انصاف برائے فروخت!

انصاف برائے فروخت!

  



کٹ جائے ہونٹ تو زبان ہلاتے رہنا

اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہنا

میرے لہجے میں ہے عہد کی سچائی

میری آواز سے آواز ملاتے رہنا

پچھلے 72 سال سے بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور کشمیری اپنی آزادی کی خاطر مسلسل قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور جھڑپیں تو آئے روز کا کام ہے۔ بھارت اقوام متحدہ میں یہ تسلیم کر چکا ہے کہ کشمیریوں کو حق رائے دہی دیا جائے گا، لیکن اب ان قراردادوں کو منظور ہوئے بھی دہائیاں گزر چکی ہیں،مگر اب بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انکاری ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ پاکستان اس مسئلے کو حتی المقدور اقوام متحدہ اور انفرادی طور پر ممالک کے سامنے اٹھاتا آرہا ہے، لیکن دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک اب تک صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں، ہمیشہ کشمیر کے حق میں متوقع ردعمل کے بجائے کنی کتراتے دکھائی دیتے ہیں اور بعض ممالک تو واضح طور پر بھارت کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں،مگر ایسا کیوں ہے؟

اس سب کی کچھ وجوہات ہیں اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ثابت یہ ہوا ہے کہ یہ تمام طاقتور اور ترقی یافتہ ممالک ذاتی مفادات کے پجاری ہیں۔ وہ تمام ممالک جو انصاف پسند اور شائستہ سمجھے جاتے ہیں، ان کی شائستگی اور انصاف پسندی ان کے اندرونی معاملات تک محدود ہے،جبکہ بیرونی معاملات میں یہ عالمی قوتیں صرف انصاف پسندی کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔یہ صرف اپنے مفادات کی پجاری ہیں جن کی خاطر یہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں اور انہی مفادات اور مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر وہ نہ صرف انصاف کو فروخت، بلکہ انسانیت کا بیدریغ خون بھی ہیں۔ پاکستان کی اکانومی کا بھارت کی اکانومی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو بھارت کی اکانومی پاکستان کی اکانومی سے کئی گنا مضبوط ہے،اسی لیے بہت سے ترقی یافتہ ممالک،جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں نے، بھارت میں اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کررکھی ہے اور انہیں ڈالروں کی خاطر وہ بھارت کے خلاف کسی قسم کا سخت ردعمل دینے سے گریز کرتی ہیں۔

جس طرح ہر انسان اپنی زندگی گزارنے کے لیے دوسرے انسانوں پر انحصار کر تا ہے،اسی طرح ملکی سطح پر دیکھا جائے تو ملک بھی ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ مختلف ضروریات زندگی کی چیزوں کی کمی یا نہ ہونے کی صورت میں دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ درآمد کر لی جاتی ہیں اور وہ اشیاء جن میں سے ایک تیل بھی ہے جو فیکٹریوں اور ذرائع آمدورفت کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے،اسی وجہ سے اس کو دوسرے ممالک سے لاکھوں ٹنوں کے حساب سے درآمد کیا جاتا ہے۔جیسا کہ بھارت کی آبادی 1 ارب 30 کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے تو یہ بات بھی یقینی ہے کہ جتنی زیادہ آبادی ہوگی، اتنی ہی زیادہ عام ضروریات زندگی کی اشیاء کی کھپت بھی ہوگی، اتنی ہی زیادہ گاڑیاں بھی زیراستعمال آئیں گی اور اتنا ہی زیادہ تیل بھی بکے گا اور استعمال ہو گا اور ان کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ اشیاء انہی ممالک سے درآمد کی جائیں گی جو ہر محاذ پر بھارت کا ساتھ دیں گے، اس چیز سے قطع نظر کہ بھارت کسی معاملے میں درست بھی ہے یا نہیں، جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ بھارت نے فرانس کے ساتھ 36 جنگی رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا جو تقریباً 9 ارب ڈالر کا ہے اور انہی 9 ارب ڈالر اور تجارت کی خاطر فرانس،

جسے نہایت انصاف پسند اور مہذب ملک تصور کیا جاتا تھا، کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کا حق دلوانے کے بجائے بھارت کی حمایت میں کھڑا ہے، اگر بات کی جائے دنیا کی سپر پاور امریکہ کی تو, یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ چین اب ترقی کے میدان میں اپنا لوہا منوا چکا ہے اور اتنا آگے نکل چکا ہے کہ اسے اب دنیا کی سپر پاور بننے سے شاید کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی اور یہ بات امریکہ کو شدید تکلیف پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔

بھارت کیونکہ چین کے قریب واقع ہے،اس لیے اس کے محلِ وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے چین کی ترقی میں خلل اور خطے میں فساد برپا کرنے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا ہے اور بھارت بھی امریکہ کی چمچہ گیری کرنے میں مصروف عمل ہے، اسی وجہ سے امریکہ بھی اپنے مفاد کی خاطر بھارت کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ جب کشمیر کے مظلوم حریت پسند اپنا حق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھارت کے ساتھ وابستہ اپنے مختلف قسم کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طاقتور ممالک کی طرف سے کشمیریوں کی کسی قسم کوئی کی حمایت نہیں کی جاتی، بلکہ الٹا ظالم کا ہی ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کے ترقی پسند اور طاقتور ممالک اپنے اندرونی معاملات میں تو انصاف پسند ہیں، لیکن جب دوسرے ممالک کے ساتھ ان کا رویہ دیکھا جاتا ہے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ انصاف کو ڈالروں اور اپنے مختلف قسم کے مفادات کے حصول کی خاطر بیچ دیتے ہیں۔ تمام عالمی طاقتیں یہ بات اپنے ذہنوں میں بٹھا لیں کہ اب 22 کروڑ عوام کے جذبات سے بہت کھیل لیا گیا،

کشمیر میں تقریبا 12 ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے، اب صبر اور برداشت کی تمام حدود عبور ہو چکی ہیں اور یہ مظالم مزید نہیں سہے جائیں گے،اگر یہ معاملہ جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو ایسا نہ ہو کہ بھارت اور اس سے وابستہ تمام قسم کے مفادات اور مقاصد جل کر خاکستر ہو جائیں،کیونکہ اگر ایٹمی جنگ شروع ہوگئی تو نہ بھارت رہے گا اور نہ ہی دنیا کے لیے اتنی بڑی مارکیٹ کا وجود رہے گا، اس جنگ کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ دنیا کے ممالک کا انصاف فروخت کرنا ہوگا۔اور اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ انصاف کے نام پر کمزور ممالک کے لیے ایک دھوکہ اور فراڈ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔”فضل صاحب“ کے یہ چند اشعار جن کو لکھے بغیر مجھ سے رہا نہ گیا,کیا خوب کہا ہے کہ مودی:

شہر کے شہر جب ہوجائیں گے ویران

دلی کی گلیاں ہو جائیں گی سنسان

شاہینوں سے بچنا نہ ہوگا آسان

کہتا پھرے گا پھر تو مَیں تھا، نادان

مزید : رائے /کالم