معاشی ترقی کے لیے مثبت رویوں کی ضرورت

معاشی ترقی کے لیے مثبت رویوں کی ضرورت
معاشی ترقی کے لیے مثبت رویوں کی ضرورت

  



وطن عزیز کی معاشی تاریخ کے نشیب و فراز پر اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے تو ایک نکتے پر نگاہ ٹھہر جاتی ہے کہ معاشی ترقی کو بار بار بریک لگنے کی بڑی وجہ طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ یا پھر ہر قیمت پر اقتدار لینے کی خواہش ہے۔ بانیء پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی مدبرانہ اور جرات مندانہ قیادت میں پاکستان بن گیا۔ کاروباری طبقے نے وسائل کی کمیابی،بلکہ فقدان کے باوجود سخت محنت کو شعار بنایا،صنعت لگائی اور منڈیوں کی رونق بڑھائی، دوسری جانب اہل سیاست کی باہمی لڑائی، حصول اقتدار کے لیے رسہ کشی اور موثر قوتوں کی دخل اندازی سے معاشی پیش رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوتی چلی آ رہی ہیں،اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ خلفشار کی صورت میں جب سرمایہ کاری رک جاتی ہے، کاروباری سرگرمیوں پر جمود طاری ہو جاتا ہے تو بے روزگاری کا بڑھنا فطرتی امر ہے۔

ملک کی پچھلی معاشی ابتری سے قطع نظر موجودہ حالات کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 2013 ء کے الیکشن سے قبل عمران خاں کی پیدا کردہ افراتفری، اسلام آباد پر چڑھائی اور طویل دورانیہ کے کنٹینر دھرنے کے دوران سرکاری املاک پر حملے کے باوجود میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھا، قیادت پر مقدمہ درج کرایا اور نہ ہی نیب کے ذریعے کسی کو پابند سلاسل کرایا۔اس کے بر عکس عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف،شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اورموجود ہ اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبار شریف، عمران خاں کی لاہور میں چھوڑی ہوئی سیٹ پر کامیاب خواجہ سعد رفیق،ان کے بھائی سلمان رفیق اور رانا ثناء اللہ سمیت تمام اہم رہنماؤں پر مقدمات کی بھرمار کرنے اور انہیں پابند سلاسل کرنے میں دن رات ایک کر دیا۔

پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا، امریکہ کے دورے کے دوران تقریر کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ پاکستان واپس جا کر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جیل میں حاصل تمام سہولتیں واپس لوں گا۔صرف اعلان نہیں کیا، بلکہ واپس آتے ہی میاں محمد نواز شریف کے لیے گھر سے پرہیزی کھانا منگوانا بند کر ا دیا اور انہیں جیل کا کھانا کھانے پر مجبو ر کیا۔اہل خانہ، پارٹی رہنماؤں اور ذاتی معالج سے ملاقاتوں کا شیڈول کم از کم کر ا دیا۔ مریم نواز کو جیل میں چار پائی کیا ڈھنگ کی چٹائی بھی فراہم نہیں کی گئی۔ انہی حالات کا نتیجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کے جسم میں متعدد بیماریاں پیدا ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بیماریوں کی حتمی تشخیص پوری طرح نہیں ہو رہی۔ہر نیا حکمران ملک کی معاشی ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کے پروگراموں میں سابقہ حکمرانوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔بد قسمتی سے عمران خاں نے لگ بھگ سوا سال کے دوران ساری صلاحیتیں اور وقت میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی اور جماعت کے دیگر رہنماؤں کو سزاؤں کا مستوجب قرار دینے اور جیلوں میں بھجوانے پر صرف کیا ہے۔ ملکی اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے کسی میگا پراجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا۔ ڈالر بے انتہا مہنگا ہو گیا، لیکن موجودہ حکومت اسے قابو کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں ان کے دور میں چار بار اضافہ ہو ا۔

انتہائی اونچے ٹیرف کی وجہ سے صنعتوں کا چلنا محال و مشکل ہو گیا،مگر حکومت بے بس ہے۔ روٹی سبزی سمیت کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ عوام کی بد حالی کے ساتھ ساتھ عمران خان نے اہم وزارتوں سے اپنے پسندیدہ ایم این ایز کو ہٹا کر آئی ایم ایف کے پسندیدیدہ ماہرین کو تعینات کر دیا ہے۔ ایسے ماہرین کی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی حالات بہترہونے کی بجائے کاروباری طبقے کی محرومیوں میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے۔کسی نے نہیں بتایا کہ تعینات کردہ معاشی ماہرین کی پالیسیوں اور کاوشوں سے متعلقہ ملکوں میں صنعتکاری کو فروغ ملا تھا۔ اچھا ہوتا کہ عمران خاں اپنی تعریف و توصیف کے مرکز اسد عمر کو وزیر خزانہ رہنے دیتے۔ یہ ضرور ہوتا کہ منتخب ہونے کے ناطے انہیں احساس ہوتا کہ انہوں نے دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے۔ بیرونی ماہرین کی پیدا کردہ مشکلات کی وجہ سے کاروباری طبقے کے ذمہ داران کو آرمی چیف سے ملاقات اور انہیں اپنی مشکلات سے آگا ہ کرنا پڑا۔ بات وعدوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کے ماہرین آئی ایم ایف کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں بنانے میں مصروف رہتے ہیں، تنگ آ کر کاروباری طبقے نے ایک بار پھر احتجاج و ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔

ان حالات میں بہتر ہوگا کہ معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت بیرونی ماہرین اور ان کی کاروبار دشمن سوچ کو خدا حافظ کہے اور ملکی ماہرین کی پاکستانی سوچ سے استفادہ کرے۔کاروباری طبقہ نہایت محب وطن ہے، اس لیے اس کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے برادرانہ طرز فکر و عمل اپنایا جائے۔خوشدلانہ ماحول میں کاروبار چلیں گے تو کاروباری طبقہ جائز ٹیکس دینے میں کسی طور پیچھے نہیں رہے گا۔

مزید : رائے /کالم