ہینڈ گرینڈ‘ نفرت آمیز پمفلٹ‘ کالعدم تنظیم کا چندہ رسید بک برآمد ہونے کے مقدمہ میں ملوث ملزمان کابیان ریکارڈ

  ہینڈ گرینڈ‘ نفرت آمیز پمفلٹ‘ کالعدم تنظیم کا چندہ رسید بک برآمد ہونے کے ...

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی) انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک ملتان نے ہینڈ گرنیڈ، نفرت آمیز پمفلٹ اور کالعدم تنظیم کی چندہ رسید بک برآمد ہونے کے مقدمہ میں ملوث تین ملزمان کے زیر دفعہ 342 بیان ریکارڈ کرتے(بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

ہوئے ہوئے مزید بحث کے لیے سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔فاضل عدالت میں ملزمان عبدالباسط، ناصر جاوید اور غلام حسین کے خلاف سی ٹی ڈی کے پیش کیے گئے استغاثہ کے مطابق 9 جون2019 کو کارپورل اسد امانت علی کو اطلاع ملی کے تین افراد جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے اور ان کے پاس ہینڈگرنیڈ، پمفلیٹ اور کالعدم تنظیم کے لئے رقم اکٹھا کرنے والی رسید بک ہے وہ کھیڑا چوک پر موجود ہیں اگر وقت پر ریڈ کیا جائے تو ملزمان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ جس پر ریڈ کرکے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز ملزم عبدالباسط کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ چار سال سے سعودی عرب میں مقیم تھا اور اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے لیے 17 اپریل 2019 کو پاکستان واپس آیا اور 24 مئی کو سی ٹی ڈی نے اسے اٹھا لیا اور اسے غیر قانونی حراست میں رکھا دوسرے دونوں ملزمان کو قطعاً نہیں جانتا۔ انہیں اس نے عدالت میں ہی دیکھا ہے۔دوسرے ملزم ناصر جاوید نے موقف اپنایا کہ اسے گڑھ مہاراجہ سے گرفتار کیا گیا بعد ازاں سی ٹی ڈی ملتان کے حوالے کردیا اس کے بھائی نے 24 مئی کو ڈی پی او جنگ کو درخواست دی کہ سی آئی اے کے ملازم اس کے بھائی کو اٹھا کر لے گئے ہیں، مزید بتایا کہ وہ ان پڑھ ہے اور دستخط نہیں کر سکتا جبکہ اس پر لگایا گیا الزام میں چندہ رسید بک پر دستخط کرنا بھی شامل ہے جبکہ الزام غلط ہے اور وہ کیسے دستخط کرسکتا ہے۔ تیسرے ملزم غلام حسین نے موقف اپنایا کہ 24 مئی کو احمد پور سیال سے اٹھایا گیا 31 مئی کو ڈی پی او جنگ کو اغوا کی درخواست دی گئی تھی۔ بعدازاں جھنگ پولیس نے سی ٹی ڈی ملتان کے حوالے کردیا اور ریمانڈ کے دوران اس نے دوسرے ملزموں کو دیکھا ہے۔

بیان ریکارڈ

مزید : ملتان صفحہ آخر