بھارتی حکومت اور کرنے کے کام

بھارتی حکومت اور کرنے کے کام
بھارتی حکومت اور کرنے کے کام

  



جب سے بی جے پی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے پاک بھارت تلخیوں میں بھی زبر دست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ موجودہ بر سر اقتدار جماعت کے دور حکومت میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جس میں پاکستان کے خلاف زہر نہ اگلا گیا ہو۔ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے انڈیا نہ صرف مذاکرات کی میز سے کئی بار فرار ہوا بلکہ پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ، ایل اوسی پر مسلسل فائرنگ کے واقعات اورپاکستان کے داخلی معاملات میں بے جا مداخلت آئے روز کا معمول بن چکے ہیں ۔ خدا نخواستہ پاکستان کو عدم استحکا م کا شکار کرنے کے لیے انڈیا اس وقت تمام تر حربے استعمال کر رہا ہے جس کا اندازہ یہیں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف جب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو دوسری جانب مشرقی محاذ پر جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کر دی گئی جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ صرف یہی نہیں بلوچستان اور پورے پاکستان میں را کی کارروائیوں سے کون واقف نہیں ۔اسی سلسلہ میں پاکستان نے اقوام عالم کو بھی را کے خلاف ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔

سرحد پار سے کئی دفعہ یہ بیان بھی جاری کیا گیا کہ پاکستان کو اندر گھس کر مارا جائے ۔یہاں ہم یہ عرض کرتے جائیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی انڈیا پاکستان کے خلاف جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے ۔ یہ محض گیدڑ بھبھکیا ں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے ۔ کیونکہ موجودہ حکومت نے عام انتخابات میں پاکستان مخالف اور مسلم دشمن پالیسیوں کی بنیاد پر ووٹ بینک حاصل کیا ۔جسے اب وہ نہ صرف محفوظ کرنا چاہتی ہے بلکہ پاکستان مخالف کارڈ استعمال کر کے عوام میں اپنا اثرورسوخ بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ لیکن دوسری جانب عوام کی فلاح و بہبود کی دعوید دار دنیا کی سب سے بڑی جمہوری حکومت کے دور اقتدار میں عوام کی حالت زار پر ایک نظر ڈالی جائے تو کافی مایوس کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آئیے ایک جھلک دیکھیں ۔ یہ اتر پردیش حکومت کا ایک اشتہار ہے جس میں ریاستی اسمبلی کے لیے368 چوکیداران اور چپڑاسیوں کی ضرورت ہے جن کی تعلیمی قابلیت صرف پرائمری پاس اور اضافی قابلیت سائیکل چلانا جانتا ہو۔ اب ان سیٹوں پر بھرتی کے لیے جو درخواستیں موصول ہوئیں ان کی تعداد تقریباً تئیس لاکھ پچیس ہزار تھی جن میں پچیس ہزار افراد نے ماسٹر ڈگری تک جبکہ دو سو پچیس افراد نے پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ تک )کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے ۔ یہ حکومت کی گڈ گورنینس کا ایک دوسرا رخ ہے۔ خیر انڈیا میں ہر تیسرا گریجوایٹ بے روزگار ہے اور نوجوانوں کوبے روزگاری کی اس سے نکالنے کے لیے حکومت کو ہر سال کم ازکم ایک ملین جابز پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے بے روزگاری میں زبر دست اضافہ دیکھنے کو ملا۔ صرف یہی نہیں پورے انڈیا میں لگ بھگ کوئی تیس فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یاد رہے کہ جو افراد روزانہ سینتیس سے سینتالیس روپے تک خرچ کرسکتے ہیں ان کو خط غربت سے اوپر رکھا گیا ہے۔ اس رقم میں صرف دو وقت کی روٹی بمشکل پوری ہو گی باقی لوازمات زندگی کے بارے میں تو سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ چالیس ملین افراد بے روزگاری کا شکار اور کل آبادی کا چھپن فیصد افر اد یعنی لگ بھگ چھ سو اسی ملین افراد بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ،جن میں رہائش کے لیے گھر ، خوراک ، صحت اور تعلیم وغیرہ شامل ہیں، اب عوام کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے مودی سرکا ر ان کی پارٹی اور حامی سیاستدانوں کو چاہیے کہ عوام کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج پیدا کرکے اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی بجائے ان کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ کیونکہ ان کے دور حکومت میں عوام کی حالت زار خطر ناک حد تک قابل رحم ہوتی جارہی ہے۔ ان حالات میں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔نہ کہ ان کی ہمدردیوں کو سمیٹنے کے لیے اوچھے ہتھ کنڈے استعمال کیے جائیں۔

یہاں ہم انڈین عوام سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ بھی پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔ باقی رہی پاکستان سے جنگ کی بات ، تو مودی سرکار! پاکستان پہلے دن سے ہی امن کا داعی ہے اور اس عزم پر کاربند کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں ۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان اور بھارت پہلے ہی لاحاصل جنگیں لڑچکے ہیں۔ جن میں سوائے وسائل کی بربادی اور انسانی تباہی کے کیا حاصل ہوا؟ اب بے روزگاری، دہشت گردی ، بم دھماکے پاکستان کا بھی مسئلہ ہیں لیکن حکومت پاکستان کے ان کے خلاف موثر اقدامات کر رہی ہے ۔ اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نام نہاد طاقتوں کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے اور خطے میں چودھراہٹ کے خواب دیکھنے کی بجائے حقائق کو سامنے رکھ کر زمینی حقائق کو دیکھیں اور عوام کی فلاح وبہبود کے اقدامات اٹھائیں۔ وگرنہ جس طر ح کا رویہ آپ نے اپنایا ہوا ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ مشورہ یہی ہے کہ کرنے کے کام کریں اور اپنی توانائیاں مثبت سمت میں صرف کریں جن سے نہ صرف آپ کے عوام کی حالت سدھرے گی ، بلکہ ملکی ترقی میں اضافہ ہو گااورخطے پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے باقی اگر آپ ہمسایوں کے ساتھ لڑائی جھگڑوں اور دھونس دھاندلی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔ اس طرح حاصل کچھ نہیں ہو گا جس کا ادراک شاید وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو بھی ہو جائے گا۔

مزید : کالم