سی پیک کے ہماری معیشت پر اثرات

سی پیک کے ہماری معیشت پر اثرات
 سی پیک کے ہماری معیشت پر اثرات

  

دوسری جنگ عظیم کے بعد روس میں سوشلزم نے زور پکڑا تو عوامی طاقت کو صنعتی ترقی کے لئے ارزاں قیمت پر استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے کپڑا، صنعتی مشینری اور روزمرہ کے استعمال کی چیزیں روس میں نہایت ارزاں قیمت پر تیار ہونے لگیں۔ سوشلزم کی وجہ سے پرتعیش اشیا ء کا استعمال روسی عوام کے لئے ممکن نہ تھا۔ روسی حکومت کے لئے اپنی پروڈکشن کو جغرافیائی حالات کی وجہ سے برآمد کرنے میں نہایت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔روسی دانشوروں کو اس کا حل بحیرہ عرب ،بحیرہ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچ کر برآمدات کی ترسیل کو بڑھانا تھا جس کے لئے انہوں نے 1960ء کی دہائی میں گوادر تک پہنچنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔جس پر عملی جامہ پہنانے کے لئے 1979ء میں پہلے فیز میں افغانستان پر قبضہ کر لیا اور اس کے لئے 200ارب ڈالر سے زائد استعمال کئے گئے ۔ امریکہ کو روس کے گوادر تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کا علم تھا روس کے گرم پانی تک پہنچنے سے امریکہ کی برآمدات کو زبردست دھچکا لگنا تھا۔ کیونکہ روسی اشیاء کی قیمتیں امریکی اشیاء کی قیمتوں سے چار سے چھ گنا کم تھیں۔

1979ء میں پاکستان میں صدر ضیاء کی حکومت روس کے اقدامات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی بجائے امریکہ کے فوجی اقدام کو ترجیح دی گئی۔ اور پاکستان کو کلاشنکوف کلچر میں دھکیل دیا گیا طالبان القاعدہ اور جہادی تنظیموں کو فروغ دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ امریکہ کو افغانستان کی جنگ سے سیاسی، معاشی اور عسکری فوائد حاصل ہوئے ۔ امریکہ نے اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد صدر ضیاء کو تنہا چھوڑ دیا۔ روس اپنی برآمدات کے ترسیلی اہداف کو حاصل نہ کر سکا۔ جس کی وجہ سے معاشی طور پر 1992ء میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ 1960ء کی دہائی میں کمیونزم نے زور پکڑنا شروع کیا اور چین کی افرادی قوت حکومتی کنٹرول میں آنے کے بعد صنعتی اور زرعی پروڈکشن میں بے انتہا اضافہ ہونا شروع ہوا اور 80اور 90کی دہائی میں پروڈکشن عروج پر پہنچ گئی۔ چین کے پاس برآمدات کے لئے گرم پانیوں کا ترسیلی نظام موجود تھا لیکن خصوصی طور پر امریکہ مڈل ایسٹ ہندوستان ایران اور دیگر ممالک کے لئے برآمدات کا ترسیلی نظام کافی طویل تھا۔اور چینیوں نے 80کی دہائی سے گوادر کو اپنے ترسیلی نظام میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی پہلے فیز میں شاہراہ ریشم تعمیر کرکے پاکستان تک رسائی حاصل کی۔

اس عمل میں چینیوں نے اپنی سیاسی بصیرت کا استعمال کیا اور پاکستانی حکمرانوں سے بہتر روابط رکھے اور آہستہ آہستہ سی پیک معاہدہ کے تحت گوادر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور 40سال کے لئے گوادر پورٹ لیزپر حاصل کرلی۔ اس معاہدہ سے حکومت پاکستان کو صرف راہداری سے کچھ رقم تو حاصل ہوگی لیکن اس کے صنعت تجارت و زراعت پر گہرے اثرات ہوں گے۔ چین میں افرادی قوت سستی ہونے کی وجہ سے چینی اشیا کی قیمتیں کم ہیں۔ پاکستان میں بجلی گیس اور پانی کی قلت کی وجہ سے پروڈکشن کی قیمت چین سے زیادہ ہے۔ راہداری کی وجہ سے چینی اشیاء پاکستان کے کونے کونے میں پھیل جائیں گی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان سٹیل انڈسٹری، کپڑے کی صنعت دیگر صنعتیں سکڑنا شروع ہوجائیں گی جس سے روزگار کے مواقع مزید کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ چینی پھل اور اجناس کی پیداواری لاگت کم ہے جس کی وجہ سے زرعی شعبے کو بھی نقصان پہنچے گا۔چینی حکومت جو بھی سرمایہ کاری کررہی ہے اس کا فائدہ 90فیصد چینی کمپنیوں کو ہو رہا ہے اور سرمایہ پاکستان میں منتقل ہونے کی بجائے واپس چین میں جا رہا ہے۔ سی پیک معاہدے 90فیصد سے زائد فائدہ چین کو ہو گا اور وہ دنیا میں اپنی برآمدات کو امریکہ اور یورپین ممالک کے مقابلے میں 20فیصد تک اضافہ کر سکے گا۔جس سے چین تو مزید مستحکم ہوگا حکومت پاکستان کو معاہدہ کی دستاویزات کو منظرعام پر لا کر عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے اور اپنی اور معیشت کا ہرحال میں تحفظ کرنا چاہیے۔

مزید :

کالم -