتے ہیں۔

شاعر بے مثل ظفراقبال کا شعر کھوسہ صاحب آپ کی نذر ہے اسے پڑھئے اور غور فرمائیے ۔ عمل کرنا اتنا ضروری نہیں:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پہ ظفر

آدمی کو صاحبِ کردار ہوا چاہئے

مزید :

کالم -