42کروڑ 50لاکھ افراد زیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں ‘ مقررین

  42کروڑ 50لاکھ افراد زیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں ‘ مقررین

  



ملتان ‘ شجاع آباد ‘ مظفر گڑھ ‘ بہاولپور ‘ کوٹ ادو ‘ رحیم یار خان ( نیوز رپورٹر ‘ وقائع نگار ‘ نمائندگان پاکستان ) ذیابیطس سے آگاہی کا عالمی دن گزشتہ روز منایا گیا اس دن کی مناسبت سے شہریوں میں آگاہی کیلئے تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں تفصیل کے مطابق مختار اے شیخ ہسپتال میں عوام کو ذیابیطس سے آگاہی دینے کے لئے ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیاجو ہر سال پوری دنیا میں 14 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل ڈائبیٹس فیڈریشن کے مطابق د±نیا میں 42 کروڑ 50 لاکھ لوگ ذیابیطس کے عارضہ میں مبتلا ہیں۔ %50 ذیابیطس میں مبتلا لوگ ابھی تک تشخیص نہیں ہوئے۔ ہر گیارہ لوگوں میں سے ایک بالغ کو ذیابیطس(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

ہے۔ %8.4 خواتین اور %9.1 مرد حضرات کو ذیابیطس ہے۔ ذیابطیس کے عالمی دن کے موقع پر مختار اے شیخ ہسپتال میں مفت ذیابیطس اسکریننگ ٹیسٹ کیمپ لگایا گیا۔ عوام کی آگاہی کے لئے آگاہی سیشن کا انعقاد کیاگیا جس میں ڈاکٹر بلال افضل(ڈائیبٹولوجسٹ، مختار اے شیخ ہسپتال) نے حاضرین کو ذیابیطس، اس کی وجوہات، اقسام اور بچاو¿ کے متعلق بتایا اور ڈاکٹر عدیل انور بیگ (سائیکاٹرسٹ، سپرنگ کلینک) نے مریضوں کے والدین کو بتایا کہ کس طرح وہ اپنے ذیابیطس میں مبتلا بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ ذیابیطس سے آگاہی کے لئے ”ذیابیطس آگاہی واک“ کی گئی جس میں ہسپتال کا عملہ، مریض اور ان کی فیملی نے پورے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان کے زیر اہتما م شوگر کی بیماری کے عا لمی دن کے موقع پر سی ای او آفس میں شوگر کی بیماری کے بارے میں ایک آ گاہی سیمینار منعقد ہوا یے۔ جس میں محکمہ صحت کے تمام سٹاف ڈبلیو ایچ او /یونیسیف کے نمائندوں اورکمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی. سیمینار میں ڈاکٹر ظفر عباس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے شوگر کی بیماری سے بچاو کے لئے حفاظتی تدابیر اور علا ج کے بارے میں شرکاءکو آگاہی فراہم کی . ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر عابد حسین شوگر کی بیماری کے علاوہ ای پی آئی اور پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے بھی آگاہی دی. سیمینار کے بعد ایک واک کا اہتمام بھی کیا گیا. جس کی قیا دت ڈاکٹر ظفر عباس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (پریوینٹو سر وسز)ملتان نے کی.واک میں ڈاکٹر عابد حسین ایریا کوآرڈینیٹر عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے نمائندے عاصم بھٹہ نے بھی شرکت کی. واک سی ای او ھیلتھ آفس سے شروع ھو کر کچہری چوک کے قریب اختتام پزیر ہوئی. اس کے علاوہ ڈسٹر کٹ ہیلتھ آتھارٹی ملتان کے DHQ ,THQs. اور با قی تمام ہیلتھ فیسیلیٹیز پر بھی اسی قسم کے آگاہی سیمینار اور واکس کا انتظام کیا گیا۔ ورلڈ شوگر ڈے گذشتہ روز(14 نومبر،جمعرات)منایا گیا۔اس مرض کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے کے لیے تقریبات منعقد ہوئیں۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے شعبہ اینڈوکرائنالوجی و شوگر کے زیر اہتمام آگہی سیمینار منعقد ہوا۔جس سے خطاب کرتے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے کہا کہ اس وقت دنیا میں 30 کروڑ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں۔پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑ سے زائد ہے۔شوگر کو بیماریوں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔سادہ خوراک،سبزیوں کا استعمال،چہل قدمی اور ورزش کے ذریعے اس مرض سے بچنا ممکن ہے۔ علاوہ ازیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال شجاع آباد میں ذیابطیس کا عالمی دن منایا گیا۔ جس کے تحت ہسپتال میں ذیابطیس سے آگاہی کےلئے سیمینار اور واک کا اہتمام کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انچارج نان کمیونیکل ڈیزیز ڈاکٹر ندیم حیدر اور ڈاکٹر راشد اسلم نے ذیابطیس کی وجوہات، علامات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بار بار بھوک کا لگنا، پیشاب کا زیادہ آنا، وزن میں غیر متوقع کمی، ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہونا چیدہ چیدہ علامات ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان نے مزید کہا کہ اس بیماری سے احتیاطی تدابیر اپنے وزن کو کنٹرول کرنا، متوازن غذا کا استعمال، روزانہ سیر اور ورزش اور باقاعدگی سے شوگر کا ٹیسٹ کروانا شامل ہیں اپناتے ہوئے اس خاموش قاتل سے بچا جا سکتا ہے۔ سیمینار سے مزید خطاب کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید اقبال، اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احمد خلیل خان نے کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق اسپتال میں شوگر کی سکریننگ اور علاج کی سہولیات مفت دستیاب ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر واک کا اہتمام کیا گیا جس میں ایڈمن آفیسر راو¿ جنید اقبال سمیت ڈاکٹرز، نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دریں اثنا ماہر امراض ذیابیطیس سوشل سیکیورٹی ہسپتال مظفرگڑھ ڈاکٹر قاضی طارق عزیزنے کہا ہے کہ ذیابیطیس سے بچاﺅ اور اس کا علاج زیاد ہ سے زیادہ چہل قدمی ہے ، چہل قدمی سے کھانا جسم میں کم شوگر بناتا ہے اور ہضم ہوجاتا ہے ، ذیابیطیس کے مریضوں کا 50فی صد علاج چہل قدمی سے ہوجاتا ہے یہ بات انہوںنے ذیابیطیس کے عالمی دن کے موقع پر عوام میں شوگر سے بچاﺅ اور علاج کا شعور اجاگر کرنے کے لئے کی جانے والی واک سے خطاب کرتے ہوئے کہی، واک میںایم ایس ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر قاری غلام حسین، ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر جنید ، روف سمیت ہسپتال کے ڈاکٹر ز، لیڈی ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے شرکت کی، ڈاکٹر قاضی طارق عزیز نے بتایا کہ شوگر کی علامات میں رات کو زیادہ پیشاب ا ٓنا، وزن میں کمی، پیاس کی زیادہ لگنا، تھکاوٹ اور بے چینی شامل ہیں، اس سے بچاﺅ کےلئے کھانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے بھوک رکھ کر کھانا کھائیں، وقفے وقفے سے کھانا کھائیں، زیادہ سے زیادہ چہل قدمی کریں ، شوگر کے مریض ادویات کا استعمال باقاعدگی سے کریں ، جلد سے جلد انسولین کا استعمال شروع کریں، اس موقع ایم ایس ڈاکٹر جاوید حسن نے بتایا کہ پاکستان میں ہر چوتھا فرد شوگر کا مریض ہے اگر اس پر کنٹرول نہ کیا گیا تو 2030میں آدھی آبادی شوگر کی مریض بن سکتی ہے، انہوں نے بتایا کہ عوام میں شوگر سے بچاﺅ کےلئے زیادہ سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے حکومتی سطح پر اور کمیونٹی کی سطح پر عوام میں شعوربیدار کیا جائے کہ چہل قدمی کا اپنا معمول بنائیں تاکہ شوگر کے مرض سے بچا جا سکے جبکہ عالمی ےوم ذےابےطس کے موقع پر عوام کے شعور و آگاہی کے لےے ڈسٹرکٹ ہےلتھ آفےسر ڈاکٹر تنوےر حسےن شاہ نے بتاےا کہ شوگر کا مرض تےزی سے پھےل رہا ہے جس کو طرز زندگی مےں تبدےلی اور اس مرض سے متعلق مختلف پےچےدگےوں پر مستند معالج کی ہداےات و ادوےات کے ذرےعے کنٹرول کےا جاسکتا ہے۔ شوگر کے مرےض غذا مےں احتےاط اور باقاعدگی سے ورزش کر کے مرض کو کنٹرول کرسکتے ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ شوگر کے مرض سے متعلقہ پےچےدگےوں کے لےے مستند معالج سے رابطہ بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ دنےا بھر مےں شوگر کے مرےضوں مےں سے ہر دو مےں سے اےک مرےض اس مرض سے لاعلم ہے ۔ اس لےے شوگر سے متعلق پےچےدگےاں بڑھ جاتی ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ اس مرض کے حوالے سے عوام مےںشعور وآگاہی بے حد ضروری ہے۔ تاکہ خود کو اور اپنی فےملی کو محفوظ بناےا جاسکے۔ ڈاکٹر تنوےر حسےن شاہ نے عالمی دن کے موقع پرگھرانہ اور ذےابےطس کی اہمےت پر زور دےتے ہوئے بتاےا کہ ذےابےطس کی مےنجمنٹ ، احتےاط و کنٹرول کے لےے گھرانہ کا کردار نہاےت اہمےت کا حامل ہے۔ گھرانوں اور اس کے افراد کو اس مرض کی علامات اور پےچےدگےاں جاننی بے حد ضروری ہےں ۔ انہوں نے بتاےا کہ ذےابےطس ہونے کی صورت مےں اندھاپن، اعضاءکا ضائع ہو جانا، گردے خراب ہونا، دل کاد ورہ اور فالج قابل ذکر پےچےدگےاں ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ گھرانوں مےں احتےاط کی بدولت ان پےچےدگےوں مےں50فےصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ شوگر کے مرےضوں کو باقاعدگی سے اپنا چےک اپ کروانا چاہئے اور خون مےںشوگر کی مقدار اوربلند فشار خون کی مانےٹرنگ بے حد ضروری ہے۔ ذےابےطس کی عام علامات مےں پےشاب کا زےادہ آنا، پےاس لگنا، بھوک کا زےادہ لگنا، تھکاوٹ کا زےادہ محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے دھندلا پن، زخم کا دےر سے بھرناو ٹھےک ہونا، وزن کا کم ہونا، ہاتھ اور پا¶ں مےں درد ،بے حسی محسوس کرنا شامل ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ اےسے افراد جو بتائی گئی علامات رکھتے ہوں ، اےسے افراد کو فوراً اپنا شوگر کا ٹےسٹ کروائےں ۔ انہوں نے بتاےا کہ بےماری سے متعلق بروقت علاج اور جاننا بہت اہم ہوتا ہے۔ جبکہ ذیابطس کے عالمی دن کے موقع پر ہیومن ڈوپلمنٹ فاونڈیشن کے زیر اہتمام اور رحیم یارخان ویمن فورم کے اشتراک سے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا کمیونٹی سنٹر چک 121ون ایل میں منعقد کیے جانے والے اس کیمپ میں شیخ زید ہسپتال کے ماہر امراض ذیابطس وپاکستان انڈوکراین سوسایٹی کے رکن ڈاکٹر محسن رضا نے مریضوں کا چیک اپ کیا اس موقع پر ایچ ڈی ایف کی زبیدہ، بی ایچ یو باغوبہار کے نیوٹریشن سپروایزرمحمد یونس ،یونیسیف کام نیٹ کے نمایندے غلام رضا، ایل ایچ وی سارہ رمضان کے علاوہ مریضوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر محسن رضا نے آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ذیابطس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے سادہ اور قدرتی اجزا سے بھر پور غذاوں کی بجاے کیمکل ملی غذاﺅں اورمشربات کے استعمال اور ورزش نہ کرنے سے نہ صرف ذیابطس کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ یہ مرض دیگر بیماریوں کا سبب بن رہا ہے لوگ ایسی مضر صحت خوراک کے استعمال میں فخر محسوس کرتے ہیں اس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ریلیاں

مزید : ملتان صفحہ آخر