رحمتہ للعالمین ﷺ

رحمتہ للعالمین ﷺ

  



عام طور پر ہم خُلقْ کے سرسری تصور سے آشناء ہیں،محض خندہ پیشانی،خوش طبعی اور مسکراہٹ سے مل لینے کو اخلاق گردانتنے ہیں۔خُلقْ کے معنی ومراد اپنے ذیل میں بڑی وسعت رکھتے ہیں۔”خُلقْ نفس کی اس راسخ کیفیت کا نام ہے جس کے باعث اعمال بڑی سہولت اور آسانی سے صادر ہوتے ہیں اوران کو عملی جا مہ پہنانے میں کسی سوچ وبچار اورتکلف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یعنی وہ اعمال جو کسی سے اتفاقاً سرزد ہوتے ہیں یاکسی وقتی جذبہ اور عارضی جوش سے صادر ہوئے ہوں، خواہ کتنے ہی اعلیٰ وعمدہ ہوں انہیں خُلقْ نہیں کہا جائے گا۔خُلقْ کا اطلاق ان خصائل حمیدہ اور عادات مبارکہ پر ہوگاجوپختہ ہوں اورجن کی جڑیں قلب وروح میں بہت گہری ہوں۔ایسی محمود عادتیں فطری اور وہبی بھی ہوسکتی ہیں اور مسلسل تربیت،اکتساب اور صحبت صالحین کا نتیجہ بھی۔لیکن یہ ضروری ہے کہ انسان کی سرشت میں اس طرح رچ بس گئی ہوں جیسے پھول میں خوشبواور آفتاب میں روشنی۔ انسان بخل وکنجوسی سے پرہیز کرے جھوٹ نہ بولے دیگر برائیوں سے بچارہے۔لوگوں سے ایساکلام کرے اور ایسے کام کرے جو پسندیدہ ہوں کشادہ روئی کے ساتھ سخاوت کرے۔ اپنوں بیگانوں سے خندہ پیشانی سے ملے۔تمام معاملا ت میں لوگوں کی سہولت پیشِ نظر رکھے سب سے درگزر کرے اور ہر مصیبت پر صبر کرے۔اللہ نے اپنے محبو بﷺ کے خُلقْ کے بارے میں فرمایا۔”اور بے شک آپ عظیم الشان خُلقْ کے مالک ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالیہ میں دستِ دعا درازکرتے سوال کرتے ہیں۔اے اللہ جس طرح تو نے میر ی ظاہری شکل وشباہت کو حسین ودلنواز بنایا اسی طرح میرے خُلقْ کو بھی حسین وجمیل بنادے۔ فرمایا”اے اللہ میر ے اخلاق کو دلکش وزیبا بنادے کیونکہ خوبصورت اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی فرماتا ہے۔“۔سفرہجرت کے درورانِ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک صحرانشین خاتون ام معبد کے خیمے کے پاس سے ہوا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کا غلام عامر بن فہیرہ آپ کے ہمراہ تھے۔ام معبد سے پوچھا گیا کہ اگر اس کے پاس کچھ دودھ یا گوشت ہوتو ہم اسے خرید ناچاہیں گے۔اس نے کہا اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں بصدمسرت آپ کی میزبانی کرتی۔ لیکن قحط سالی کی وجہ سے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔خیمے کے کونے میں ایک مریل سی بکری کھڑی تھی۔حضوراکرمﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا۔اس نے کہا یہ کمزوری کی وجہ سے چرنے کے لئے نہیں جاسکتی۔آپ ﷺنے فرمایا اگر اجازت دو تو ہم اس کا دودھ دوھ لیں اس نے کہا اگر اس میں سے کچھ دودھ نکل سکتا ہے تو بصد شوق لے لیجئے حضور اکرمﷺ نے اللہ کا نام لے کر اپنا دستِ معجزہ نما اس کے تھنوں پر پھیرا اس کی خشک کھیری سے اتنا دودھ نکلا کہ سب نے سیر ہوکر پیا۔دوبارہ دوھا گیا تو گھر کے سارے برتن بھرگئے۔ آپ نے شکر یہ ادا کیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔شام کو اس کا خاوند کام کاج سے فارغ ہوکر واپس آیا تو گھر میں دودھ کی یہ فراوانی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے استفسار پر ام معبد نے کہا ایک بابرکت ہستی یہاں تشریف لائی تھی۔ یہ سب اسی کا فیضان ہے۔

اس کاخاوند بولا: مجھے تو یہ محسوس ہورہا ہے کہ یہ وہی ہیں جن کی تلاش میں قریش سرگرداں ہیں مجھے ذرا ان کا حلیہ تو بتاؤ، اس پر ام معبد نے آنحضورﷺکے سراپا کا انتہائی دلکش انداز میں نقشہ کھینچا۔”ام معبدکہنے لگی:”میں نے ایک ایسا مرد دیکھا جس کا حسن نمایاں تھا جس کی ساخت بڑی خوبصورت اور چہرہ ملیح تھا۔ نہ رنگت کی زیادہ سفیدی اس کو معیوب بنارہی تھی اور نہ گردن اور سر کا پتلا ہونا اس میں نقص پیدا کر رہا تھا۔ بڑاحسین،بہت خوبرو۔آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں پلکیں لابنی تھیں،اس کی آواز گونج دار تھی،سیاہ چشم،سرمگین،دونوں ابر وباریک اور ملے ہوئے،گردن چمکدار تھی، ریش مبارک گھنی تھی،جب وہ خاموش ہوتے تو پروقار ہوتے،جب گفتگو فرماتے تو چہرہ پر نور اور بارونق ہوتا، شیریں گفتار،گفتگو واضح ہوتی۔نہ بے فائدہ ہوتی، نہ بیہودہ،گفتگو گویا موتیوں کی لڑی ہے جس سے موتی جھڑرہے ہوتے۔دور سے دیکھنے پر سب سے زیادہ بارعب اور جمیل نظر آتیاور قریب سے سب سے زیادہ شیریں اور حسین دکھائی دیتے۔قددرمیانہ تھا، نہ اتنا طویل کہ آنکھوں کو برا لگے،نہ اتنا پست کہ آنکھیں حقیر سمجھنے لگیں،آپ دوشاخوں کے درمیان ایک شاخ کی مانند تھے جو سب سے سرسبز وشاداب اور قد آورہو۔ان کے ایسے ساتھی تھے جو ان کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ اگر آپ انہیں کچھ کہتے تو فوراً اسکی تعمیل کرتے۔اگر آپ انہیں حکم دیتے تو وہ فوراً اس کو بجالاتے۔ سب کے مخدوم،سب کے محترم۔نہ وہ ترش رو تھے، نہ ان کے فرمان کی مخالفت کی جاتی تھی۔“اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب دلنوازحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا پاکیزہ اجلااور بے داغ کردار عطاکیا کہ کسی بڑے سے بڑے دشمن کو بھی کبھی اس پر انگلی اٹھا نے کی جسارت نہ ہوسکی۔

آپ ﷺاپنی ولادت کے روز اوّل ہی سے حفاظتِ الہیٰہ میں تھے،قدرت نے اس درِ یتیم کی خود نگہ داشت فرمائی۔آپ نے اس وقت کے نہایت ہی آلودہ ماحول میں ایک معصوم بچپن اور پاکیزہ ترین جوانی بسر کی اور اس وقت عزیز میں آپ نے ایک بھر پور عائلی اور سماجی زندگی بسرفرمائی بہت سے اجتماعی معاملات میں حصہ لیا،تجارتی مقاصد کے لئے سفر بھی کیے۔ لوگوں نے آپ ﷺ کی امانت، دیانت، صداقت اور صدقِ معاملات کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور مرّوج کردار وعمل کی کسوٹی پر پرکھا بھی۔قیس بن سائب کو آپ ﷺکے ساتھ بہت سے کاروباری معاملات میں شریک ہونے کا موقع ملا۔وہ آپ ﷺکے بارے میں شہادت دیتے ہیں۔میں نے کاروبارمیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے بہتر کوئی اور ساتھی نہیں پایا۔اگر ہم ان کا سامان لے جاتے تو واپسی پر وہ ہمارا استقبال کرتے۔ہماری خیروعافیت پوچھتے اور گھر چلے جاتے اور بعدمیں حساب کتاب دینے کے معاملے پر قطعاً کوئی تکرار یا کسی قسم کی کوئی حجت نہ کرتے۔ حالانکہ دوسرے لوگ سب سے پہلی بات صرف اپنے مال کی کیفیت کے متعلق پوچھتے تھے۔اس کے برخلاف اگر آپﷺ خود ہمارا سامان لے کر جاتے تو واپسی پر جب تک پائی پائی بے باک نہ کرلیتے، کبھی اپنے کاشانہ اقدس کی طرف نہ تشریف نہ لے جاتے۔اپنے ان خصائل حمیدہ کی بنا پر وہ ہمارے درمیان الامین کے لقب سے معروف ہوگئے۔جب کعبہ مقدّسہ کی تعمیر نو ہوئی اور حجراسود کی تنصیب کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ طے یہ ہوا کہ جو بھی شخص سب سے پہلے حرم میں آئے اسے ثالث مان لیا جائے،اچانک آپﷺ تشریف لے آئے آپ ﷺکو دیکھ کر سب لوگ بے ساختہ پکار اٹھے۔”یہ تو امین آرہا ہے۔ہم اس پر راضی ہیں۔یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ہے ہم اس کے فیصلے پر رضا مند ہیں۔اسی طرح جنگ بدر کے موقع پر ایک مشرک نے ابو جہل سے تنہائی میں سوال کیا۔”یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے،مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو سچا کہتے ہیں یا جھوٹا،ابوجہل نے جواب میں کہا۔خدا کی قسم محمدؐ ایک سچے انسان ہیں۔انھوں نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا،مگر تم ذرا دیکھو تو سہی کہ جب سقایت،حجابت اور نبوت سب کچھ بنوہاشم ہی کے حصے میں آجائے تو تم ہی بتاؤ باقی سارے قریش کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔آپ ﷺکے کردار کے بارے میں قرآن نے کس اعتماد سے اعلان عام کیا(اے محبوب آپ ان سے پوچھیے)میں (یہ دعوت پیش کرنے سے پہلے)تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں (کیا تمہیں کبھی اس میں کوئی نقص نظر آیا؟)

مزید : ایڈیشن 1