ستم کی سیاہ رات اور علم کی صبح

ستم کی سیاہ رات اور علم کی صبح
ستم کی سیاہ رات اور علم کی صبح

  



جب شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کو انگریز سرکار نے ”سر“ کا خطاب دینے کا اعلان کیا تو حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کہا کہ پہلے ان کے استاد کو خطاب دیا جائے، پھر وہ کوئی خطاب اپنے لئے قبول کریں گے۔کہتے ہیں سرکار نے پوچھا جناب آپ کے استاد محترم کی کوئی تصنیف، کوئی کتاب، کوئی کارنامہ؟ اس کے جواب میں علامہ اقبالؒ نے فرمایا: میرے استاد کا کارنامہ میری شکل میں آپ کے سامنے موجود ہے۔آپ کی اس بات سے متاثر ہو کر انگریز سرکار نے آپ کے استادِ محترم کو بھی خطاب سے نواز دیا……دیکھا جائے تو ہر انسان کی زندگی کسی نہ کسی استاد کی مرہون منت نظر آتی ہے،لیکن اس کائنات میں صرف ایک ہی ایسا استاد دیکھا گیا ہے جس نے بہت کم وقت میں اپنے شاگردوں کو پہلے سے یاد کیا جہالت کا سبق یکسر بھلا کر ان کے سینے علم کے نور سے بھر دئیے۔

وہ استاد محترم و مکرم ہمارے پیارے رسول کریمﷺ ہیں،جن کی تربیت سے نہ صرف آپ ﷺکے اصحاب کی اپنی زندگیاں روشن ہوئیں، بلکہ انہوں نے آگے چل کر دنیا کے اندھیروں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ درس و تدریس وہ پیشہ ہے، جسے صرف اسلام ہی نہیں، بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے، لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے معلم کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو معلم کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے معلم کو بے حد عزت و احترام عطا کیا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔ خود خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے“۔ خالق کائنات نے انسانیت کی رہنمائی اور تعلیم کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو بھیجا، ہر نبی شریعت کامعلّم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک فن کا ماہر بھی ہوتا تھا،جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں زراعت، صنعت کے معلّم اوّل تھے۔کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا علم سب سے پہلے حضرت ادریس علیہ السلام نے ایجاد کیا،حضرت نوح علیہ السلام نے لکڑی سے چیزیں بنانے کا علم متعارف کروایا،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے علم مناظرہ اور حضرت یوسف علیہ السلام نے علم تعبیر کی بنیاد ڈالی۔

خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معلّم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے…… اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اسلام میں معلم کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلیٰ و ارفع ہے۔ اسلام نے استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے: ”جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، مَیں اس کا غلام ہوں، وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے یا غلام بناکررکھے“۔ایک استاد کے لئے طلباء کی تربیت،انہیں صحیح راستہ دکھانا، زندگی کے نشیب و فراز سے آشنا کرنا، مشکلات سے نمٹنے کا سلیقہ سکھانا، آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا اور معاشی و اقتصادی ترقی کے لئے ہنر مندی کی اہلیت پیدا کرنا، بطور معلم اہم ترین فریضہ ہوتا ہے،اسی لئے نہ صرف طالب علم، بلکہ والدین، رشتہ دار اور سب سے بڑھ کر ملک و قوم اساتذہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کردار سے سماجی اور قومی قدروں میں اضافہ کریں گے۔

بلاشبہ اساتذہ کی محنت سے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے لئے رکھے گئے اساتذہ کوپیشہ ورانہ اور معاشی نقصان پہنچا کر ان کا استحصال کیا جاتارہا ہے۔ اساتذہ کو فریضہ تدریس کی ادائیگی کی بجائے گھروں سے بچے اکٹھے کرنے، پولیو کے قطرے پلانے، ووٹنگ لسٹ بنانے، مردم شماری کرنے، اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں کے والدین کو لے جا کر ان کے کارڈ بنوانے کا کام لے کر بچوں کو تعلیم کے حقیقی ثمرات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پھر ان حالات کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈال کر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرکے اساتذہ کی تذلیل کی جاتی ہے۔ افسران تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو بلاجواز سزائیں دی جاتی ہیں، پنجاب میں ایگزامینیشن کمیشن کے غیر معیاری امتحان کے غیر معیاری نتائج کی بنیاد پر اساتذہ کی انکریمنٹس سلب کر لی جاتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو پُرسکون طریقے سے تدریس کا عمل جاری رکھنے کے لئے ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کی انتقامی کارروائیاں بند کی جانی چاہئیں۔ اساتذہ کے سکیلوں کی فوراً اپ گریڈیشن کی جانی چاہیے، پی ای ایل اور دیگر امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر سزائیں ختم کی جانی چاہیے۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے ایجوکیٹرز کو مستقل کیاجانا چاہیے، اساتذہ کی ہیلتھ انشورنس کی جانی چاہیے تاکہ اساتذہ بہتر طور پر تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔تعلیم کسی ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔ انسانی اعضاء میں ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو انسان کھڑا نہیں ہو سکتا، بالکل اسی طرح وہ قوم اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور قومی طور پر کھڑی نہیں ہو سکتی جس میں تعلیم کو ترجیح نہ دی جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں مرد اور خواتین کے اکٹھے تعلیم دینے کے عمل نے تعلیمی عمل پر برے اثرات ڈالے ہیں۔

محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ خواتین اساتذہ کو گرلز سکولوں میں شفٹ کیا جائے۔ نوجوان بچوں کی موجودگی میں ان کا وقار اور عزت نفس مجروح ہوتی ہے، اس سے معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں تدریس کے لئے رکھا جاتا ہے،اس لئے ضروری ہے کہ ان پر غیرضروری کاموں کا بوجھ ہرگز نہ ڈالا جائے۔ ان غیرضروری کاموں وجہ سے جب تعلیمی سلسلے میں ان سے کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے، ان حالات کی تمام تر ذمہ داری اساتذہ پر ڈال کر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ہیڈ ماسٹرز اور ٹیچرز کے خلاف انتقامی رویہ قابل افسوس ہے۔ اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص استاد کا احترام کرتا ہے،لیکن پنجاب میں اساتذہ کو رسوا کیا جا رہا ہے۔ ایک سرکاری سکول کا استاد سال میں پچیس قانوناً اور پچیس اتفاقیہ چھٹیاں کرسکتا ہے،لیکن زبانی طور پر سکول ہیڈ ماسٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ کسی سکول استاد کو کسی بھی حال میں چھٹی نہ دی جائے۔کوئی بیمار ہو کسی کے گھر میں شادی ہو یا کسی کا عزیز چل بسے، اسے سکول میں حاضر رکھا جاتا ہے۔محکمہ تعلیم میں خواتین ٹیچرز کی بھی کثیر تعداد اسی ظالمانہ قانون کی وجہ سے پریشان ہے۔حکومت یا عدالتوں کو اس پر نظر ثانی کی کوشش کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم