سموگ میں لپٹی فوگ

سموگ میں لپٹی فوگ
 سموگ میں لپٹی فوگ

  



ہم جب بچے تھے تو سردیوں میں سکول جاتے وقت اکثر دھند سے ملاقات ہوتی تھی اور جیسے جیسے سورج کی کرنیں گرم ہوتی جاتیں کہرہ بھی چھٹتا جاتا اور دس گیارہ بجے تک ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگتی،مگر جب سے کارخانوں اور ٹریفک کا دھواں اور فصل کٹنے کے بعد کھیت کا فالتو ڈنٹھل اور کچرے کو درست طریقے کے ساتھ ٹھکانے لگانے کی بجائے جلانے کا کام بڑھا ہے، تو دھند بھی خود کو ترقی گزیدہ دور کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے آلودگی سے معانقہ کر بیٹھی ہے۔

پھر یہ آلودگی بادل کی صورت میں ٹھنڈی ہو کر شہروں اور قصبات پر چھتری کی طرح تن جاتی ہے اور اس کے ذرے سانس کے ذریعے رگوں میں اُتر کر لوگوں کو بیمار کر دیتے ہیں،یعنی صنعت و زرعی ٹریفک کی بے لگام آلودگی کو ہمارے لئے پھندہ بنا ڈالا ہے۔ پھر بھی ہم قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز نہیں آ رہے، بلکہ خود کو سدھارنے کے بجائے دوسروں کو الزام دے کہ خود کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کی طرح اِس بار بھی مختلف علاقوں کو موسم سرما کے آغاز پر بھی سموگ،یعنی گرد آلود دھند کا سامنا ہے،سموگ کے باعث ایک طرف شہریوں کو بیماریوں کی صورت میں مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلیوں پر حکومت کی عدم توجہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

انتہائی خشک موسم میں زہریلے ذرات تحلیل نہیں ہو سکے۔سموگ کے بارے میں محکمہ موسمیات کے ڈی جی ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ سموگ کے اثرات ابھی سے بڑے شہروں میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور چونکہ آئندہ دو ماہ تک بارش معمول سے کم ہونے کا امکان ہے تو یہ حالات سموگ کی شدت میں اضافے کے لئے کافی سازگار ہوں گے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون کے بعد بارشوں کا سلسلہ کم ہوتا جا رہا ہے اور طویل خشک موسم کی وجہ سے صورتِ حال مزید کٹھن ہوتی جا رہی ہے۔سموگ نے ایک بار پھر لاہور پر حملہ کیا،لیکن دوسری جانب حکومت درختوں کی کٹائی کر رہی ہے اور لوگوں کی صحت کے بارے میں کوئی بھی سوچ نہیں رہا۔

پنجاب حکومت نے بھارتی پنجاب حکومت سے درخواست کی کہ وہ سرحد کے پار فصلوں کو جلانے پر پابندی لگائے،لیکن اس پابندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔پنجاب حکومت نے کچرہ جلانے کے متبادل تو اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیئے،لیکن کسانوں کو ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں کوئی سبسڈی نہیں دی۔

دوسری طرف حالت یہ ہے کہ حیرت انگیز طور پر پورے پنجاب میں صرف چار ایئر کوالٹی میٹر ہیں جو پورے پنجاب تو درکنار صرف لاہور کے لئے ناکافی ہیں،جبکہ صوبے کے 36اضلاع ہیں اور ہر ضلع میں چار پانچ ہونے چاہئیں۔ پورے پنجاب کی صحت کا معاملہ ہے اور حالت یہ ہے کہ ہم صرف بارشوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمیں سموگ سے نجات دلائیں۔فضائی آلودگی کا باعث بننے والی تقریباً ڈھائی سو فیکٹریوں کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ20ہزار سے زیادہ گاڑیوں کے چالان کئے گئے ہیں، لوگوں کو اس سنگین صورتِ حال سے بچانے کے لئے مناسب حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں۔

مزید : کالم