معذوروں اور ضعیفوں کے حقوق

معذوروں اور ضعیفوں کے حقوق

  



تحریر: جناب مولانا حافظ کلیم اللہ

مذاہب عالم اور ادیان مختلفہ وکتب سماویہ میں خواہ معذوروں اور اپاہجوں کے الفاظ نہ ملیں لیکن ان کی تعلیمات میں سائلین‘ محرومین‘ مستضعفین وغیرہ کے الفاظ اور ان کے حقوق کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان مرحومین کی فلاح وبہبود اور دیکھ بھال کرنے اور ان کے ساتھ رعایت کرنے کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔ کتب سماویہ یعنی تورات وانجیل میں ان معذوروں کی فلاح وبہبود سے متعلق تعلیمات موجود ہیں۔ سیدنا عیسیٰ کا حکم الٰہی سے اندھوں کو بینائی بخشنا اور کوڑھ کے مریضوں کو شفایاب کرنا ان کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے۔ یہ سلسلہ محمد رسول اللہ کی شریعت تک پہنچا‘ یہاں تک کہ قرآن کریم میں ان بے کسوں سے متعلق مختلف احکامات نازل ہوئے‘ کسی کی عزت ووقار کے مرتبے کا تعین سماجی یا معاشرتی حیثیت کو دیکھ کر نہ کیا جائے بلکہ اس کے لیے ذاتی کردار‘ تقویٰ‘ اصلاح طلبی اور نیکی کے جذبے کو معیار بنایا جائے۔ جسمانی کمزوری کی وجہ سے کسی کی عزت اور توقیر میں کوئی فرق ہرگز آنے نہ دیا جائے۔

دین اسلام میں خصوصاً ضعیفوں اور بزرگوں کی خدمت‘ ان کا احترام اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کو عبادات میں شمار کیا گیا ہے‘ خود نبی کریم کی عملی زندگی ایک نمونہ ہے۔ آپ نے ضعیفوں‘ بوڑھوں اور معذوروں کے ساتھ حسن سلوک کیا۔ یتیموں اور بے کسوں کو سہارا دیا۔ غریبوں کے ساتھ مشفقانہ برتا¶ کیا۔ معذوروں اور اپاہجوں کو جینا سکھایا۔ خود داری کا درس دیا۔ بھیک مانگنے کے مقابلہ میں عزت کی زندگی کا سلیقہ سکھایا۔ ان ضعیفوں کی تعظیم وتکریم کا سبق دیا۔ ارشاد نبوی ہے: ”اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کا تقاضا ہے کہ بوڑھے (سفید بال والے) مسلمان کی عزت کی جائے۔“ (ابوداود)

نبی کریم نے خصوصاً ضعیفوں اور ناداروں کے ساتھ حد درجہ کریمانہ اور فاضلانہ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ اصحاب صفہ جو کہ غریب صحابہ تھے ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا‘ اللہ کے نبی ان کے ساتھ پوری خیر خواہی فرماتے۔ ایک بار ایک صاحب کا گزر ہوا تو نبی کریم نے صحابہ سے سوال کیا کہ اس شخص کے متعلق آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو صحابہ کرام نے جواب دیا کہ یہ شخص اس لائق ہے کہ وہ پیغام نکاح دے تو قبول کیا جائے۔ اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات غور سے سنی جائے۔ تو نبی کریم خاموش ہو گئے۔ اتنے میں ایک کم حیثیت کے مالک شخص کا گزر ہوا تو نبی کریم نے اس شخص سے متعلق سوال کیا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ شخص اس لائق ہے کہ وہ پیغام نکاح دے تو قبول نہ کیا جائے۔ اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات غور سے نہ سنی جائے۔ تو نبی کریم نے فرمایا: ”ثانی الذکر روئے زمین کے سارے لوگوں سے بہتر ہے۔“ (بخاری)

نبی اکرم نے ضعیفوں اور بے کسوں کے ساتھ جو خیر خواہی اور خبر گیری کی‘ اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں‘ لیکن بطور مثال ایک کا تذکرہ ذیل میں دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے (اس عورت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی) روایت ہے کہ نبی کریم نے اس کے متعلق صحابہ کرام سے دریافت فرمایا تو صحابہ کرام نے جواب دیا کہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟“ گویا انہوں نے اس کے معاملہ¿ وفات کو معمولی خیال کیا۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر کا راستہ بتا¶‘ انہوں نے آپ کو اس کی قبر کا راستہ بتا دیا۔ آپ نے وہاں جا کر قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری ومسلم)

مذکورہ حدیث سے نبی کریم کی غریبوں سے محبت کا ثبوت ملتا ہے۔ نیز نبی کریم کو اپنے صحابہ کرام مرد وعورت دونوں سے کس قدر تعلق اور لگا¶ تھا اس پر یہ حدیث اہم دلیل ہے۔

ضعیفوں میں سے غلام بھی قابل ذکر ہے۔ اسلام سے قبل غلامی کا بدترین دور تھا۔ انسان جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ اسے کوئی حق حاصل نہیں تھا‘ نہ مالی‘ نہ دینی‘ نہ سیاسی اور نہ معاشرتی کوئی حق میسر نہ تھا۔ مالک کے رحم وکرم پر زندگی گزرتی تھی‘ نبوت وبعثت کے بعد نبی کریم نے ان غلاموں کی آزادی کی پوری کوشش فرمائی۔ بہت سارے معاملات میں ان کی آزادی کو کفارہ میں شامل فرمایا‘ جیسے ظہار اور قسم کا کفارہ وغیرہ۔ بلکہ انہیں آزاد کرنے کی فضیلت میں دوزخ سے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ صحابہ کرام نے بہت سے غلاموں کو آزاد کر کے جنت میں اپنے لیے جگہ بنا لی۔ جیسے سیدنا ابوبکر وسیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف] وغیرہم۔

اسلام کی نظر میں ضعفاءکی بڑی لمبی فہرست ہے۔ سرفہرست بوڑھے لوگ‘ بیمار‘ معصوم بچے‘ قیدی‘ مظلوم‘ یتیم‘ فقیر ومسکین‘ بیوہ‘ بے کس وبے سہارا لوگ لنگڑے‘ اندھے اور مجبور ومقہور لوگ وغیرہ بھی ضعیفوں کی فہرست میں داخل ہیں۔ ان سب کے ساتھ حسن سلوک کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور ان پر مہربانی کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ بلکہ ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کی صورت میں نصرت الٰہی اور رزق کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں روزی دی جاتی ہے ان ضعیفوں کی بدولت۔“

قرآن کریم میں معذور افراد کو زندگی کے عام معاملات اور میل جول میں نظر انداز کرنے کی روش کی سختی کے ساتھ مذمت کی‘ ہر انسان کو لائق عزت ووقار قرار دیا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن ام مکتومؓ نابینا صحابی جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سرداران مکہ سے محو گفتگو ہونے کی وجہ سے نابینا صحابی کی طرف متوجہ نہ ہو سکے تو اس پر سورہ¿ عبس کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔

نبی کریم اس واقعہ کے بعد سیدنا ابن مکتومؓ کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ جب بھی نبی کریم مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اس معذور صحابیؓ کو اپنا جانشین بنا کر جاتے۔ وہ آپ کی غیر موجودگی میں قوم کی امامت فرماتے۔ بینا صحابہ کرام ایک نابینا صحابی کی اقتداءمیں نمازیں ادا کرتے‘ الغرض معذور افراد کی دل شکنی کسی بھی صورت میں نہ ہوتی تھی بلکہ حوصلہ افزائی کے کلمات سے نوازے جاتے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ہے کہ بیوا¶ں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے‘ یا شب بیداری میں مصروف تہجد گزار یا دن میں روزہ رکھنے والے کے قائم مقام ہے۔ (بخاری)

معذور افراد کس طرح کی توجہ اور معاشرتی مقام کے حق دار ہیں اس کا اندازہ سیدنا عمر فاروقt کے طرز عمل سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک دفعہ سیدنا عمر t لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ ایک شخص کو دیکھا جو بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ اے بندہ¿ خدا! سیدھے ہاتھ سے کھا‘ اس نے کہا کہ وہ مشغول ہے‘ آپ آگے بڑھ گئے‘ وہ دوبارہ جب گزر ہوا تو پھر وہی فرمایا‘ اس نے وہی جواب دیا‘ پھر آپ تیسری بار گزرے تو اس کو اس پر ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ موتہ کی لڑائی میں میرا دایاں ہاتھ کٹ گیا تھا۔ یہ سن کر آپ بہت روئے‘ پھر اس کے قریب بیٹھ کر پوچھا کہ تمہارا کپڑا کون دھوتا ہے‘ تمہاری دیگر ضروریات کس طرح پوری ہوتی ہیں؟ تفصیلات معلوم ہونے پر آپ نے اس کے لیے ایک ملازم لگوا دیا۔ اسے ایک سواری دلوائی ور دیگر ضروریات زندگی بھی دلوائیں۔ لوگوں نے کہا کہ جزی اللہ عمر عن رعیة خیرا یعنی اللہ تعالیٰ عمر کو ان کی رعایا کی طرف سے بہتر بدلہ عنایت فرمائے۔ (کتاب الآثار‘ ابویوسف)

اسلام نے جہاں معذور افراد کو معاشرہ میں عدم توجہی سے محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کیے وہاں ان کی سوشل سکیورٹی کا بندوبست بھی کیا۔ قدرت نے انہیں کسی ایک صفت سے محروم کیا تو وہیں ان کی معاونت اور مدد کے لیے حقوق کی ادائیگی کا حکم بھی صادر کیا۔ جیسا کہ درج ذیل آیت سے معذور افراد کے ساتھ خصوصی عنایت اور توجہ برتنے اور ان کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے کے سلسلہ میں واضح ہدایات کی طرف نشان دہی کی گئی ہے۔ ان ضعیفوں کو فقر وفاقہ سے محفوظ رکھنے کی خاطر‘ در در کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ کر دیا اور اعلان فرما دیا:

”نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھا¶ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ما¶ں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچا¶ں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے مامو¶ں کے گھروں سے یا اپنی خالا¶ں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھا¶ یا جدا جدا۔“

یعنی معاشرہ میں اس طرح کے معذور افراد کو حقیر سمجھ کر غیر مہذبانہ انداز میں الگ تھلگ بٹھا کر کھانا دینا معیوب ہے‘ اسی وجہ سے اکٹھے کھانے کی ترغیب دی گئی ہے‘ نیز رشتہ داروں کے بعد جن کی کنجیاں ان کے حوالے کی گئیں وہاں سے بھی کھانے کی اجازت دی گئی۔ دوست واحباب کے گھر کو بھی رشتہ داروں کے گھروں سے تشبیہ دی گئی تا کہ یہ قربت بھی عظمت کی علامت رہے اور خصوصی افراد کے حقوق یہاں بھی محفوظ رہیں۔ جبکہ نزول قرآن کے وقت قریش اور سرداران مکہ معذور افراد کو منحوس اور قابل نفرت وملامت خیال کرتے تھے مگر اللہ نے ان کی تکریم کرتے ہوئے ان کے حقوق اور عزت نفس کا اعلان کیا‘ جاہلانہ رسموں کا قلع قمع کر دیا اور ان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے دائمی طور پر ان کے ساتھ حسن سلوک کو لازم وملزوم کر دیا‘ معاشرتی زندگی کے کسی بھی گوشہ میں انہیں تنہا نہ چھوڑا۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

اسلامی تاریخ میں ان ضعیفوں نے وہ کارنامے انجام دیے جن کے تصور سے آج کے دور کا صحت مند انسان حیران ہے۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن ام مکتوم کا نبی کریم کی غیر موجودگی میں آپ کی جانشینی کرنا وامامت کا فریضہ انجام دینا‘ جنگ قادسیہ میں اسلام کی سربلندی کے لیے حاضر ہونا وغیرہ۔ نیز سیدنا عمرو بن جموح جو کہ ایک لنگڑے تھے‘ اپنے لنگڑے پیر کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر شہادت کا درجہ حاصل کیا۔ (اسد الغابہ)

کم سن صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کی بڑی خدمتیں انجام دیں‘ انہی میں سے سیدنا زید بن ثابت بڑے مجتہد تھے۔ قرآن مجید کے حفاظ میں سے تھے۔ نبی کریم کے بعد جمع قرآن کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ سیدنا اسامہ بن زید ؓکم سنی میں ہی فوج کی قیادت کرنے لگے۔ سیدنا معاذ بن جبلؓ نے دعوت الی اللہ کی خاطر یمن کا رخ کیا۔ اہل یمن انہی کی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ مصعب بن عمیرؓ کی کوششوں سے مدینہ میں ا سلام پھیلنا شروع ہوا۔ حضرت العلامہ شیخ ابن بازؒ کی ذہانت فطانت‘ علمی ودعوتی اور سماجی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔ جبکہ یہ بھی نابینا تھا‘ امام حج شیخ عبدالعزیزبھی نابینا ہیں جو کہ مسلسل ۵۳ سال سے خطبہ¿ حج ارشاد فرما رہے ہیں۔ الغرض اسلام میں ان ضعیفوں اور کمزوروں کی بڑی اہمیت ہے‘ اسلام ان کے جذبات واحساسات کی قدر کرتا ہے‘ ان کی ہمت افزائی بھی کرتا ہے‘ کسی کو معمولی سمجھنے کو گناہ تصور کرتا ہے۔

اہل ایمان کی دولت میں ان ضعیفوں اور معذوروں کا بھی حق مسلم ہے۔ یہ حق مال زکوٰة سے الگ ہے۔ ان معذوروں کی ضروریات کی تکمیل صالح اولاد وصالح معاشرہ بلکہ حکومتوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ حالات کے اعتبار سے ان کی خاص خاص ضرورتوں میں سے مندرجہ ذیل چیزوں کا مہیا کرنا مثال کے طور پر کسی لنگڑے کے لیے بیساکھی کا انتظام‘ کسی کے لیے وہیل چیئر‘ مخصوص سائیکل‘ مو ٹر سائیکل‘ مصنوعی اعضاءکی پیوندکاری‘ ان معذوروں کی تعلیم وتربیت کا انتظام وانصرام‘ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز‘ لائبریریوں کا قیام‘ گونگوں بہروں کے لیے خصوصی تعلیم وتربیت‘ چھوٹی چھوٹی دکانوں کے افتتاح سے معاشی استحکام‘ صنعت وحرفت کے ذریعہ ان ضعیفوں کی معیشت کا دروازہ کھولنا تا کہ وہ کسی پر بوجھ نہ بن سکیں‘ بھیک نہ مانگیں۔ یہ تصور غلط ہے کہ ان کمزوروں کو صدقہ کا مال ہی کھلایا جائے‘ بلکہ ان ضرورتمندوں کو خود کفیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہیں معاشرہ میں خود دار بنایا جا سکتا ہے۔ غریبی کا خاتمہ ایسے بھی ممکن ہے کہ ان بے کسوں اور بے سہارا لوگوں کو سہارا دیا جائے۔ انہیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق زندگی کی اس دوڑ میں شامل کیا جائے۔ اسلام نے صاف اعلان کیا کہ کوئی کسی کو ہرگز حقیر نہ جانے۔ ارشاد نبوی ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اتنی برائی ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ (مسلم)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحت وسلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق بخشے اور معاشرہ کے کمزور طبقہ کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!

........bnb........

مزید : ایڈیشن 1