الیکٹرونک میڈیا اور اُبھرتی ہوئی شخصیات

الیکٹرونک میڈیا اور اُبھرتی ہوئی شخصیات
 الیکٹرونک میڈیا اور اُبھرتی ہوئی شخصیات

  

کوئی شک نہیں پوری دنیا میں الیکٹرونک میڈیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہاہے۔سچ تو یہ ہے کہ اب کوئی بھی آسانی سے الیکٹرونک میڈیا کو مات نہیں دے سکتا۔انتخابات کے موقعہ پہ جس طرح الیکٹرونک میڈیا کا سہارا لیا گیا اور جس طرح عوامی حمایت حاصل کی گئی وہ اپنی طر ز کی منفرد مثال ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے معاشرے میں الیکٹرونک میڈیا کے کردار کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ مشرف دور میں جس طرح میڈیا کو آزاد کیا گیا، پھر اُسی میڈیا نے تخت مشرف گرانے میں اہم کردار ادا کیا اس سے آنے والے سیاست دان بھی میڈیا کے آزادانہ استعمال سے واقف ہوئے۔ میڈیا کی آزادی بس یہیں تک قائم نہیں رہی، بلکہ وکلاء کے استحصال کا معاملہ ہو یا پھر یوسف رضا گیلانی جیسے وزیراعظم کو پارلیمنٹ سے کورٹ، کورٹ سے پھر گھر کا معاملہ ہو، ان تمام معاملوں میں میڈیا نے پہلی بار خاموش تماشائی کی حیثیت کو توڑتے ہوئے جو کردار ادا کیا وہ نا قابل فراموش ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ٹاک شوز کی روایات نے سیاست دانوں کو عجیب سے اُکھاڑے میں لاکھڑا کیاہے اور ہر کسی کو یہ لگنے لگا ہے کہ اگر وہ پچھلے کا رناموں پر تھوڑا سا رو کر یا تھوڑی سی ندامت کا اظہار کر کے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتاہے تو الیکٹرونک میڈیا ہی اس کا بہترین حل ثابت ہو گا۔ شیخ رشید کا آج کل کافی چرچا ہے، ان کے بے شمار انٹرویوز جس طرح منظر عام پر آئے ہیں اُنہوں نے اُنہیں کافی شہرت دی ۔ ایسے لگتا ہے جیسے سب کو سدھارنے کا ذمہ اُنہوں نے اٹھا رکھا ہے ۔البتہ خود کو سدھارنے سے کُوسوں دور رکھا ہے ۔بات واقعی سچ ہو سکتی ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتاہے۔ شائد اس وجہ سے یہ لال حویلی کے حضرت کامیاب نہیں ہو پائے۔

شیخ رشید کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور ان کا سیاست سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن سے اپنا اصل سیاسی سفر شروع کرنے والے شیخ رشید1985 میں قومی اسمبلی کے ممبر بنے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ چھ بار ایم این اے منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں نواز شریف کا دست شفقت بھی حاصل رہا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپنی دروغ گوئی کی بدولت وہ خاصی شہرت تو حاصل کر چکے ہیں، لیکن پھر بھی اُنہیں ووٹ ہمیشہ کم ہی پڑے ہیں۔یہ حال صرف ان کا نہیں،بلکہ ان کی دوست جماعت پاکستان تحریک انصاف کا بھی ہے۔ عوام کو نیا پاکستان بنانے کا خواب دکھانے والے کے مجمع میں بھلے دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی ہو، لیکن کامیابی اب تک مشکوک ہے۔دونوں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حقیقت میں یہ بھی الیکٹرونک میڈیا کا ہی کمال ہے، جس نے عوام کو اس حد تک باشعور کر دیاہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں جرأت مند لوگوں کی کمی نہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان افراد کے ساتھ صاحب اقتدار لوگوں نے کچھ اچھا نہیں کیا۔

مزید :

کالم -