نامور مصنف جوزف غوری کے ناول ”ہم  گمشدہ لوگ“ کی تقریب رونمائی کا انعقاد 

نامور مصنف جوزف غوری کے ناول ”ہم  گمشدہ لوگ“ کی تقریب رونمائی کا انعقاد 

  



وہاڑی(بیورورپورٹ+ نمائندہ خصوصی) ملک کے نامورمصنف جوزف غوری نے کہا ہے کہ ان کاناول؛؛ہم گمشدہ لوگ؛؛ان پاکستانیوں کے حالات پرمشتمل ہے جواپنے وطن کوچھوڑکر(بقیہ نمبر21صفحہ12پر)

بیرون ملک جابستے ہیں پھران کوجن مشکلات اور پریشانیوں کاسامناکرنا پڑتاہے اس صورتحال میں نہ وہ دیارغیرمیں رہ سکتے ہیں اورنہ ہی واپس وطن آسکتے ہیں وہ گزشتہ روزمقامی ہال میں اپنے ناول؛؛ہم گمشدہ لوگ؛؛کی تقریب رونمائی کے موقع پرشرکاء سے خطاب کررہے تھے۔تقریب میں ناموربزرگ ماہرتعلیم سوسن جیمزجوزف،نامورشاعرہ وادیبہ ثبینہ رفعت،فادرجارج مارٹن،جانسن گل،جیری جوزف،سٹیلاغوری کے علاوہ ادیب وشاعربھی موجودتھے۔ ان کاکہنا تھاکہ ہم گمشدہ ناول کی بنیادجنوبی ایشیا کے وہ لوگ ہیں جو اپنااوراپنے خاندان کامعیار زندگی  بلند کرنے کیلئے قانونی اورغیر قانونی طریقوں سے یورپ کی طرف ہجرت کرتے ہیں اوروہاں کیماحول میں گم ہو جاتے ہیں نہ وہاں کی تہذیب و ثقافت?کواپناناچاہتے ہیں اورنہ ہی اپنی ثقافت کو چھوڑناچاہتے ہیں اپنے بچوں کوتعلیم کے حصول کیلئے وہاں کے سکول وکالج میں داخل توکراتے ہیں لیکن ان کی تعلیم وتربیت مشرقی طرزپرکرنا چاہتے ہیں اسی لئے وہاں کی روز مرہ زندگی سے دور رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔اپنے ممالک میں آکریورپ کی انسانی آزادی کو بڑھ?چڑھ کربیان کرتے ہیں یہاں تک کہ یورپ کے امن وسکون کوغلط اندازمیں بیان کرتے ہیں ان کاکہناتھاکہ تارکین وطن خودتویورپ کی مقامی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں  کرتے جس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ ان کی دوسری اور تیسری نسل کاکلچرتبدیل ہوجاتاہے۔اس کے باوجود تارکین وطن مذہبی لحاظ سے اپنی تمام رسومات وراویات کی پابندی بھی کرتے?ہیں برصغیر کے لوگ جوہجرت کرکے یہاں آجاتے ہیں پھر وہ اپنے ممالک سے رابطہ میں تورہتے ہیں مگر واپس اپنے ملک?مستقل طورپرجانانہیں چاہتے اس ناول میں سب کچھ ضبط تحریرمیں لایاگیاہے اس کے علاوہ اس ناول میں برصغیرکی تاریخ، رومانس اورموجودہ صورت حال پربھی سیرحاصل گفتگوکی گئی ہے،کلچرل طورپر دوکشتیوں کے سوار بھی ہیں۔ ہم گمشدہ ناول کا موضوع ہجرت اور اجنبی ماحول میں خود کوضم کرنے کی کوشش ہے جس?میں وہ گم ہو کررہ جاتے ہیں۔اس ناول کے مطالعہ سے قارئین کویورپ اورمشرقی کلچرسمجھنے میں مددملے گی

ہم گمشدہ لوگ 

مزید : ملتان صفحہ آخر