حق نہ ملا تو کشمیری بندوق اٹھا لیں گے!

حق نہ ملا تو کشمیری بندوق اٹھا لیں گے!

  



آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اسلام آباد ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ”جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امن و ترقی“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو پُرامن سیاسی ذرائع سے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے میں ناکام ہو گئی تو کشمیری ایک بار پھر بندوق اٹھانے پر مجبور ہوں گے، جو خود بھارت اور خطہ کے لئے تباہ کن ہو گا،کشمیری اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لیں گے تو دیوارِ برلن کی طرح صورتِ حال کو تبدیل کر دیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں جو یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بھارت ناکام اور ہم کامیاب جا رہے ہیں،یہ غلط ہے، بھارت نے تو بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کو باقاعدہ ہدف بنا رکھا ہے، وہ کیسے ناکام ہے۔صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں اور بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں،ان کی خطے اور دُنیا میں بدلتے ہوئے حالات پرگہری نظر اور ادراک ہے کہ کیا ہو رہا اور کیا درست اور کیا غلط ہے،ان کی یہ تقریر بہت بامعنی ہے۔اس حوالے سے تو خود وزیراعظم عمران خان بھارتی وزیراعظم مودی کو چیلنج کر چکے ہوئے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھا کر دیکھ لے کہ کشمیریوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے،اِس لئے یہ عملی بات ہے کہ اب بھی کشمیری گھروں میں قید کی سی زندگی گزارنے کے باوجود آزادی کے لئے جدوجہد ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔تاہم یہ بھی تو حقیقت ہے کہ بھارت کے انتہا پسند حکمران اور راشٹریہ سیوک سنگھ والوں نے بھارتی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور کشمیری بھی ایک سو سے زیادہ دِنوں سے محبوس ہیں، وہ نہ صرف کاروبار اور آمدنی سے محروم ہیں،بلکہ ادویات تک دستیاب نہیں،اس پر ہر روز ان پر تشدد ہوتا اور گولیاں برسائی جاتی ہیں،اس سے شہادتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ بھارتی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے یہ بھی درست ہے کہ اس ”گلوبل ویلیج“ میں انسانی حقوق کا شور مچانے اور جانوروں پر ظلم کے خلاف کارروائی کرنے والے ممالک بھی کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے حقوق کی تلفی پر خاموش ہیں۔یہ بھی درست کہ ہمارا یہ تاثر غلط ہے کہ بھارت ناکام اور ہم کامیاب ہیں۔حکومت ِ وقت کو ان تجربہ کار ڈپلومیٹ اور صدر آزاد کشمیر کی گفتگو پر توجہ دینا چاہئے اور زبانی حمایت سے آگے بڑھ کر پوری دُنیا کو قائل کرنا چاہیے کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ظلم کرتا چلا جا رہا ہے اور اسے روکنا ضروری ہے کہ کوئی بڑا المیہ وجود میں نہ آئے، پاکستان کو اپنی حالیہ مہم سے بڑھ کر کچھ کرنا ہو گا اور وہ یہ کہ دُنیا کو مظلوم کشمیریوں کے حوالے سے اصل تصویر دکھائی جائے اور دُنیا بھر کو قائل کیا جائے کہ بھارت کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل والی قرارداد پر عمل کرائے جس کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق ِ خود ارادیت دینے کاوعدہ کیا گیا ہوا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ