مولانا فضل الرحمن کا پلان ”بی“

مولانا فضل الرحمن کا پلان ”بی“

  



جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں اپنے ”آزادی مارچ“ کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو تلقین کی ہے کہ وہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ کر اُنہیں تازہ کمک فراہم کریں تاکہ پلان ”بی“ پر عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ دھرنے کے شرکا سے اپنے اختتامی خطاب میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ صوبوں اور اضلاع کو ملانے والی شاہراہیں بند کر دی جائیں گی۔ حکومت کی جڑیں ہلائی جا چکیں اگلے مرحلے میں درخت گِر پڑے گا۔ جب وہ یہ فرمان جاری کر رہے تھے تو ان کے بڑے انتخابی حریف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ان کے کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے تھے۔ تیرہ روزہ دھرنے کے دوران وہ مسلسل مولانا کے ساتھ دیکھے جاتے رہے۔ جب کبھی وہ خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، جناب اچکزئی نے اپنے انتخابی اختلافات بھلا کر اپنا کندھا پیش کیا۔ مولانا فضل الرحمن کے بائیں جمعیت العلمائے پاکستان کے ایک دھڑے کے سربراہ، اور مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے صاحبزادے انس نورانی کھڑے تھے۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں …… مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی…… کا کوئی بڑا رہنما ان کی آواز میں آواز ملانے کے لیے موجود نہیں تھا۔

مولانا فضل الرحمن نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے جاری رہے گا، ہم آج ہی یہاں سے روانہ ہوں گے۔ دُنیا نے تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کتنے منظم ہیں۔دوسرے محاذ پر بھی ہمیں پُرامن رہنا ہے،جس طرح مجھے اپنے کارکنوں کی زندگی عزیز ہے، اسی طرح سیکیورٹی فورسز کا خون بھی عزیز ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ ہم دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں،لیکن عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے،شہروں سے ہٹ کر شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔کسی ایمبولینس کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے اپیل کی کہ ادارے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کریں۔ ہم کسی کی ذات کی نہیں، سب کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ تحریک چلے گی،ہم اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔حکومت استعفا دے کر نئے انتخابات کا اعلان کرے۔

مولانا اپنے آزادی مارچ کے ہمراہ31اکتوبر کی رات اسلام آباد پہنچے تھے، اور تیرہ روز یہاں پڑاؤ ڈال کر رخصت ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ مارچ اور دھرنا ان کی تنظیمی صلاحیتوں کا بڑا موثر اظہار تھا۔مارچ کے شرکا کی بھاری تعداد جمعیت العلمائے اسلام کے کارکنوں پر مشتمل تھی،جو ملک کے کونے کونے سے اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گھروں سے نکل آئے تھے۔ حکومت اور جمعیت العلمائے اسلام کے درمیان ایک معاہدے کے ذریعے طے پا گیا تھا کہ اسلام آباد میں پشاور موڑ کے قریب پڑاؤ ڈالا جائے گا، اور شہر کے اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں ہو گی۔مارچ کے شرکا ایک باقاعدہ مختص جگہ پر بیٹھے رہے،امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ جمعیت العلمائے اسلام کی طاقت اور صلاحیت کا یہ ایسا اظہار تھا،جس کا ان کے حامیوں کے ساتھ ساتھ مخالفوں نے بھی اعتراف کیا۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا،لیکن مولانا نے خود کوایک نکاتی مطالبے میں محصور کر لیا تھا،اور وہ تھا وزیراعظم کا استعفا…… اگر وہ مطالبات کی طویل فہرست تیار کرنے کی ضرورت محسوس کرتے تو پھر کچھ لو، اور کچھ دو کی بنیاد پر ان کی کامیابی کا تاثر پیدا ہو سکتا تھا،اور وہ خالی ہاتھ واپسی سے محفوظ رکھ سکتے تھے۔ان کا سب سے پہلا (جو سب سے آخری بھی بن جاتا تھا کہ اس کے بعد حکومت کے ہاتھ خالی ہو جاتے تھے) نکتہ یہی تھا کہ وزیراعظم عمران خان استعفا دیں۔وہ اس نکتے کو نظر انداز کر کے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے،اور حکومت اس حوالے سے ایک انچ بھی آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی تھی، اس لیے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے،اور بالآخر مولانا کو کوچ کرنا پڑا۔

اس آزادی مارچ (اور دھرنے) کے کئی خوشگوار اثرات بھی مرتب ہوئے،میڈیا پر دباؤ میں کمی آئی۔غیر اعلانیہ سنسر شپ نافذ کرنے والوں کے حوصلے پست ہوئے۔گزشتہ الیکشن کے حوالے سے شکایات کا اظہار کھل کر ہوا، اور دھڑلے سے وہ باتیں کہی گئیں،جن سے اس سے پہلے گریز کیا جاتا تھا۔مولانا کا نام تک الیکٹرانک میڈیا کے لیے ممنوع قرار پا چکا تھا لیکن یہ پابندی ہوا میں اُڑ گئی۔مولانا نے جو دِل میں آیا کہا، اور ٹی وی سکرین پر چھائے رہے۔ان کی حلیف بڑی جماعتوں نے عملاً ان کا ساتھ نہیں دیا، منہ زبانی ہلاّ شیری دیتی رہیں،تاہم اپنے اپنے دائرے میں ان کی معاملہ سازی کی پوزیشن مضبوط ہوئی، اور مقتدر حلقوں کو ان کی اہمیت کا احساس اور اعتراف کرنا پڑا، یہ بہرحال حقیقت ہے کہ وزیراعظم کا استعفا وہ نہیں لے سکے۔اکثر سیاسی مبصرین کے مطابق ایسا ممکن بھی نہیں تھا،اور اس کے جواز کے حق میں بھاری دلائل بھی تلاش نہیں کیے جا سکے تھے۔

اب حضرت مولانا نے جس پلان ”بی“(بلاکیڈ) کا اعلان کیا ہے،اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ پُرامن نہیں رہے گا۔شاہراہیں زبردستی بند کرا کر صوبوں اور شہروں کو آپس میں کاٹنے کا عمل پسندیدہ قرار نہیں پا سکے گا۔کسی تحریک کے نتیجے میں فطری طور پر اس طرح کا ”بلاکیڈ“ دیکھنے میں آئے تو یہ الگ بات ہے……علی الاعلان اس مقصد کے لیے سرگرم ہونے کا معاملہ بالکل مختلف ہے،اور اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا کہ حضرت مولانا نے اپنے آپ پر اور اپنی جماعت پر پہاڑ لاد دیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔مولانا کو احتجاج کرنے کا حق ہے،حکومت سے کوئی بھی مطالبہ کرنے کا بھی حق ہے،لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے یا اس پر اُکسانے کا حق دستور اور قانون نے بہرحال کسی کو نہیں دیا ہے۔ہماری گذارش ہو گی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو قانون کے دائرے سے باہر نکلنے(یا نکالنے) کی اجازت نہ دیں،اس کے ساتھ ہی ساتھ متحدہ اپوزیشن کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہ کریں۔اگر اپوزیشن یکسو ہو کرکوئی اقدام نہیں کرے گی،اور قانون کے دائرے سے باہر قدم نکالنے کے لئے اکساہٹ بھی جاری رہے گی تو پھر وہ کچھ تو بالکل حاصل نہیں ہو سکے گا،جس کی تمنا کی جا رہی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ