احتجاجی ابال کی بالائی اور مولانا

احتجاجی ابال کی بالائی اور مولانا
احتجاجی ابال کی بالائی اور مولانا

  



عجب دیس بن گیا ہے ہمارا بھی، وقتی اور ہنگامی معاملات پر سبھی کی توجہ مرکوز ہے، حقیقی اور سنگین معاملات سے پہلو تہی کا چلن عام ہے۔ ہر محفل کا موضوعِ سخن مارچ اور دھرنا ہے۔ تاجروں کی ہڑتال، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کا احتجاج، اساتذہ کی مشکلات تو ہے مگر اس دوران معیشت کے ساتھ جو ظلم ہو گیا اس کو کما حقہ ئ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ اعداد و شمار کے ساتھ منظر عام آئی ہے تو ہر سنجیدہ فکر شہری رنجیدہ ہو گیا ہے،مگر جن کے کرنے کا کام ہے وہ کنٹینر جمع کرنے اور نا پسندیدہ افراد کی پکڑ دھکڑ میں لگے رہے:

میری توجہ عجب توجہ، میرا تغافل عجب تغافل

شکستِ ساغر کو دیکھتا ہوں، شکست دل کی خبر نہیں

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 9سال کی کم ترین سطح پر رہی، اس سال مہنگائی چار سال بعد سب سے زیادہ بڑھی، جبکہ رواں سال میں مزید بڑھ کر 12فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ معاشی ترقی محض تین سے چار فیصد رہنے کا خطرہ ہے۔

گزشتہ سال دیہی اور شہری آمدنی میں کمی ہوئی، جبکہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھاری اضافہ مہنگائی میں خوفناک اضافے کا سبب بنا۔ اس سال شرح سود میں اضافہ ہوا، بجلی اور گیس مہنگی ہوئی، زراعت اور صنعت میں بھی شرح نمو کا ہدف حاصل نہ کیا جا سکا،جبکہ مہنگائی کی شرح ہدف سے بھی بڑھ گئی۔ رواں سال میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے جو 5.8 فیصد ہدف کے برعکس 12فیصد تک ہو سکتی ہے۔ مالیاتی خسارہ 5.6فیصد سے 5.7فیصد تک رہنے اور برآمدات کا ہدف حاصل نہ ہو سکنے کا بھی امکان ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ روپے کی قیمت میں کمی، شرح سود میں اضافہ اور اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھانے سے سفید پوش طبقے کے لئے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

یہی وہ عوامل ہیں جو احتجاجی تحریکوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں ……”تنگ آمد بجنگ آمد“ کے مصداق عوام حکومت مخالف آوازوں پر لبیک کہنے لگتے ہیں۔اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی تحریکوں کی جو لہر آئی ہوئی ہے وہ مہنگائی، بیروزگاری اور بُری حکمرانوں کی وجہ سے ہی ہے۔ یہ تمام عوامل وطن عزیز میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ میں بہت سے حلقوں کی توقعات سے بڑھ کر رونق لگی۔ کہا جاتا ہے کہ جے یو آئی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بھی پشتو بولنے والے علاقوں کی جماعت ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو سندھ اور پنجاب میں قطعاً مقبولیت حاصل نہیں۔یہاں ان کے چاہنے والے خال خال ہیں۔

خیال تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی شمولیت سے عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ ممکن ہو جائے گا۔ عملی طور پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی شرکت علامتی رہی، دوسرے ہی نہیں تیسرے چوتھے درجے کے اِکا دُکا رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کے بغیر ہی چہرہ نمائی کرائی، سٹیج پر آئے،خطاب کیا اور بس…… اس کے باوجود کراچی، ملتان اور لاہور میں جس طرح بھرپور اجتماعات ہوئے،وہ مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام کا کریڈٹ بھی جانے اور مانے گئے، حالانکہ قبل ازیں مولانا دونوں بڑے صوبوں میں ایک محدود طبقے میں اثر و رسوخ کے حامل سمجھے جاتے تھے۔یار لوگوں کا خیال ہے کہ بڑھتی ہوئی مشکلات نے عوام میں حکومت مخالف جذبات کو جو فروغ دیا ہے، اس کا سیاسی فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو ہونا تھا، مگر ان کو تو اپنی پڑی ہوئی ہے، اس لئے احتجاجی ابال کی بیشتر بالائی مولانا فضل الرحمٰن کے حصے میں آتی نظر آ رہی ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں ایک موثر متبادل قیادت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عین مولانا کے مارچ کے آس پاس تاجروں کی، ڈاکٹروں، اساتذہ کی ہڑتالیں اور احتجاج محض اتفاق ہو،مگر یار لوگوں نے اسے موجودہ حکمرانوں کو دباؤ میں لانے کے لئے ”بعض قوتوں“ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ انہی قوتوں نے پھر عین ”فائنل راؤنڈ“ پر تاجروں کو ٹھنڈا کر کے حکومت کی کمر سے ایک اینٹ اٹھا لی ہے۔

اب یار لوگ اس کو بھی مولانا کے مارچ کا اعجاز قرار دیں گے کہ ان کے اس مارچ سے کسی اور کو فائدہ ہو نہ ہو، تاجروں کے کچھ مطالبات تو مان لئے گئے اور ان لوگوں نے مانے جو ”کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ایف بی آر اور تاجر تنظیموں میں جو گیارہ نکاتی معاہدہ ہوا ہے،اس پر ہڑتالی تاجروں کے دونوں گروپوں آل پاکستان تنظیم تاجراں اور آل پاکستان مرکزی انجمن تاجران کی قیادت کے دستخط موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں گروپوں کی مرکزی قیادت کا تعلق ملتان سے ہے۔ سب سے اوپر مرکزی انجمن تاجران کے قائد خواجہ محمد شفیق اور تنظیم تاجراں کے چیئرمین خواجہ سلمان صدیقی کے دستخط ہیں۔ دونوں مقامی اور ملکی سطح پر تاجر سیاست میں ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں۔اب دونوں شخصیات متذکرہ معاہدے کا کریڈٹ خود لینے کی مہم شروع کر دیں گی۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا۔

خواجہ سلمان صدیقی گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے قریب تھے،جبکہ خواجہ شفیق مسلم لیگ(ن) کے طرف دار سمجھے جاتے تھے۔ حالیہ ہڑتال میں ملتان شہر کی تقریباً سبھی مارکیٹیں بند رہیں، البتہ صدر بازار(کینٹ) کھلا رہا۔ اس کی انجمن تاجران کے صدر چودھری محمود تحریک انصاف سے وابستہ ہیں اور خواجہ سلمان صدیقی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ کہا گیا کہ پی ٹی آئی سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے کینٹ میں ہڑتال نہیں ہونے دی۔ اب اگر باہمی اختلافات جاری رہے تو تاخیر تحریک مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے محروم رہ سکتی ہے۔ پھر پتہ نہیں مارچ اور دھرنا ہو نہ ہو، اس طرح کا پریشر بنے نہ بنے۔ اس لئے تاجر رہنماؤں کو دیرپا اتفاق و اتحاد کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی منزل کی جدوجہد کرنا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم