حقیقی تبدیلی

حقیقی تبدیلی
 حقیقی تبدیلی

  

اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ ایک خوشحال پاکستان کی جانب سفر شروع ہو گیا ہے۔ گوادر پورٹ سے پہلے بین الاقوامی کارگو شپ کی روانگی اس صدیوں پرانے خواب کی تعبیر ہے جسے پانے کی خاطر برطانیہ، روس اور امریکہ کی آنکھیں پتھرا گئیں۔یہ گیم چینجر منصوبہ چائنہ اور پاکستان کو کس قدر فوائد دے گا اس کا جلد ہی اندازہ ہو جائے گا۔ مختصر الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ بہت ہی قلیل عرصے میں پاکستانی اکانومی کا حجم ڈبل ہو جائے گا۔ شائد عام لوگوں کو علم نہ ہو کہ معاشی سرکل کا ڈبل ہونا کسی بھی سماج کے لئے کیا معنی رکھتا ہے۔ دگنا تو دور کی بات اگر کوئی ملک سالانہ دو یا تین پرسنٹ کے حساب سے بھی اکانومی کو بڑھاتا چلا جائے تو دُنیا بھر کے مالیاتی ادارے اس کے سماجی ڈھانچے میں بہتری کی خبریں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت، امریکہ اور چند پڑوسی ممالک کے مفادات داؤ پر لگ چکے ہیں۔ بھارت فی الوقت اس گیم چینجر منصوبے سے مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔ امریکہ، علیحدہ سے زخم چاٹ رہا ہے ۔ چند خلیجی ممالک گوادر کی صورت دنیا کی سب سے بڑی برتھوں کی حامل پورٹ کے فنکشنل ہونے پر اپنے ہاں سے بین الاقوامی سرمائے کی منتقلی سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ان حالات میں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے پاکستان کے لئے اس راہداری کو فنکشنل رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

دُنیا پاکستان کے اچھے مستقبل بارے پر امید ہے، جبکہ اندرون مُلک یہ حالت ہے کہ سیاسی قائدین خشک پتوں کی وادی میں بھاری قدموں کی چاپ سے بے خبر نظر آرہے ہیں ۔ یہ روایتی مار دھاڑ والی سیاست کا زمانہ نہیں رہا، مگر چند سیاست دان ایسا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسا طبقہ سابقہ دہائیوں کے دھندلکوں کو واپس لانے کی خواہش میں یہ بھول چکا ہے کہ سماج ایسے موسموں کی زد میں آچکا ، جہاں سورج خون آلود، دوپہریں ماتم کناں اور شامیں آہوں کا مسکن بن گئی ہیں۔ امن کی فاختہ عرصہ قبل پرواز کر چکی ، اندرونی محاذ چپقلشوں کی نذر، بیرونی محاذ فیصلہ کن طاقتوں کے زیر اثر۔ بیس کروڑ افراد پر مشتمل سماج کس طرح عالمگیریت کا مقابلہ کر پائے گا؟ کیا آنے والے ماہ و سال بھی رینگتے ہوئے گزریں گے؟ کیا بدنظمی کے اژدھے کو اس وقت تک دودھ پلایا جائے گا جب تک وجود کو ہی نہ نگل جائے؟ کیا سماج کو بہتر معاشرت کی اس چوٹی تک رسائی ہوسکتی ہے،جہاں عظمت کی ہزاروں برس پرانی دیوی محوِ خواب ہے۔

سبھی کچھ ممکن ہے۔ لازم یہ قرار پاتا ہے کہ حکومت بھی یہ تسلیم کرے پاکستا ن کا سماجی ڈھانچہ بدلتی دُنیا میں آگے بڑھنے سے انکاری ہو چکا ہے ۔ سماج نے پارلیمنٹ سے امیدیں باندھیں۔ پارلیمنٹ اسی ڈھانچے کی آئینی موشگافیوں میں اُلجھ گئی۔ لوگوں نے عدلیہ کی آزادی کو صبح نو کے تارے سے تعبیر کیا۔ عدلیہ اپنے اند ر ہی اصلاحات نہ متعارف کروا پائی ۔ اپوزیشن مثبت کردار کے عزم پر آگے بڑھی۔ نتیجتاً فرینڈلی اپوزیشن کا تحقیر آمیز خطاب چسپاں کر دیا گیا۔ ریاست کے تمام ستونوں نے اپنے طور امنڈتے طوفانوں پر قابو پانے کی کاوش کی، لیکن معاملات مزید اُلجھتے گئے۔یہ اب زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ اگر پاکستانی سماج نے خود کو اپ گریڈ نہ کیا، وسیع پیمانے پر قانونی اور سماجی اصلاحات متعارف نہ کروائیں تو سی پیک سے حاصل شدہ فوائد بہتے پانی کی مانند ضائع ہو جائیں گے۔ زیادہ نہیں پہلے مرحلے میں پولیس ریفارمز کو ہی آئینی شکل دے دی جائے تو بین الاقوامی انوسٹر سمیت بیرون مُلک پاکستانی سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید سے درخواست کی تھی، اگر آپ کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو پارلیمنٹ میں ایف آئی آر کا تقدس بحال کروائیے گا۔ تقدس یہ ہے نامعلوم ملزموں، محض قیاس آرائی سے شہبے میں شرفاء کو ذلیل کرنے جیسے نفرت انگیز عمل کا خاتمہ۔پولیس ایف آئی آر میں نامعلوم اِس لئے رکھتی ہے کہ شریف شہریوں کو ڈرا دھمکا کر پیسے بٹورے۔ اسی طرح شبہے کی بنیاد پر بے گناہوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں کون انویسٹمنٹ کرنے آئے گا۔

اداروں کی ناکامی اور قوموں کی بربادی لازم و ملزوم ہیں ۔ کیا سیاست دان، فوج اور عدلیہ اس انتظار میں ہیں کب مکمل تباہی آن دبوچے۔ کیا ان ساعتوں کا انتظار شروع ہو چکا جب پیندے میں سوراخ نمودار ہو جائیں۔ بڑے چیلنج تو سامنے آچکے ہیں۔ راستے دو ہی بچے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ سماجی سٹرکچر کی تباہی یا بروقت اقدامات۔ اقدامات کون کرے گا؟ بنیادی ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اب تھانے ، کچہری اور پٹواری جیسے سستے مفادات میں دھنسے سیاست دانوں کو کون باور کروائے دنیا بہت ہی بڑی تبدیلیوں کے عمل سے گذرنے کو تیار ہے ۔ سیاست دان قوم تک یہ پیغام کس طرح پہنچائیں گے؟ قائدین کی سوچ، تربیت ،جبلت اور اہلیت ہمارے سامنے ہے ۔ کیا قائدین ان پوشیدہ تنظیموں کے کام کرنے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں جو امریکہ، اسرائیل جیسی ریاستوں کو بھی کٹھ پتلی کی طرح نچوا رہی ہیں؟ کیا اپوزیشن کا مطالعہ اتنا وسیع ہے کہ میثاق جمہوریت جیسے بھولے بسرے خواب سے نکل کر امریکی معیشت کی ابتری کے اثرات پر دو منٹ ہی بول سکیں؟ کیا مذہبی قیادتیں مغرب مخالف نعروں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کارکنوں کو یہ حقیقت بیان کر نے پر قادر ہیں کہ عالمی سوچ تک رسائی کے بغیر ان کے اگلے تیس سال بھی خالی نعروں کی نذر ہوں گے ؟

اگر لیڈر وژن سے عاری اور عوام شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا رہیں گے۔ اگر لیڈر جماعتوں کو جدید خطوط پر استوار نہ کرسکے ۔ بڑے چیلنجوں کے لئے اعلیٰ تربیت یافتہ کارکنوں کے چناؤسے اجتناب برتتے رہے۔ تو ایسے لیڈروں اور جماعتوں کو عوام کی نظروں میں گرنے سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔ مُلک روایتی کارکنوں سے نہیں، گلا پھاڑ کر نعرے بلند کرنے والے ذہنی معذوروں سے نہیں، ایام اسیری کے ملاقاتیوں سے نہیں،بلکہ مُلک ان ذہین افراد کے چناؤ سے آگے بڑھے گا جو شتر بے مہار افسر شاہی کو پوری قوتوں سے تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔ وہ افراد جنہیں پل پل بدلتے سماجی رویوں کا ادراک ہو، جو ملک کو عالمی برادری کی صف میں کھڑا کر سکیں۔ جو پاکستانی عوام کو امیدوں کے نئے جہاں سے متعارف کروا سکیں۔آخر کب تلک معاملات حکومت چلانے کے لئے ان مٹھی بھر افراد پر بھروسہ کیا جائے گا،جو مینجمنٹ اور نظم و ضبط کی بنیادی خصوصیات سے ہی عاری ہیں۔ کب تک اس نااہل طبقے پر جیت کی شرطیں لگائی جاتی رہیں گی جسے معاشروں، قومیتوں، مذاہب اور دُنیا کو سمجھنے کے لئے غیر ملکی کورسوں اور کم وبیش دس سال کا عرصہ درکار ہے ۔ کیا کرپٹ افسر شاہی کے موجودہ نظام میں بستے ہوئے دُنیا کے ان ممالک کے افسران کا مقابلہ ہو پائے گا جو ڈپارٹمنٹ کا سربراہ ہونے کے باوجود دفتر پہنچنے کے لئے لوکل بس یاٹرین میں سفر کرتے ہوں، جنہیں رہنے کو دو کمروں کا اپارٹمنٹ اور جو نوکر، ڈرائیور، گارڈ، مالی، قاصد جیسی ضروریات سے آزاد ہوں ۔ یہ سارے عذاب پاکستانی ریاست پر ہی مسلط کیوں ہیں۔ کیا افسر شاہی اپاہج ہے؟ نہیں قطعاً نہیں۔ اپاہج یہ سماجی ڈھانچہ ہے ۔ یہ منحوس اختیارات کی مکروہ تقسیم ہے اور یہ انسانوں کو غلامی کا طوق پہناتے ہوئے نفس کی آخری حدوں کو چھوتی تسکین ہے۔ یہ تسکین سماج کو مار ڈالے گی۔ یہ تسکین اس عوامی نفرت کو بام عروج پر پہنچا دے گی جہاں انسانوں کا جم غفیر ہوش و حواس کھو بیٹھے گا۔

نئے انتخابات، متبادل قیادتیں، انقلاب اور طالبان، سب دلاسہ ہے۔ یہ سماجی ڈھانچہ،یہ زمینی حقائق سے متصادم قوانین ہی درحقیقت سماج کے اصل قاتل ہیں۔ اگر سماجی ڈھانچے میں تفویض کردہ اختیارات کو بدلنے کی خاطر بھرپور اور منظم انداز میں کام نہ کیا گیا تو پرانی دھند کا موسم پلٹ کر رہے گا۔ یہ دھند بڑی خطرناک ہے۔ اسی دھند کے تیور دیکھ کر آصف علی زرداری پرائے دیس چلے گئے تھے۔

مزید :

کالم -